Business

پاکستانی سمندری خوراک یورپی سپر مارکیٹوں تک پہنچ گئی، برآمدات میں اضافے کی بڑی صلاحیت

کراچی: پاکستان میں تیار کی جانے والی سمندری خوراک کی مصنوعات اب یورپ کی سپر مارکیٹوں میں فروخت کی جا رہی ہیں، جس سے عالمی منڈی کے سخت معیار اور غذائی تحفظ کے ضوابط پر پورا اترنے کی پاکستان کی صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے۔

ہفتے کو جاری ایک بیان کے مطابق اعلیٰ سطح کے چینی وفد اور دیگر معزز مہمانوں نے سی گرین انٹرپرائزز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاصم ابرار نے کہا کہ پاکستانی سمندری خوراک کا یورپی مارکیٹ تک پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مناسب طریقے سے پروسیسنگ، پیکجنگ اور ہینڈلنگ کے ذریعے پاکستان کی سمندری خوراک عالمی معیار کی منڈیوں میں مقابلہ کرسکتی ہے۔

عاصم ابرار نے کہا کہ پاکستان میں سمندری خوراک کی برآمدات کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر اس شعبے میں جدید انفرااسٹرکچر، سرمایہ کاری، جدید پروسیسنگ سہولیات اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے تو پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات ایک سے دو ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی مارکیٹ میں پاکستانی سمندری خوراک کی رسائی ملک کی فشریز انڈسٹری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی مصنوعات عالمی سطح پر پریمیم ریٹیل مارکیٹ میں جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر نے میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ، وزارتِ بحری امور اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے تعاون کو بھی سراہا، جن کی معاونت سے پاکستان میں تیار ہونے والی سمندری خوراک کو سخت ضابطوں والی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سی گرین انٹرپرائزز کی کامیابی پاکستان کی فشریز انڈسٹری میں موجود وسیع اور تاحال غیر استعمال شدہ صلاحیت کی ایک نمایاں مثال ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی معیار کے مطابق پروسیسنگ، بہتر پیکجنگ، کولڈ چین نظام اور ویلیو ایڈیشن میں مزید سرمایہ کاری سے پاکستان اپنی سمندری خوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے، جس سے نہ صرف زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ فشریز کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے