
اسلام آباد (این ایل آئی)مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے اپوزیشن کیساتھ مذاکرات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ مذاکرات کے دوسرے سیشن میں اپوزیشن نے اپنے مطالبات رکھے،فیصلہ ہوا فریقین اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد کل دوبارہ ملیں گے،کل مذاکرات کاآخری راؤنڈ ہونا چاہیے،حتمی فیصلہ سامنےآنا چاہیے۔راناثنااللہ نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت میں رابطہ رہنا چاہیے،آخری رابطے کی نوبت نہیں آنی چاہیے،کےپی حکومت دہشتگردی کیخلاف وفاق کی پالیسی کے ساتھ کھڑی ہو،حکومت کامطالبہ ہے کے پی حکومت دہشتگردی کیخلاف کردار ادا کرے، دہشتگردی کے معاملے پرسیاست نہیں ہونی چاہیے،سب کو ایک ہو کر لڑنا چاہیے، پی ٹی آئی اختلاف کرے،اسلام آباد پر چڑھائی کے منصوبےختم ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بانی کے علاج،مقدمات اور ملاقاتوں سے متعلق بات کی، تحریک انصاف نے اپنے گرفتار افراد کے حوالے سے بھی بات کی، ہوسکتا ہے ہم کل وزیرقانون کو ملاقات میں شرکت کی زحمت دیں، فیصلہ ہوا مذاکرات کے حوالے سے بنیادی بات کی جائے،تفصیلات سےآگاہ نہ کیاجائے، بانی پی ٹی آئی کا بہترین علاج ہوا،کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔مشیر وزیراعظم کا کہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی حکومت سےبہتر اپنا علاج نہیں کراسکتے تھے،5اکتوبر کو القادر ٹرسٹ کیس کی اپیل لگنا حسن اتفاق ہو سکتا ہے،القادر ٹرسٹ کیس کی اپیل،مذاکرات میں بات نہیں ہوئی،مذاکرات میں کسی کیس کو لگانےاور نہ لگانے کی بات نہیں ہوئی، تحریک انصاف تسلیم کرتی ہے بانی پی ٹی آئی کا علاج ٹھیک ہوا، صدر اور وزیراعظم کی ملاقات میں اپوزیشن سے بات چیت کا فیصلہ ہوا، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا اتفاق تھا کہ پی ٹی آئی سےمذاکرات کر کے مسئلہ حل کیا جائے۔راناثنا اللہ نے کہا کہ کسی نے اپوزیشن سے مذاکرات کی مخالف نہیں کی،وزیراعظم ہمیشہ سے مذاکرات کے حامی ہیں،وزیراعظم نے کہا ہے مذاکرات کے حوالے سے نوازشریف سے بات ہوئی ہے، نوازشریف نے اجازت دی ہے تو بات چیت آگے بڑھی ہے، گورنر راج اور ایمرجنسی کا آپشن ہے،یہ وفاق کا اختیار ہے، کوشش کی جائے گی کہ کےپی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے، دیکھا گیا کہ ملک کا نقصان ہو رہا ہے تو فیصلہ کیا جائے گا، گورنر راج اور ایمرجنسی کا فی الحال فیصلہ نہیں ہوا، یقین دہانی کرائی گئی کہ دہشتگردی کےخلاف کردار ادا کریں گے تو تمام چیزیں ایک طرف ہو گئیں۔