Pakistan

لیسکو میں انتظامی تبدیلیاں، ریکوری مہم تیز، بدعنوانی کے خلاف کارروائی اور بجلی نظام میں بہتری

لاہور(عمران اسلم) چیف ایگزیکٹو آفیسر لیسکو انجینئر محمد رمضان بٹ کی ہدایات پر ادارے کی انتظامی و آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے، نادہندگان سے ریکوری، بدعنوانی کے خاتمے اور بجلی کی فراہمی مزید مستحکم بنانے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔

ترجمان لیسکو کے مطابق چیف ایگزیکٹو کی ہدایت پر متعدد افسران کے تبادلے اور تعیناتیاں کی گئی ہیں۔ مختلف افسران کو آپریشن، ایم اینڈ ایس، ایم اینڈ ٹی، سپلائی چین، ڈویلپمنٹ اور دیگر شعبوں میں نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جبکہ بعض افسران کی خدمات مختلف سرکلز اور شعبوں کے سپرد کی گئی ہیں۔ عبدالجبار اور رانا منیر احمد کو محکمانہ کارروائی کے حتمی فیصلے سے مشروط کرتے ہوئے عارضی طور پر بحال کیا گیا ہے۔

دوسری جانب لیسکو کی نادہندگان کے خلاف ریکوری مہم بھی تیز کر دی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق اگست 2026 میں کمپنی کے 8 سرکلز میں 1,498 نادہندگان سے مجموعی طور پر 14 کروڑ 79 لاکھ 40 ہزار روپے وصول کیے گئے۔ قصور سرکل 4 کروڑ 95 لاکھ 20 ہزار روپے کی ریکوری کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ سنٹرل، شیخوپورہ، ناردرن، ایسٹرن، سدرن، اوکاڑہ اور ننکانہ سرکلز میں بھی لاکھوں روپے کی وصولیاں کی گئیں۔

لیسکو میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت والٹن سب ڈویژن کے ملازم ثناور بھٹی، ایل ایم-II کو محکمانہ انکوائری کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق کارروائی میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور متعلقہ ملازم کو وضاحت، شوکاز، دفاع اور ذاتی سماعت کا موقع فراہم کیا گیا۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر نے واضح کیا کہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور فرائض میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

بجلی کے ترسیلی نظام کو مزید مستحکم بنانے کے لیے انجینئرز ٹاؤن سب ڈویژن کے ٹی آئی پی-I اور ڈیفنس روڈ-II فیڈرز کو ویلنشیا ٹاؤن گرڈ سے 132 کے وی آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس گرڈ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق نئے گرڈ سے بجلی کی فراہمی زیادہ مستحکم ہونے اور تکنیکی نقصانات میں کمی آنے کی توقع ہے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر لیسکو انجینئر محمد رمضان بٹ نے کہا ہے کہ انتظامی اصلاحات، ریکوری اہداف کے حصول، بدعنوانی کے خاتمے اور بجلی کے نظام میں بہتری کے اقدامات کا مقصد ادارے کی کارکردگی بہتر بنانا اور صارفین کو معیاری، مستحکم اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے