column and article

”بَچھڑا“اور”بِچھڑا“

کونین /محمدناصراقبال خان

 دین فطرت اِسلام اورنبوت کے ظہورسے قبل انسانیت کے نجات دہندہ اورسرورکونین حضرت سیّدنامحمدصلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم نے بدترین کافروں کوبھی اپنے اعلیٰ ترین”اوصاف حمیدہ“ کا”گرویدہ“ بنالیاتھا،مشرکوں کے نزدیک بھی ہمارے آقا ؐصادق وامین تھے۔جوں جوں لوگ دامن اسلام میں داخل ہوتے ہمارے آقا ؐاپنی محبت،تربیت،صحبت اورنصیحت سے ان کی کایا پلٹ دیتے۔ تاجدار انبیاء،امام الاانبیاء اورخاتم الاانبیاء حضرت سیّدنامحمدصلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم نے اپنے مقرب صحابہ کرام کوبھی صادق،امین،صدیق،فاروق اعظم،اسداللہ اورسیف اللہ بنادیا۔لہٰذاء یادرکھیں صحتمند اورسودمند تبدیلی کاآغاز ہمیشہ اوپر سے ہوتا ہے۔بابائے قوم محمدعلی جناح ؒ نے اپنی شخصیت اورقیادت کے سحر سے ہندوستان میں مسلمانوں کے ہجوم کوایک منظم ومتحدقوم جبکہ قیام پاکستان کے خواب کوزندہ حقیقت بنادیا تھا،ہمارے محبوب قائدؒ کی وفات کے بعد صوبائیت اورمنافرت کے بھوت نے ہمیں ایک قوم سے پھر ہجوم بنادیا لہٰذاء مزید صوبوں کے قیام سے پاکستان کااستحکام داؤپرنہ لگایاجائے۔ان شاء اللہ اگرقدرت نے ہمیں کوئی قائدؒ ثانی دیا تووہ اپنی سچائی اوردانائی کے بل پر ہمارے ہجوم کوپھر سے ایک سیسہ پلائی قوم بنادے گا۔ہرقوم کی اجتماعی تبدیلی اورخوشحالی کیلئے ایک سچے کردارکاحامل قائدناگزیر ہوتا ہے،ایساقائد جو”زنانہ“ اور”زمانہ“ شناس بھی ہو۔ہرکسی کو علم ہے موٹر وے پرہماراقانون کمپرومائزنہیں کرتا لہٰذاء وہاں اورجی ٹی روڈ پرگاڑیاں ڈرائیوکرنیوالے شہریوں کے مزاج جبکہ نتائج میں زمین آسمان کافرق واضح ہے۔یادرکھیں سرکاری محکموں میں بدترین کرپشن کیخلاف آپریشن بھی صرف اس صورت میں کامیاب ہوسکتا ہے اگرکسی امتیاز کے بغیر اس کاآغاز اوپر سے کیاجائے۔چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بعدمیں،ابھی مال کے خمار سے”مچھرے“ اور”بپھرے“ہوئے بڑے بڑے مگر مچھوں پرہاتھ ڈالنا ہوگا۔”حکمران اشرافیہ“ اوراس کی آشیرباد والی مخصوص ”سول مافیا“کے بے رحم احتساب تک ہمارے سیاسی نصاب پرآسیب کاسایہ برقراررہے گا۔یقیناآپ کی نظر نے بھی یہ منظر دیکھا ہوگا، بڑے مچھیرے بھی چھوٹی مچھلیاں دوبارہ سمندر کے اندر چھوڑدیتے ہیں جبکہ جنگل میں ”شیر“سمیت کئی خونخواردرندے”شیرخوار“ جانوروں کاشکار نہیں کرتے۔جو نوعمر ”بچھڑا“ اپنی ماں سے”ِبچھڑا“ہو اسے زندہ چھوڑدیاجاتا ہے۔

