World

ایران جنگ کے 6 ماہ مکمل، 7,900 ہلاکتیں، ہزاروں حملے اور عالمی معیشت پر شدید اثرات

اسلام آباد: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کو 6 ماہ مکمل ہوگئے، تاہم جنگ اب تک کسی فیصلہ کن انجام تک نہیں پہنچ سکی۔ اس دوران جنگ کا دائرہ ایران اور اسرائیل سے بڑھ کر لبنان، خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا، جبکہ عالمی توانائی کی منڈی بھی شدید متاثر ہوئی۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی جانب سے مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے پہلے 6 ماہ کے دوران ایران، اسرائیل، لبنان، خلیجی ممالک اور امریکی فوج میں کم از کم 7,900 افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایران کے 3,527، لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 4,350 اور خلیجی ممالک میں 28 افراد شامل ہیں۔ ایرانی حملوں میں 60 اسرائیلی اور 18 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے، جبکہ 757 امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔

امریکا میں قائم جنگوں کی نگرانی کرنے والے ادارے آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا کے مطابق جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل نے ایران پر 3,580 حملے کیے، جبکہ ایران نے خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں امریکی و اسرائیلی تنصیبات اور اہداف کو کم از کم 2,053 مرتبہ نشانہ بنایا۔

یوں 6 ماہ کے دوران ریکارڈ کیے گئے حملوں کی مجموعی تعداد 5,500 سے تجاوز کرگئی۔

جنگ کا سب سے بڑا عالمی معاشی اثر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں غیر معمولی کمی کی صورت میں سامنے آیا۔

جنگ سے قبل اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 100 یا اس سے زائد تجارتی اور تیل بردار جہاز گزرتے تھے، تاہم جنگ کے دوران یہ تعداد اوسطاً صرف 7 جہاز روزانہ رہ گئی۔

ایران نے 2 مارچ 2026 کو آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی۔ 17 جون کو عبوری معاہدے کے بعد روزانہ گزرنے والے جہازوں کی اوسط تعداد 20 تک پہنچی، تاہم 14 جولائی کو امریکی ناکہ بندی دوبارہ شروع ہونے کے بعد یہ تعداد پھر تقریباً 5 روزانہ رہ گئی۔

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 26 اگست تک آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں سے متعلق 70 مصدقہ حملے یا واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں کم از کم 19 ملاح ہلاک ہوئے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق ایران جنگ پر امریکا کے اخراجات اب تک 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون کا اندرونی تخمینہ 80 سے 100 ارب ڈالر تک ہے، جس میں فوجی اڈوں کی مرمت، تباہ ہونے والے طیاروں کی جگہ نئے طیاروں کی خریداری اور ہتھیاروں کے ذخائر دوبارہ بھرنے کے اخراجات بھی شامل ہیں۔

جنگ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ بھی شدید متاثر ہوئی۔ جنگ شروع ہونے سے قبل برینٹ خام تیل کی قیمت 72.48 ڈالر فی بیرل تھی، جو 30 اپریل کو بڑھ کر 120.88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

بعد میں قیمت میں کمی آئی، تاہم جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔

امریکا کے اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں موجود خام تیل بھی کم ہوکر تقریباً 290 ملین بیرل رہ گیا، جو نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح قرار دیا گیا ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی اسرائیل پر کارروائیوں کے بعد جنگ کے اثرات لبنان تک پھیل گئے۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج لبنان کے بعض علاقوں میں موجود رہی اور حملے بھی جاری رہے۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران اسرائیلی حملوں میں 4,350 افراد ہلاک اور 12,510 زخمی ہوئے۔

ایران جنگ کے سیاسی اثرات امریکا میں بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ رائٹرز اور اِپسوس کے 24 اگست کو مکمل کیے گئے سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری کی شرح 33 فیصد رہ گئی، جبکہ 65 فیصد امریکیوں نے ان کی کارکردگی کو مسترد کیا۔

سروے میں 80 فیصد امریکیوں نے رائے دی کہ ایران میں امریکی مداخلت طویل عرصے تک جاری رہے گی۔

چھ ماہ گزرنے کے باوجود جنگ کے خاتمے کا کوئی مستقل حل سامنے نہیں آسکا۔ انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ توانائی، عالمی تجارت، شپنگ اور معیشت پر پڑنے والے اثرات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ مذاکرات تاحال جنگ کے مستقل خاتمے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے