
کچھ لوگ صرف زندگی نہیں گزارتے بلکہ اپنے عہد پر اپنے کردار کی ایسی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں جسے وقت بھی مٹا نہیں پاتا کچھ نام صرف سیاست کے ایوانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ وکالت، قانون، عوامی خدمت اور سماجی تعلقات کے مختلف حوالوں سے اپنی ایک الگ پہچان بناتے ہیں۔ چوہدری محمد اشرف لیڈر بھیایسی ہی شخصیات میں سے ایک تھے۔

ساہیوال آج ایک ایسی شخصیت سے محروم ہوگیا ہے جس نے سیاست کے ساتھ ساتھ قانون کے میدان میں بھی اپنا نام بنایا وہ تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، مسلم لیگ ن سے وابستہ رہے، سابق چیئرمین پاکستان بار کونسل رہے اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کی حیثیت سے عدالتی و قانونی حلقوں میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے تھے یہ کسی ایک شعبے کی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل اور بھرپور عوامی زندگی کی داستان ہے۔

چوہدری محمد اشرف لیڈر کی شخصیت کو صرف ایک سیاست دان کہہ دینا شاید ان کے پورے تعارف کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا وہ قانون کے طالب علم بھی تھے، وکیل بھی، بار کی قیادت کرنے والے رہنما بھی اور عوام کی نمائندگی کرنے والے منتخب رکن قومی اسمبلی بھی ان کی زندگی میں سیاست اور قانون دو ایسے میدان تھے جنہوں نے انہیں ایک منفرد شناخت دی۔

تین مرتبہ قومی اسمبلی تک پہنچنا کسی بھی سیاست دان کے لیے معمولی بات نہیں اس کا مطلب صرف انتخاب جیتنا نہیں بلکہ مسلسل عوامی رابطہ، سیاسی جدوجہد، اعتماد اور ایک طویل سفر ہے قومی اسمبلی میں ساہیوال کی نمائندگی کرنے والے چوہدری محمد اشرف لیڈر نے اپنے سیاسی سفر میں ساہیوال کی عوام سے ایک ایسا تعلق قائم کیا جو ان کی سیاسی شناخت کا اہم حصہ رہا۔

2018 کے عام انتخابات میں بھی وہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے ساہیوال کے حلقہ NA-148 سے کامیاب ہوئے تھے لیکن ان کی شخصیت کا دوسرا بڑا حوالہ وکالت تھا۔سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کی حیثیت سے قانون کے پیچیدہ میدان میں اپنی جگہ بنانا ایک طویل جدوجہد، علم، تجربے اور پیشہ ورانہ شناخت کا تقاضا کرتا ہے اس کے بعد پاکستان بار کونسل جیسے ملک کے اہم ترین قانونی ادارے کی سربراہی تک پہنچنا ان کے قانونی سفر کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے ایک طرف وہ عدالت میں آئین، قانون اور انصاف کی بات کرتے تھے، دوسری طرف پارلیمنٹ میں عوام کی نمائندگی کرتے تھے ان کی زندگی میں قانون بھی تھا اور عوام بھی عدالت بھی تھی اور پارلیمنٹ بھی وکالت بھی تھی اور سیاست بھی شاید یہی امتزاج چوہدری محمد اشرف لیڈر کی شخصیت کو دوسروں سے مختلف بناتا تھا۔

