World

حماس کی غزہ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت، ’فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی جنگ جاری ہے‘

غزہ: حماس نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فلسطینیوں کے خلاف ’’نسل کشی کی جنگ‘‘ کا تسلسل قرار دیا ہے۔

حماس کے مطابق غزہ میں آج ہونے والے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 5 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

حماس نے اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے حملوں کو ’’جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے منظم اور فسطائی کارروائی‘‘ قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ تازہ حملے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کے خلاف ’’نسل کشی کی جنگ‘‘ جاری ہے اور یہ جنگ بندی معاہدے کے تحت عائد ذمہ داریوں سے دستبرداری کے مترادف ہے۔

حماس کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری صورتحال اب کبھی کبھار ہونے والی خلاف ورزیوں یا الگ تھلگ واقعات تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ منظم جارحیت کی پالیسی اور مختلف شکلوں میں جاری جنگ بن چکی ہے۔

حماس نے جنگ بندی معاہدے کے ثالثوں اور ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف مبینہ اسرائیلی جرائم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

بیان میں ثالثوں پر زور دیا گیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت پر حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں اور اسے بین الاقوامی نگرانی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری پر مجبور کریں۔

حماس نے کہا کہ غزہ میں روزانہ ہونے والے حملوں کے پیش نظر عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی سطح پر، اسرائیل کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے