PakistanSports

ہاکی کی بحالی امید افزا، محی الدین وانی کی قیادت میں قومی کھیل کو نئے عزم کی ضرورت ہے، عبدالرزاق کی ایشیا کپ میں پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم سے اچھی کارکردگی کی امید

ایف ایم 95 پنجاب رنگ کے پروگرام ’’کھیل اور کھلاڑی‘‘ میں قومی کھیلوں کے مسائل، ہاکی کی بحالی اور بلائنڈ کرکٹ کے آئندہ ایشیا کپ پر گفتگو

لاہوراین ایل آئی) ایف ایم 95 پنجاب رنگ کے پروگرام ’’کھیل اور کھلاڑی‘‘ کے آر جے روحیل اکبر کے ساتھ پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان محمد ثقلین، پاکستان ہاکی فیڈریشن پنجاب کے کوآرڈینیٹر طارق محمود کھوکھر، پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عبدالرزاق اور ہاکی کوچ شہزادہ عالمگیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کو دوبارہ عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانے کے لیے میرٹ کی بالادستی، جدید تربیت، نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور مؤثر انتظامی نظام وقت کی اہم ضرورت ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی کا ماضی شاندار رہا ہے اور قومی کھیل کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مستقل کوششیں ناگزیر ہیں۔

سابق ہاکی کپتان محمد ثقلین نے پاکستان ہاکی کے سنہری دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، محنت اور بہترین کھیل کے ذریعے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا۔ اولمپکس، عالمی کپ اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی کامیابیاں ہماری کھیلوں کی تاریخ کا قابلِ فخر حصہ ہیں تاہم انتظامی مسائل، وسائل کی کمی اور جدید تقاضوں سے دوری نے قومی کھیل کو متاثر کیا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی کی کامیابیوں کو یاد کرنے کے ساتھ مستقبل کے لیے مضبوط بنیادیں استوار کی جائیں انہوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے موجودہ سربراہ محی الدین احمد وانی کی قیادت میں قومی کھیل کی بحالی اور نوجوانوں کو ہاکی کی جانب راغب کرنے کے لیے ہونے والی کوششوں کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہاکی کا فروغ، باصلاحیت کھلاڑیوں کی تلاش اور تربیتی نظام میں بہتری قومی کھیل کے مستقبل کے لیے اہم ہیں۔ ان کوششوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانے اور ان کے نتائج میدان میں یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہاکی کی ترقی کے لیے شفاف انتخابی نظام، جدید کوچنگ، معیاری میدان، مصنوعی ٹرف اور کھلاڑیوں کی مالی سرپرستی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ قومی ٹیم میں جگہ صرف کارکردگی اور میرٹ کی بنیاد پر ملنی چاہیے تاکہ نوجوان کھلاڑی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر آگے بڑھ سکیں۔ سابق کھلاڑیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا اور انہیں نوجوان نسل کی تربیت میں شامل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عبدالرزاق نے کہا کہ پاکستان نے بلائنڈ کرکٹ میں بھی عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ان کی کپتانی میں ورلڈ کپ جیتنا ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے فخر کا لمحہ تھا انہوں نے کہا کہ بصارت سے محروم کھلاڑی اپنی محنت، عزم، نظم و ضبط اور غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے ثابت کرتے ہیں کہ مواقع اور سرپرستی میسر ہوں تو کوئی بھی رکاوٹ کامیابی کی راہ نہیں روک سکتی۔

عبدالرزاق نے آنے والے بلائنڈ ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی ٹیم میں اچھی کارکردگی دکھانے اور ملک کا نام روشن کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ قومی کھلاڑیوں کو چاہیے کہ وہ بھرپور محنت، بہترین فٹنس، باہمی ہم آہنگی اور مضبوط ٹیم اسپرٹ کے ساتھ میدان میں اتریں۔ ایشیا کپ جیسے بڑے مقابلوں میں کامیابی کے لیے ہر کھلاڑی کو اپنی ذمہ داری سمجھنا اور ٹیم کے اجتماعی مقصد کو ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستانی کھلاڑی اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم کو خوشی کا موقع فراہم کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلائنڈ کرکٹ کے کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو مناسب میڈیا کوریج، حکومتی سرپرستی اور نجی اداروں کے تعاون کے ذریعے مزید اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کھلاڑی نہ صرف پاکستان کے سفیر ہیں بلکہ عزم، حوصلے اور جدوجہد کی بہترین مثال بھی ہیں۔ ان کے لیے بہتر تربیتی سہولیات، مالی معاونت اور بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری کے مناسب مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔ہاکی کوچ شہزادہ عالمگیر نے کہا کہ جدید ہاکی میں فٹنس، تکنیک، حکمت عملی اور سائنسی تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں کو ابتدا ہی سے معیاری کوچنگ فراہم کی جائے اور کوچز کو جدید طریقہ ہائے تربیت سے روشناس کرایا جائے اسکولوں اور کالجوں میں باقاعدہ مقابلے منعقد کرکے نچلی سطح سے ٹیلنٹ سامنے لایا جا سکتا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن پنجاب کے کوآرڈینیٹر طارق محمود کھوکھر نے پنجاب میں ہاکی کے فروغ، ضلعی سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش اور نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی کھیل کی بحالی کے لیے متعلقہ اداروں، تعلیمی اداروں اور سابق کھلاڑیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرکے پاکستان ہاکی کے مستقبل کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

پروگرام کے میزبان آر جے روحیل اکبر نے کہا کہ پاکستان میں ہاکی اور بلائنڈ کرکٹ سمیت مختلف کھیلوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کھلاڑیوں کو مناسب مواقع، سہولیات اور سرپرستی فراہم کی جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قومی کھیلوں کی بحالی کے لیے جاری کوششیں مؤثر ثابت ہوں گی اور پاکستانی کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کا نام روشن کرتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے لیے بلائنڈ ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2026 ایک اہم مقابلہ ہے، جو 14 سے 20 نومبر تک بنگلہ دیش میں منعقد ہونا طے ہے۔ پاکستان اس ایونٹ میں سری لنکا، بھارت، افغانستان اور میزبان بنگلہ دیش کے خلاف میدان میں اترے گا۔ قومی ٹیم سے شائقین کو اچھی کارکردگی کی امید ہے۔

جواب دیں