
- سیاست کے بازار میں اصول بھی کتنے سستےداموں بکتے ہیں اس کا اندازہ ان دنوں پنجاب کے سیاسی افق کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ کل تک جو محترمہ اپنے مخالفین پر طنز کے ایسے نشتر چلاتی تھیں کہ لفظ بھی پناہ مانگتے تھے، آج وہ خود خاموشی کے دائرے میں محصور نظر آتی ہیں جب مخالفین کی خواتین پر بات آتی تھی، تو موصوفہ کا مائیک پرجوش ہوتا تھا، زبا ن کے تیر چلتے تھے اور اخلاقیات کے تمام تر سبق پریس کانفرنسوں میں مفت بانٹے جاتے تھے۔ ہر دوسری گفتگو میں یہ گردان دہرائی جاتی تھی کہ "خواتین ریڈ لائن ہیں” اور اس لائن کو پار کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔ مگر تاریخ کا جبر دیکھیے، وہی ریڈ لائن جب اپنے گھر کے سامنے کھینچی گئی تو سیاہی ہی ختم ہو گئی۔میاں داؤد ایڈوکیٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے بارے میں جو الفاظ ادا کیے ان پر اخلاقیات کا جنازہ تو نکلا ہی لیکن اس سے بڑا جنازہ ان کا نکلا جو طنز و مزاح کے میدان میں روزانہ فتح کے جھنڈے گاڑتی تھیں کہاں گئیں وہ للکاریں؟ کہاں گئے وہ لفظی حملے؟ جن کی آواز سے مخالفین کے کیمپوں میں خفگی پھیل جاتی تھی، آج وہ خود ایک خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں۔اصل ماجرا یہ ہے کہ جب باری اپنے احتساب اور اپنی باری کی آتی ہے، تو زبانوں پر تالے پڑ جاتے ہیں اور ریڈ لائن صرف ایک تحریری جملہ بن کر رہ جاتی ہے۔ مخالفین پر تنقید کرنا اور ان کے گھروں کی خواتین کو نشانہ بنانا تو "سیاسی بیداری” کہلاتا ہے، لیکن جب اپنے ہی سیاسی گڑھ پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ ہو تو اسے "خاموشی حکمتِ عملی ہے” کا دلکش نام دے دیا جاتا ہے۔وزیر اطلاعات صاحبہ کو شاید یاد دلانا پڑے گا کہ سچائی اور اخلاقیات کا کوئی مخصوص سیاسی نشان نہیں ہوتا۔ اگر ریڈ لائن واقعی ریڈ لائن ہے، تو وہ ہر عورت کے لیے ہونی چاہیے—خواہ وہ مخالف کیمپ میں ہو یا اپنے تختِ حکومت پر۔ مگر افسوس، یہاں اصول صرف دوسروں پر لاگو کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور جب خود پر بات آئے، تو خاموشی کو ہی سب سے بہترین ہتھیار سمجھ لیا جاتا ہے۔سیاست کا یہ دوہرا معیار نیا نہیں لیکن جس بے باکی سے آج اخلاقیات کا خون کیا جا رہا ہے، اس پر صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ طنز کے تیر چلانے والے آج خود تیروں کی زد میں ہیں اور ان کا سب سے بڑا جواب… صرف اور صرف ایک گہری خاموشی ہے۔