Pakistan

لاہور ہائیکورٹ میں اہم مقدمات، فل کورٹ اجلاس 5 ستمبر کو طلب

رپورٹ: مبشرحسن

لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے 5 ستمبر کو عدالت عالیہ کے تمام ججز کا فل کورٹ اجلاس طلب کرلیا۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس عالیہ نیلم کریں گی، جس میں علاقائی بنچوں پر کام کرنے والے ججز بھی شرکت کریں گے۔ اجلاس میں عدالتی کارروائیوں، زیر التوا مقدمات، ججز کی کارکردگی، ماتحت عدلیہ کو درپیش مسائل، سائلین کو درپیش مشکلات اور کیس مینجمنٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔

دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے محکمہ ٹورازم کے کنٹرولر کی تعیناتی سے متعلق 2025 کے رولز کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب کو تین ماہ میں نئی تعیناتی کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ کنٹرولر ٹورسٹ سروسز کا عہدہ خصوصی نوعیت کا ہے، جس کے لیے متعلقہ تعلیم، تربیت اور تجربہ ضروری ہے۔ صرف پی اے ایس یا پی ایم ایس افسر ہونے کی بنیاد پر تعیناتی کا معیار غیرمنصفانہ ہے۔ عدالت نے حکومت کو واضح اور معقول تعلیمی و تجربے کے معیار پر نئے رولز بنانے اور نئے قواعد کے تحت کنٹرولر کی تعیناتی ازسرنو کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے لیسکو کی آئینی درخواست بھی مسترد کردی اور لیسکو چیف محمد رمضان بٹ کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری ادارے حتمی فیصلہ ہونے کے بعد اجلاس کی کارروائی مستقل طور پر خفیہ نہیں رکھ سکتے۔ عوامی اہمیت کے معاملات میں شہریوں کو معلومات تک رسائی بنیادی حق ہے جبکہ معلومات روکنے کے جواز کو ثابت کرنے کی ذمہ داری عوامی ادارے پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے انفارمیشن کمیشن کا لیسکو کو دس روز میں مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم بھی برقرار رکھا۔

جسٹس جواد حسن نے محکمہ اوقاف کو نئی انارکلی میں دکان ڈی سیل کرنے اور درخواست گزار رخسانہ کو واجبات کا دس فیصد جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ڈی جی اوقاف کو دکان کے کرائے، رقبے، مدت کرایہ داری اور دیگر شرائط کا جائزہ لے کر معاملے کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ بجلی اور گیس کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے، عوام ٹیکسوں پر ٹیکس کہاں سے ادا کریں گے، دکاندار کا کاروبار بند ہو تو وہ کرایہ کیسے ادا کرے گا۔

جسٹس محمد امجد پرویز نے گھٹنے توڑنے کے مقدمے میں نامزد ملزمان ناصر اور عامر کی عبوری ضمانت میں 4 ستمبر تک توسیع کردی۔

لاہور ہائیکورٹ میں مال روڈ پر جماعت اسلامی کے دھرنے کے خلاف درخواست بھی دائر کردی گئی۔ شہری نسیم اختر نے مؤقف اختیار کیا کہ دھرنے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور مرکزی شاہراہ بند ہونے سے ایمبولینسوں کی آمدورفت بھی متاثر ہورہی ہے۔ درخواست میں عدالت سے حکومتی اداروں کو راستہ کلیئر کرانے اور 24 گھنٹوں میں مفصل رپورٹ طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

جسٹس امجد پرویز نے چار بچوں سمیت آٹھ بھٹہ مزدوروں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ ان کی کم عمر لڑکی سے مبینہ زیادتی کی گئی اور بھٹہ مالک مقدمہ واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کے ساتھ دوبارہ اغوا کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق بھٹہ مالک میاں یاسین نے بچوں سمیت مزدوروں کو قید کر رکھا تھا۔

جسٹس وحید خان اور جسٹس عامر عجم ملک نے 1420 گرام چرس کے مقدمے میں گریجویٹ میڈیکل ریپ کی درخواست ضمانت پر مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں، پولیس نے موقع پر کوئی فوٹیج نہیں بنائی اور وہ سات ماہ سے جیل میں قید ہے۔

ادھر جسٹس منور اقبال دوگل نے عمرہ ادائیگی کے لیے جانے سے روکنے کے خلاف درخواست پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کو تین روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ درخواست گزار کی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے خاتون کو بغیر وجہ بتائے جہاز سے آف لوڈ کیا جبکہ اس کے ساتھ جانے والی دیگر خواتین کو سفر کی اجازت دے دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے