column and article

پردہ، غیرت اور ایک معصوم زندگی کا قتل

تحریر: صائمہ ملک میانوالی

میانوالی کی مٹی نے ہمیشہ ہمیں غیرت، عزت اور روایات کی پاسداری سکھائی ہے۔ یہاں کی عورت چاہے ماں ہو، بہن ہو، بیٹی ہو یا بیوی، اسے عزت و احترام دینا ہماری معاشرتی اقدار کا حصہ ہے۔

مگر جب اسی معاشرے میں ایک معصوم بچی کو محض پردہ نہ کرنے کے نام پر قتل کر دیا جائے تو دکھ صرف ایک گھر کا نہیں رہتا، پورا شہر سوگوار ہو جاتا ہے 

 میانوالی میں ایک کم عمر بچی کو اس کے اپنے رشتہ دار نے مبینہ طور پر حجاب نہ کرنے پر گولی مار کر قتل کر دیا۔ یہ محض ایک قتل نہیں، بلکہ ہماری سوچ، ہمارے رویوں اور دین کو سمجھنے کے انداز پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اسلام میں پردے کا حکم ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں۔ لیکن کیا اسلام کا کوئی حکم کسی انسان کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ خود ہی منصف بن جائے، خود ہی سزا کا فیصلہ کرے اور ایک معصوم جان لے لے؟ ہرگز نہیں!

اسلام نے انسانی جان کی حرمت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآن مجید کا واضح حکم ہے کہ جس جان کو اللہ نے حرمت بخشی ہے اسے ناحق قتل نہ کرو۔ پردے کی تلقین کی جا سکتی ہے، نصیحت کی جا سکتی ہے، سمجھایا جا سکتا ہے، مگر کسی کی جان لینا نہ غیرت ہے، نہ دینداری اور نہ ہی کسی مسئلے کا حل۔

میانوالی کی پہچان اس کی روایات اور عزت و احترام کا رشتہ ہے۔ ہمیں اس پہچان کو ایسے واقعات کی نذر نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہماری بیٹیوں کو عزت، تحفظ اور محبت درکار ہے، خوف اور موت کا سایہ نہیں۔ رشتے تو پناہ دینے کے لیے ہوتے ہیں، زندگی چھیننے کے لیے نہیں۔

دین کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو ذمہ داری، اخلاق اور ضبطِ نفس سکھاتا ہے۔ اگر کسی کو کسی کے لباس پر اعتراض بھی ہو تو اسے قانون ہاتھ میں لینے کا حق نہیں مل جاتا۔ معاشرے میں اختلاف کا جواب تشدد نہیں، بات چیت اور اصلاح ہے؛ اور جرم کا فیصلہ کسی فرد کی ذاتی پسند سے نہیں، قانون کے مطابق ہوتا ہے۔

اس بچی کی زندگی واپس نہیں آ سکتی۔ اس کے والدین کے دل کا زخم شاید کبھی نہ بھر سکے۔ لیکن ہم اس سانحے سے ایک سبق ضرور لے سکتے ہیں: غیرت کے نام پر کسی کی جان لے لینا غیرت نہیں، ایک ناقابلِ تلافی ظلم ہے۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو دین کی تعلیم دے رہے ہیں یا دین کے نام پر خوف کے سائے میں جینا سکھا رہے ہیں؟ اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کا راستہ محبت، حکمت اور اخلاق سے گزرتا ہے، بندوق کی گولی سے نہیں۔اللہ تعالیٰ اس معصوم بچی کی مغفرت فرمائے، اس کے اہلِ خانہ کو صبر عطا کرے اور ہمارے معاشرے کو ایسا شعور دے کہ ہماری بیٹیوں کے لیے گھر، خاندان اور شہر خوف نہیں، تحفظ کی علامت بنیں۔ آمین۔

ایک سوال ہم سب کے لیے اگر پردے کی خلاف ورزی پر کسی کی جان لے لینا درست نہیں، تو پھر ہم کب اپنی غیرت کو تشدد سے اور دینداری کو ظلم سے الگ پہچاننا سیکھیں گے؟

جواب دیں