والدین کی لمبی عمر بچوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہوسکتی ہے، تحقیق

کیا آپ جانتے ہیں کہ والدین کی صحت اور طویل العمری آپ کے مستقبل کی صحت پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے؟
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جن خاندانوں میں والدین 100 سال یا اس سے زائد عمر پاتے ہیں، ان کے بچے بھی بڑھاپے میں نسبتاً زیادہ صحت مند رہتے ہیں اور کئی عمر سے متعلق بیماریوں کا خطرہ ان میں کم ہوسکتا ہے۔
جاما نیٹ ورک میں شائع ہونے والی تحقیق میں تین مطالعات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا، جن میں مجموعی طور پر 4,030 افراد شامل تھے۔ ان میں 2,319 افراد ایسے تھے جن کے والدین میں سے کم از کم ایک کی عمر 100 سال یا اس سے زائد تھی۔
محققین نے شرکا کی صحت کا جائزہ لیتے ہوئے امراض قلب، کینسر، ہائی بلڈ پریشر اور فالج سمیت عمر بڑھنے کے ساتھ لاحق ہونے والی مختلف بیماریوں کا جائزہ لیا۔
نتائج کے مطابق، جن افراد کے والدین میں سے کسی نے 100 سال یا اس سے زائد عمر پائی تھی، ان میں درمیانی عمر میں موت کا خطرہ 43 فیصد، امراض قلب کا خطرہ 33 فیصد اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 32 فیصد تک کم پایا گیا۔
تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں عمر سے متعلق کئی بیماریوں کا آغاز بھی نسبتاً تاخیر سے ہوتا ہے۔ تاہم والدین کی طویل العمری سے بچوں میں کینسر کے خطرے میں نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی، جبکہ فالج کا خطرہ کسی حد تک کم ہوسکتا ہے۔
محققین نے واضح کیا کہ والدین کا طویل عرصے تک زندہ رہنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ان کے بچے بھی اتنی ہی عمر پائیں گے۔ ان کے مطابق جینیاتی عوامل کے ساتھ خاندانی طرزِ زندگی بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ والدین کی صحت مند غذائی عادات، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور تمباکو نوشی سے گریز جیسی عادات بچوں میں بھی منتقل ہوسکتی ہیں، جس سے ان کی صحت پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