نیپال اور تبت میں گلیشیئر پھٹنے سے تباہی، ہلاکتیں 800 سے تجاوز کرگئیں، ہزاروں لاپتا

کٹھمنڈو: نیپال اور چین کے خودمختار علاقے تبت کی سرحد پر گلیشیئر پھٹنے کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 800 سے تجاوز کرگئی، جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ قدرتی آفت کے پانچویں روز بھی متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
بدھ کے روز گلیشیئر کے انہدام کے نتیجے میں برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے پر مشتمل ایک طاقتور ریلہ ہمالیہ کی وادیوں اور دریاؤں میں داخل ہوگیا تھا، جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ شدید بارش، خراب موسم اور دریاؤں میں پانی کی بلند سطح کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق ملک میں سیلاب سے 781 افراد ہلاک اور 2,502 لاپتا ہیں، جبکہ 7,514 افراد کو ریسکیو کیا جاچکا ہے۔ دوسری جانب چین کے گیارونگ کاؤنٹی میں 16 افراد ہلاک اور 546 لاپتا ہیں۔
چینی حکام کے مطابق نیپال کے قریب تبت میں ایک اہم سرحدی گزرگاہ کے نزدیک 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے 261 غیر ملکی شہری بھی لاپتا ہیں۔
ریڈ کراس کے اندازے کے مطابق قدرتی آفت سے 90 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ چینی ماہرین نے سیلاب کو گلیشیئر میں پیدا ہونے والے عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلی کے طویل مدتی اثرات سے جوڑا ہے۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے نیپال کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں اس تباہی کو حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کو متاثر کرنے والی شدید ترین سرحد پار قدرتی آفت قرار دیا۔
پولیس کے مطابق دشوار گزار ہمالیائی علاقہ ریسکیو آپریشن میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حالیہ بارشوں کے باعث تریشولی دریا میں پانی کی سطح مزید بلند ہوگئی، جبکہ تباہی کے نتیجے میں نیپال اور چین کی سرحد پر ایک جھیل بھی بن گئی تھی۔
چینی حکام کے مطابق جھیل کا زیادہ تر پانی خارج ہوچکا تھا، تاہم بعد میں ڈرون نگرانی کے دوران جھیل سے تقریباً 2.8 کلومیٹر نیچے ایک اور لینڈ سلائیڈ کی نشاندہی ہوئی، جس کے نتیجے میں نیا بند اور پانی کا ذخیرہ بن گیا۔
نیپال میں امدادی کارروائیوں کا دائرہ سیلاب سے متاثرہ 5 پن بجلی منصوبوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اپر تریشولی کمپلیکس میں تقریباً 350 افراد کے ایک سرنگ میں پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ریسکیو آپریشن میں تقریباً 20 ہزار نیپالی فوجی چین اور بھارت کی خصوصی ٹیموں کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں، جبکہ چین نے بھی 2,100 سے زائد امدادی کارکن روانہ کیے ہیں۔
نیپالی فوج نے متاثرہ دور دراز مقام پر بھاری مشینری پہنچا دی ہے اور امدادی کارکن سرنگ کے داخلی راستے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ملبہ ہٹانے کے بعد آکسیجن اور کیمروں سے لیس ٹیمیں سرنگ میں داخل ہوں گی۔
حکام کے مطابق سرنگوں میں موجود ملبہ انتہائی زیادہ ہے اور راستہ بنانے کے لیے دھماکا خیز مواد استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
نیپال کی وزارت خارجہ نے سرنگوں میں ریسکیو، ڈی این اے ٹیسٹنگ، لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ اسٹوریج اور فرانزک شناخت کے لیے عالمی برادری سے خصوصی تکنیکی معاونت کی اپیل کی ہے۔
قدرتی آفت کے کئی روز بعد اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں خاندانوں کو ایک اور مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ نیپال کے ضلع چتوان میں سیلاب سے بہہ کر آنے والی سیکڑوں ناقابل شناخت لاشوں کی اجتماعی تدفین شروع کردی گئی ہے۔
حکام کے مطابق لاشوں کے تیزی سے گلنے سڑنے کے باعث عوامی صحت کو لاحق خطرات کے پیش نظر اجتماعی تدفین ضروری ہوگئی ہے۔ ہفتے کو 96 ناقابل شناخت لاشیں دفن کی گئیں جبکہ اتوار کو مزید 100 سے زائد لاشوں کی تدفین کا منصوبہ بنایا گیا۔
حکام لاشوں کے ڈی این اے نمونے اور تدفین کی جگہوں کا ریکارڈ محفوظ کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی شناخت کرسکیں۔
پولیس کے مطابق اب تک ملنے والی نصف سے زائد لاشیں ناقابل شناخت ہوچکی ہیں۔ بعض لاشوں کے چہرے موجود نہیں جبکہ کچھ متاثرین کی باقیات جسم کے مختلف حصوں کی صورت میں ملی ہیں۔
چین نے امدادی سرگرمیوں کے لیے کم از کم 220 ملین چینی یوآن مختص کیے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان فضائی راستے سے پہنچایا جارہا ہے، جبکہ چینی فوجی لاپتا افراد کی تلاش کے لیے زندگی کے آثار کا سراغ لگانے والے خصوصی آلات بھی استعمال کررہے ہیں۔