 تعجب ہے ایک طرف نیب نامی ادارہ پچاس کروڑ سے نیچے والی کرپشن کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکتا جبکہ دوسری طرف محکمہ اینٹی کرپشن کاپٹواریوں،تھانیدارو ں اورماتحت اہلکاروں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔چندہزار کی رشوت توقابل گرفت ہے لیکن ہمارے ریاستی اورسیاسی نظام میں کروڑوں، اربوں کی کرپشن میں ملوث کردار سرمایہ افتخار بنے ہوئے ہیں۔اگر بوجوہ کوئی بڑا بدعنوان قانون کی گرفت میں آبھی جائے تو نیب یااینٹی کرپشن کے مخصوص حکام اس کے قیام وطعام کاانتظام کرتے ہوئے سرکاری سیل میں اس کے آرا م کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔چندسال قبل بروز عیدالفطر نیب کے لاہورآفس میں نیب زدگان کیلئے پرتکلف ظہرانہ کااہتمام کیا گیا تھا اوراس کی باضابطہ پریس ریلیز بھی ایشو کی گئی تھی۔جب ”اشرافیہ“ میں سے کوئی نیب کی گرفت میں آئے توپھر ہر ”شریف“ کو ہتھکڑی لگائے بغیر عدالت میں پیش کیاجاتا ہے جبکہ اینٹی کرپشن کے جاری حالیہ آپریشنز کے دوران ماتحت اہلکاروں کووہیں ہتھکڑیاں پہنا جبکہ ان کی ویڈیوزوائرل کردی جاتی ہیں یعنی انہیں گرفتار کرتے وقت ان کی قسمت کافیصلہ سنادیاجاتا ہے،اگر اینٹی کرپشن کے اہلکاروں نے ملزم کومجرم ڈکلیئرکرنا ہے توپھر انصاف کے ایوانوں کاکیاکام رہ جائے گا۔الحمدللہ میں اپنی تحریروں کی وساطت سے محکمہ پولیس میں تعمیری اصلاحات کیلئے تجاویزدیتارہتاہوں،میں نے مختلف مقدمات میں گرفتارہونیوالے عام شہریوں کی تصاویر میڈیا پر نشرنہ کرنے کی تجویز دی تھی کیونکہ گرفتاری کے وقت وہ ملزم ہوتے ہیں ان کامجرم ہونانہ ہونا عدالت میں طے ہوتا ہے لہٰذاء فوری طورپر اینٹی کرپشن کورشوت کی رقوم کے ساتھ گرفتار ہونیوالے ملزمان کی تصاویراور ویڈیوز میڈیا اورسوشل میڈیاپرنشرکرنے سے روکاجائے کیونکہ ہر باپ اپنے بچوں کاہیروہوتا ہے۔ملزمان کے چہروں کی شناخت ہونے سے پورے خاندان کی شہرت کو شدیدنقصان پہنچتا ہے اوربدقسمت خاندانوں میں کئی بارخودسوزی کے دلخراش واقعات بھی رونما ہوتے ہیں لہٰذاء کرپشن کیخلاف آپریشن کی آڑ میں انسانوں کوتوہین کانشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ کوئی انسان نہیں صرف اس کاگناہ قابل نفرت ہوتا ہے۔تحقیقات کے بعد جس کادامن واقعی کرپشن سے داغدار ہواسے ضرورسخت ترین سزادی جائے لیکن ملزمان کی ”تصویر“اور”تشہیر“ سے گریز کرنا ہوگا۔بدقسمتی سے ان گرفتار ملزمان کی”تصویر“کوبھی ایک مخصوص شخصیت کی شہرت یعنی ”تشہیر“کیلئے استعمال کیاجارہا ہے۔دنیاکاکوئی قانون کسی ملزم کو اپنی صفائی کاحق دینے اورمجرم ڈکلیئر ہونے سے قبل سزا نہیں دے سکتا۔اینٹی کرپشن کی مدد سے جاری متنازعہ مہم جوئی کے پیچھے حکمران اشرافیہ کی باریک واردات کوباریک بین افراد کے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا،انہیں کہا کچھ اورگیا تھا لیکن کیا کچھ اورجارہا ہے۔ پنجاب میں کرپشن کہانیاں اورآنیاں جانیاں مقتدرقوتوں کی بینائی سے اوجھل ہیں،اگرکوئی یہ سمجھتا ہے تووہ اس غلط فہمی کی بندگلی سے باہرنکل آئے کیونکہ ہرگناہ اپنے نشانات ضرورچھوڑتا ہے۔اگرکرپشن کی دنیا میں بظاہرکوئی ”سائل“سٹینڈنہ کرے توپھر بھی”فائل“ بن جاتی ہے اوریہ فائلیں اپنے مخصوص وقت پرضرور کھلتی ہیں کیونکہ جہاں گل ”کھلیں“ گے وہاں فائلیں بھی ضرور”کھلیں“گی،ہماری ریاستی ایجنسیز عقاب کی نگاہ رکھتی ہیں۔میں مبینہ کرپشن میں گرفتار ملزمان کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھتا ہوں تومجھے ماضی کی ایک تصویریادآجاتی ہے جس میں شفاف تحقیقات کے بغیر فیصل آباد کے دوسرکاری آفیسرز کو ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں۔