ساہیوال کی سیاست کو قریب سے دیکھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں سیاسی شخصیات کی اصل طاقت صرف انتخابی کامیابی نہیں بلکہ لوگوں سے تعلق ہوتا ہے۔ سیاست کے میدان میں آنے والے بہت سے لوگ وقت کے ساتھ منظر سے غائب ہوجاتے ہیں لیکن کچھ لوگ اپنے حلقے کی سیاسی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔چوہدری محمد اشرف لیڈر کا نام بھی ساہیوال کی سیاسی تاریخ میں اسی حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔قومی اسمبلی کی نشست باقی نہیں رہتی، بار کونسل کی کرسی خالی ہوجاتی ہے، عدالت میں آواز خاموش ہوجاتی ہے، سیاسی سرگرمیاں رک جاتی ہیں، مگر انسان کا کردار لوگوں کی یادوں میں زندہ رہتا ہے اور شاید یہی انسان کی اصل پہچان ہے۔آج ان کے انتقال پر ان کے سیاسی ساتھی انہیں ایک سیاست دان کے طور پر یاد کریں گے، وکلا انہیں اپنے سینئر اور قانونی برادری کے رہنما کے طور پر یاد کریں گے جبکہ ساہیوال کے عوام انہیں اپنے منتخب نمائندے کے طور پر یاد رکھیں گے اورہر شخص کے پاس ان کے حوالے سے اپنی ایک یاد ہوگی کسی کو ان کی عدالت میں کی گئی بحث یاد ہوگی، کسی کو بار کی قیادت کا زمانہ، کسی کو قومی اسمبلی میں ان کی موجودگی، کسی کو سیاسی گفتگو اور کسی کو ان کے ساتھ بیٹھ کر ہونے والی ایک مختصر سی ملاقات۔انسان کی زندگی کا حسن بھی یہی ہے کہ وہ مختلف لوگوں کے لیے مختلف یادیں چھوڑ جاتا ہے۔چوہدری محمد اشرف لیڈر نے اپنی زندگی میں کئی میدان دیکھے انہوں نے قانون کو قریب سے دیکھا، سیاست کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کیا، انتخابات لڑے، کامیابیاں حاصل کیں، قومی اسمبلی تک پہنچے اور پاکستان کی قانونی برادری کے ایک اہم ادارے کی قیادت بھی کی۔اب جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں تو ان کے سفر کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ زندگی واقعی ایک مختصر مسافر خانہ ہے اور ہم سب یہاں کچھ وقت کے لیے آتے ہیں مگر کچھ لوگ آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے پیچھے ایسی یادیں چھوڑ جاتے ہیں جنہیں آنے والے برسوں تک لوگ یاد کرتے رہتے ہیں چوہدری محمد اشرف لیڈر بھی اب اسی سفر کا حصہ بن گئے ہیں۔ساہیوال کی سیاسی تاریخ میں ان کا نام، پاکستان کی قانونی برادری میں ان کا کردار اور قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں ان کی نمائندگی ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی گواہی دیتی رہے گی آج ان کے جانے کا دکھ صرف ان کے خاندان کا دکھ نہیں یہ ان کے دوستوں، ساتھیوں، سیاسی کارکنوں، وکلا اور ان تمام لوگوں کا دکھ ہے جنہوں نے ان کی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں ان کے ساتھ وقت گزارا موت انسان کو ہم سے جسمانی طور پر جدا کرتی ہے مگر اچھی یادیں انسان کو ہمارے درمیان زندہ رکھتی ہیں۔چوہدری محمد اشرف لیڈر بھی آج ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کا نام ساہیوال کی سیاست، پاکستان کی قانونی برادری اور ان سے وابستہ لوگوں کی یادوں میں موجود رہے گا۔تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی، سابق چیئرمین پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور ساہیوال کی سیاست کا ایک اہم نام یہ ان کے تعارف کے چند الفاظ ہیں مگر ایک پوری زندگی ان الفاظ کے پیچھے کھڑی ہے۔آج قلم ان کے لیے تعزیتی الفاظ لکھ رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض شخصیات کے بارے میں لکھتے ہوئے الفاظ بھی کم پڑ جاتے ہیں۔
چوہدری محمد اشرف لیڈر صاحب!

آپ کا سیاسی سفر ختم ہوا، قانونی سفر ختم ہوا، زندگی کا سفر بھی ختم ہوگیا مگر آپ کی یاد کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا آپ چلے گئے ہیں مگر ساہیوال کی سیاسی تاریخ میں آپ کا نام اور آپ سے وابستہ یادیں باقی رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا کرے اور اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوستوں، سیاسی ساتھیوں اور قانونی برادری کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین