ناسا کی طاقتور خلائی دوربین ’نینسی گریس رومن‘ خلا میں روانہ، کائنات کے راز کھولنے کا مشن شروع

فلوریڈا: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جدید ترین خلائی دوربین نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ ہوگئی، جہاں یہ تاریک توانائی، بلیک ہولز، کہکشاؤں اور نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں سمیت کائنات کے کئی بڑے رازوں کا مطالعہ کرے گی۔
دوربین کو اتوار کی صبح فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے لانچ کیا گیا۔ لانچ کے تقریباً 30 منٹ بعد رومن ٹیلی اسکوپ راکٹ سے الگ ہوگئی اور زمین سے تقریباً 10 لاکھ میل دور اپنے مشاہداتی مقام کی جانب روانہ ہوگئی۔



ناسا کے مطابق دوربین کو اس مقام تک پہنچنے میں تقریباً 100 دن لگیں گے، جس کے بعد یہ اپنے سائنسی مشن کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔
رومن ٹیلی اسکوپ خلا کے انتہائی وسیع حصے کا بیک وقت مشاہدہ کرسکے گی اور اس کا میدانِ نگاہ ہبل اور جیمز ویب خلائی دوربینوں کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ وسیع ہوگا۔
ناسا کی ایڈمنسٹریٹر نکی فاکس نے کہا کہ رومن دوربین کائنات کو دیکھنے کے انسانوں کے انداز کو تبدیل کردے گی۔ ان کے مطابق دوربین دسیوں ہزار بلکہ ممکنہ طور پر ایک لاکھ نئے ایکسوپلینٹس دریافت کرسکتی ہے۔
رومن دوربین کا ایک اہم مقصد نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کی تلاش اور ان کا مطالعہ کرنا ہے۔ ناسا کے مطابق ان مشاہدات سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ ان دور دراز دنیاؤں میں زندگی کے لیے موزوں حالات موجود ہیں یا نہیں۔
نکی فاکس کا کہنا تھا کہ ناسا کے اہم مقاصد میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ کیا ہم کائنات میں اکیلے ہیں؟
ماہرین کے مطابق رومن دوربین ہماری اپنی کہکشاں میں بھی ہزاروں نئی دنیاؤں کی دریافت میں مدد دے سکتی ہے۔
رومن دوربین کا ایک اہم سائنسی ہدف تاریک مادہ (Dark Matter) اور تاریک توانائی (Dark Energy) کا مطالعہ بھی ہے۔
تاریک مادہ براہِ راست نظر نہیں آتا، لیکن اس کی کششِ ثقل کے اثرات سے اس کی موجودگی کا اندازہ ہوتا ہے، جبکہ تاریک توانائی کو کائنات کے مسلسل پھیلاؤ کا ایک اہم محرک سمجھا جاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق دونوں مل کر کائنات کے تقریباً 95 فیصد حصے کی نمائندگی کرتے ہیں، تاہم ان کی اصل نوعیت اب بھی ایک بڑا سائنسی معمہ ہے۔
رومن دوربین اربوں کہکشاؤں کے نقشے تیار کرنے، بلیک ہولز کا مطالعہ کرنے اور کائنات کی مختلف ادوار میں ساخت اور ارتقا کو سمجھنے میں بھی مدد دے گی۔
اس خلائی دوربین کا نام معروف ماہرِ طبیعیات نینسی گریس رومن کے نام پر رکھا گیا ہے، جو 1960 کی دہائی میں ناسا کی پہلی چیف آسٹرونومر اور ادارے کی پہلی خاتون ایگزیکٹو تھیں۔
رومن نے ہبل خلائی دوربین کے منصوبے کو امریکی کانگریس سے منظوری دلانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث انہیں ’مدر آف ہبل‘ بھی کہا جاتا ہے۔
رومن دوربین کا بنیادی مشن کم از کم پانچ سال پر محیط ہوگا، تاہم اسے تقریباً 10 سال تک فعال رکھنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس دوربین سے حاصل ہونے والے وسیع پیمانے پر ڈیٹا سے کائنات کے ارتقا، کہکشاؤں کی تقسیم، تاریک مادے اور تاریک توانائی کے بارے میں انسانی سمجھ میں نمایاں پیش رفت متوقع ہے۔