مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینی اسکولوں میں اسرائیلی نصاب کے نفاذ کے خلاف اساتذہ کی ہڑتال
مقبوضہ مشرقی یروشلم: مقبوضہ مشرقی یروشلم میں نئے تعلیمی سال کا آغاز نجی اور مسیحی اسکولوں کے اساتذہ کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال سے ہوا ہے۔ اساتذہ نے طلبہ کے نصاب میں اسرائیلی مداخلت اور مغربی کنارے سے آنے والے اساتذہ کے داخلے پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقی یروشلم کے فلسطینی اکثریتی میونسپل اسکولوں میں پہلی اور ساتویں جماعت کی تمام نئی کلاسز کے لیے رواں سال صرف اسرائیلی نصاب استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں مقبوضہ مشرقی یروشلم کے تقریباً ایک تہائی فلسطینی طلبہ، جن کی تعداد 45 ہزار سے زائد ہے، اسرائیلی تعلیمی پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کریں گے۔ یہ تعداد چھ سال قبل کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔
یروشلم گورنریٹ کے ترجمان معروف الرفاعی نے فلسطینی اسکولوں میں اسرائیلی نصاب مسلط کرنے کو ’’ثقافتی اور تعلیمی جرم‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یروشلم کے عوام، اساتذہ اور طلبہ کا فلسطینی نصاب پر اصرار محض کتاب سے وابستگی نہیں بلکہ اپنی یادداشت، شناخت، تاریخ اور قومی بیانیہ طے کرنے کے حق کا دفاع ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے حال ہی میں شُعفات پناہ گزین کیمپ اور کفر عقب میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایجنسی (UNRWA) کے زیر انتظام رہنے والے تعلیمی مراکز پر بھی قبضہ کرلیا، جہاں اب اسرائیلی انتظام کے تحت تعلیمی مراکز قائم کیے جائیں گے۔
حماس کے عہدیدار ہارون ناصر الدین نے اپنے بیان میں کہا کہ اسکول، کتاب اور شعور ’’یروشلم کی جدوجہد کے بنیادی ستون‘‘ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی نصاب یا قبضے کی پالیسیوں کے ذریعے یروشلم کی فلسطینی شناخت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
مشرقی یروشلم کے فلسطینی اسکول پہلے ہی اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے سے آنے والے اساتذہ کے شہر میں داخلے میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔
یروشلم میں مسیحی تعلیمی اداروں کی جنرل سیکریٹریٹ نے اس بحران کے خلاف غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
ادارے کے مطابق اسرائیلی حکام نے 70 سے زائد اساتذہ، انتظامی اور معاون عملے کے افراد کے داخلے کے اجازت نامے اچانک تجدید نہیں کیے، حالانکہ جون میں انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ تعلیمی سال کے آغاز کے لیے تمام عملے کے اجازت نامے دستیاب ہوں گے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں عملے کی عدم موجودگی سے تدریسی، انتظامی، طبی، صفائی اور سکیورٹی سمیت اسکول کے مختلف شعبے متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث طلبہ کے لیے تعلیمی سال کا محفوظ اور مستحکم آغاز ممکن نہیں رہا۔
کالج ڈیس فریئرز یروشلم کی ڈپٹی ڈائریکٹر سلویا عامر کے مطابق اسکول کھلنے سے صرف 10 روز قبل درجنوں اجازت ناموں کی اچانک منسوخی کے باعث کلاسز معطل کرنا پڑیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو بتدریج اسکولوں کی تعلیمی اور ثقافتی خودمختاری متاثر ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقی یروشلم کے اسکولوں میں عملے کا بحران فلسطینی تعلیمی اداروں کو متاثر کرنے والی حالیہ اسرائیلی قانون سازی کے باعث بھی مزید سنگین ہوگیا ہے۔
رواں سال اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے اداروں سے تعلیمی ڈگریاں رکھنے والے اساتذہ کو اسرائیلی تعلیمی نظام میں ملازمت دینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقی یروشلم کے تقریباً 6 ہزار 700 عرب اساتذہ میں سے 60 فیصد کے پاس فلسطینی اداروں سے حاصل کردہ ڈگریاں ہیں، جس کے باعث نئی قانون سازی شہر کے تدریسی عملے کی ایک بڑی تعداد کو متاثر کرسکتی ہے۔
یونانی آرتھوڈوکس پیٹریارکیٹ اسکولز کے جنرل ڈائریکٹر مائیک بسام فراج نے کہا کہ اساتذہ کے اجازت ناموں سے انکار اور قانونی رکاوٹیں مسیحی اور نجی اسکولوں پر منظم دباؤ کی مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مغربی کنارے سے آنے والے ملازمین اور اساتذہ کی تعداد کم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکام بجٹ اور مالی معاونت کو بھی تعلیمی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اداروں کو اسرائیلی ’’بیگروٹ‘‘ نصاب اپنانے کے بدلے زیادہ بجٹ اور وسیع سہولیات کی پیشکش کی جاتی ہے۔
فراج کا کہنا تھا کہ فلسطینی اور مسیحی تعلیمی ادارے ان اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے عدالتی راستہ اختیار کر رہے ہیں اور اپنے طلبہ و فارغ التحصیل افراد کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ حکام اور عدالتوں سے رجوع کررہے ہیں۔