 پاکستان میں 12اکتوبر کی آمدآمد ہے،آج سے ستائیس سال قبل اس روزڈکٹیٹر پرویزمشرف نے منتخب حکومت پرشب خون مارتے ہوئے ریاست ِپاکستان کی باگ ڈورسنبھالی تھی۔پاکستان مسلم لیگ (ن)کے عمائدین اس روزایک دوگھنٹوں کیلئے رسمی طورپر یوم سیاہ منا تے ہیں تاہم انہوں نے پرویزی آمریت کی مخصوص سیٹوں والی باقیات کوآج بھی اپنے سینے سے لگایاہوا ہے۔مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی ایک دوسری کی اتحادی ہیں تاہم ان کااپنااپنا ”یوم سیاہ“، ”یوم نجات“ اوراپنا اپنانجات دہندہ ہے،کئی نام نہاد نجات دہندہ سرکار کے نادہندہ بھی ہوتے ہیں۔نوازشریف کے نزدیک ڈکٹیٹر ضیاء الحق اس کامحسن لیکن اگر ذوالفقارعلی بھٹو کی شہادت کو دیکھیں تو نوازشریف کامحسن درحقیقت پیپلزپارٹی کا بدترین دشمن تھا لیکن پھربھی دونوں پرانے سیاسی”شریک“ آج شریک اقتدار ہیں۔ مجھے اچھی طرح یادہے 12اکتوبر1999ء سے چندروزقبل میاں نوازشریف نے بحیثیت وزیراعظم فیصل آباد میں کسی شہنشاہ کی طرح دوسرکاری آفیسر زکوہتھکڑیاں پہنانے کاحکم صادر کیا تھاتاہم اقتدار”چھن“ اورسیاسی طورپردیوارمیں ”چن“ جانے کے بعد زندان سے میاں نوازشریف نے اپنے کسی معتمدشخصیت کی وساطت سے ان دونوں آفیسرز کے ساتھ باضابطہ اظہار معذرت بھی کیا تھا۔پنجاب میں ماہ ”ستمبر“ کوپٹواریوں،تھانیداروں اورماتحت اہلکاروں کیلئے ”ستمگر“بنادیا گیا ہے۔ خاتون وزیراعلیٰ کے فرمان پرپنجاب بھر میں نچلی سطح پر کرپشن کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، چھوٹی مچھلیاں قانون کی گرفت میں لیکن بڑے مگر مچھ اینٹی کرپشن کے ”ریڈار“اوراس کی ”ریڈ“ سے پوری طرح ”محفوظ“ بلکہ الٹا اس صورتحال سے”محظوظ“ ہورہے ہیں۔1999ء میں محض دوسرکاری آفیسرز کوہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں لیکن 2026ء میں متاثرین کی تعدادہزاروں میں ہے۔جو حکمران ستم زدوں کی بددعاؤ ں سے نہیں ڈرتا وہ قصہ ماضی بن جاتا ہے۔

