World

نائن الیون کیس: خالد شیخ محمد کے اعترافی بیانات ناقابلِ قبول قرار

واشنگٹن: امریکی ملٹری جج نے نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے ایف بی آئی اہلکاروں کے سامنے دیے گئے اعترافی بیانات کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔

رپورٹس کے مطابق جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے قرار دیا کہ 2007 میں دیے گئے یہ بیانات رضاکارانہ نہیں تھے اور ان پر اس سے قبل سی آئی اے کی جانب سے کیے گئے تشدد اور تفتیشی طریقوں کا اثر موجود تھا۔

یہ فیصلہ امریکی استغاثہ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ خالد شیخ محمد کے یہ بیانات مقدمے میں اہم شواہد میں شامل تھے۔ اعترافات مسترد ہونے کے بعد نائن الیون کیس کی کارروائی میں مزید تاخیر کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خالد شیخ محمد اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت 5 جون 2028 سے شروع کرنے کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ مقدمہ کئی برس سے قانونی تنازعات اور شواہد کی قابلِ قبولیت کے مسائل کے باعث تاخیر کا شکار ہے۔

خالد شیخ محمد پر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ ان حملوں میں امریکا میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وہ 2003 میں گرفتار ہوئے اور بعد ازاں گوانتانامو بے میں قید رہے۔

نائن الیون کے متاثرین کے خاندانوں کو خدشہ ہے کہ مقدمے میں مزید تاخیر کے باعث انہیں انصاف کے حتمی فیصلے کے لیے مزید انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے