
پاکستان میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے سرکاری ہسپتال اور دیگر ادارے قائم کیے گئے ہیں تاکہ عام شہری کو کم خرچ یا مفت سہولتیں میسر آ سکیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سہولتوں کی موجودگی ہی کافی ہے، یا عوام کو عزت، رہنمائی اور اطمینان فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے؟میرا حالیہ تجربہ لاہور کے ایک سرکاری ڈینٹل ہسپتال کا ہے، جہاں بریسز اترنے کے بعد مجھے ریٹینرز کے لیے سیمپل دینا تھا۔ میں نے صرف یہ پوچھا کہ کیا ریٹینرز درست طریقے سے فٹ ہوں گے اور کیا مستقبل میں دانتوں کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟ جواب ملا کہ ہمیں نہیں معلوم، ہم تو بنا کر دے دیں گے میں دو سے تین گھنٹے ہسپتال میں کبھی ایک شخص اور کبھی دوسرے کے پاس بھیجی جاتی رہی۔ اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ مریض کی رہنمائی اور ذمہ داری کا کوئی واضح نظام موجود نہیں یہاں میرے ذہن میں چار اہم سوالات پیدا ہوئے۔
پہلا سوال: کیا سرکاری سہولت کے ساتھ عزت اور رہنمائی بھی عوام کا حق نہیں؟مریض ہسپتال میں صرف علاج نہیں بلکہ اطمینان اور اعتماد حاصل کرنے بھی آتا ہے۔ اگر اسے اپنے علاج کے بارے میں تسلی بخش جواب نہ ملے تو وہ کہاں جائے؟ مریض کا وقت بھی قیمتی ہے اور اس کی پریشانی کو سمجھنا بھی طبی عملے کی ذمہ داری ہے۔
دوسرا سوال: کیا سرکاری اداروں میں سفارش کے بغیر کام نہیں ہو سکتا؟اگر کسی مریض کو جلد وقت لینے کے لیے سفارش کی ضرورت پڑے اور عام شہری کو مہینوں انتظار کرنا پڑے تو یہ نظام کیسا ہے؟ سرکاری ادارے عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں، اس لیے وہاں ہر شہری کو میرٹ اور ضرورت کے مطابق سہولت ملنی چاہیے، نہ کہ تعلقات اور پروٹوکول کی بنیاد پر۔
تیسرا سوال: کیا مریض کی حفاظت اور علاج کے معیار پر سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے؟جونیئر ڈاکٹرز اور زیرِ تربیت عملے کو سیکھنے کے مواقع ملنے چاہییں، لیکن مریض کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ مناسب طبی نگرانی، واضح ذمہ داری اور مریض کو درست معلومات فراہم کرنا ضروری ہے، کیونکہ مریض کوئی تجربہ نہیں بلکہ ایک انسان ہے جس کی صحت اور زندگی اہم ہے۔چوتھا سوال: کیا عام شہری کو اپنے ہی ملک کے اداروں میں عزت کے ساتھ سنے جانے کا حق نہیں؟ اس غریب عورت کا کیا ہوگا جو بچے کو لے کر ہسپتال آتی ہے؟ اس مزدور کا کیا ہوگا جو ایک دن کی اجرت چھوڑ کر علاج کے لیے پہنچتا ہے؟ اور اس شخص کا کیا ہوگا جو نہ سفارش رکھتا ہے، نہ تعلقات اور نہ نجی علاج کے اخراجات برداشت کر سکتا ہے؟کیا خاموش رہنے والے شہری کو نظرانداز کرنا آسان سمجھ لیا گیا ہے؟حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں کو سمجھنا ہوگا کہ عوام کو صرف مفت علاج نہیں بلکہ محفوظ، معیاری، بروقت اور باعزت علاج بھی چاہیے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی رہنمائی، شکایات کے ازالے، عملے کی جواب دہی اور شفاف نظام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔میں آج بھی یہی سوچتی ہوں کہ اگر میں اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکتی ہوں تو ان لوگوں کا کیا ہوگا جو خاموش رہتے ہیں؟ شاید ان کی خاموشی ہی ہمارے نظام کا سب سے بڑا سوال ہے۔ایک عام شہری کو اپنے جائز کام کے لیے سفارش نہیں، صرف اپنے حق کی ضرورت ہونی چاہیے۔اصل کامیابی اس دن ہوگی جب ایک غریب اور بے سہارا شخص بھی سرکاری ادارے سے یہ اطمینان لے کر واپس آئے کہ ریاست نے اسے عزت دی، اس کی بات سنی اور اس کے حق کا تحفظ کیا۔