 ان دنوں پنجاب کی صورتحال چورمچائے شور کے مصداق ہے لیکن ”شور“اور”شرور“ سے”شعور“ کو نہیں دبایاجاسکتا۔میں پھر کہتا ہوں محض شعبدہ بازی سے کوئی شعبہ بہتر نہیں ہوگا۔ پنجاب بھر میں پٹواریوں اورماتحت اہلکاروں کیخلاف بدنیتی پرمبنی کریک”ڈاؤن“سے صوبائی حکومت کاگراف”بلند“نہیں ہوسکتا،جودوسروں کو”بے عزت“ کرے وہ”عزت دار“نہیں ہوتا۔پٹوارخانے بندپڑے ہیں جبکہ عوام کا فرد اورجائیدادسے متعلقہ ہراہم کام رکا ہوا ہے۔کرپشن کیخلاف جاری آپریشن کی کامیابی کیلئے اہلکاروں کوچارہ ڈالنا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جس طرح ایک ہدف کے تحت شاہراہوں پرگاڑیاں دوڑاتے شہریوں کے ہاتھوں میں ناحق چالان تھمادیاجاتا ہے اس طرح جو اہلکار بدعنوان نہیں وہ بھی محض گنتی پوری کرنے کیلئے شکنجے میں آجاتے ہیں لہٰذاء ان دنوں پٹواریوں کے نزدیک خود کو اینٹی کرپشن کے اہلکاروں کی”رسائی“ اورگرفتاری کی صورت میں ”رسوائی“ سے بچانا ”دانائی“ ہے۔ ہمارے ملک میں کرپشن عام ہے کیونکہ آج تک کسی طاقتور بدعنوان کوسزانہیں ملی تاہم احتساب کے نام پر ماتحت اہلکاروں سے انتقام نے ہمارے ریاستی نظا م کوزمین بوس کردیا ہے۔ ہمارے ریاستی نظام میں مخصوص طبقات کوطاقت اور”غلبہ“ حاصل ہے اوروہ اپنے ہرطرح کے گناہوں کا”ملبہ“بھی کمزوروں پرگراتے چلے جارہے ہیں۔ اگرحکمران اشرافیہ کولگتا ہے کرپشن کیخلاف مخصوص اورمحدودآپریشن سے لوگ گیارہ ارب کے جہاز کو”فراموش“ اوراپنی زبانوں کو”خاموش“ کردیں گے تویہ ان کی خام خیالی ہے۔طیارے پرمسلسل تنقید کے بعد خاتون وزیراعلیٰ کے مسلسل بیانات میں منظرعام پرآنیوالے شدید تضادات نے اس بحران اورتنقید کے طوفان کومزید گھمبیر بنادیا ہے۔مجھے لگتاتھا گیارہ ارب کے طیارے پرہونیوالی جارحانہ تنقید کے بعد حساس وزیراعلیٰ محروم طبقات کے زخم پر”مرہم“ رکھ دے گی لیکن وہ الٹااپنے ناقدین پر”برہم“ ہوگئی ہے۔ماضی کے وزرائے اعلیٰ بھی سرکاری گاڑیوں میں لاہورسے براستہ جی ٹی روڈ پنجاب کے مختلف مقامات پرجاتے رہے ہیں،جو نازک مزاج حکمران انتہائی آرام دہ سرکاری گاڑیوں میں بھی ان شاہراہوں کوآمدورفت کیلئے استعمال نہیں کرسکتے بہتر ہے وہ پریشانی سے نجات کیلئے اقتدار چھوڑدیں ورنہ خندہ پیشانی سے تنقید کاسامنا اوراپنی اصلاح کریں۔

جواب دیں