سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پی آئی ایم ایس نرسری آتشزدگی کی تحقیقات کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: سینیٹ اور قومی اسمبلی نے جمعہ کو پی آئی ایم ایس نرسری میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کی تحریکیں منظور کرلیں۔
دونوں ایوانوں میں واقعے پر تفصیلی بحث ہوئی، جس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے ذمہ داروں کے تعین، تحقیقات کی رپورٹ عوام کے سامنے لانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
مجوزہ پارلیمانی کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے گی اور کمیٹی آتشزدگی کی وجوہات، ہنگامی ردعمل، ہسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کا جائزہ لے گی۔
سینیٹ میں پیپلزپارٹی کی پارلیمانی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے سانحے کی تحقیقات کے لیے ایوان کی کمیٹی بنانے کی قرارداد پیش کی، جسے منظور کرلیا گیا۔
سینیٹر منظور کاکڑ نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل سینیٹ چیئرمین اور قومی اسمبلی کے اسپیکر مشترکہ طور پر کریں گے۔
بحث کے دوران اپوزیشن ارکان نے حکومت اور پی آئی ایم ایس انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ شیری رحمان نے سوال اٹھایا کہ پی آئی ایم ایس شہریوں کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں، جبکہ انہوں نے ہسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات اور ایمرجنسی راستوں کی صورتحال کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
تحریک انصاف کی سینیٹر فلک ناز چترالی نے وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نومولود بچوں کی میتیں شاپنگ بیگز میں والدین کے حوالے کی گئیں اور خاندانوں کو معاملے پر بات نہ کرنے کا کہا گیا۔
سینیٹر سعدیہ عباسی نے دعویٰ کیا کہ وہ پی آئی ایم ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری کرنے والے بورڈ کا حصہ تھیں اور انہوں نے اس تقرری کی مخالفت کی تھی۔
سینیٹر خرم ذیشان نے وفاقی کابینہ کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اسلام آباد میں موجود ہونے کے باوجود پی آئی ایم ایس کیوں نہیں گئے۔
سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ آتشزدگی کے وقت پی آئی ایم ایس میں الارم سسٹم موجود نہیں تھا اور ذمہ دار افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
سینیٹر شہادت اعوان نے پی آئی ایم ایس کی انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وارڈ کا ہنگامی اخراج کا راستہ بند تھا، جس کے باعث لوگوں کو کھڑکیاں توڑنا پڑیں۔
سینیٹر مشال اعظم نے حکومت کو نومولود بچوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا، جبکہ سینیٹر زرقا سہروردی تیمور نے کہا کہ کسی کو جواب دہ نہ ٹھہرائے جانے سے صحت کا نظام ناکام ہوچکا ہے۔
اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے پی آئی ایم ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سانحے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ اس واقعے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرچکے ہیں اور پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے لیکن اس کے لیے مدت مقرر نہ کی جائے، جبکہ یقین دہانی کرائی کہ پی آئی ایم ایس سانحے کا جو بھی ذمہ دار ثابت ہوا اسے نہیں بخشا جائے گا۔
وزیر صحت نے ملک کے موجودہ صحت کے نظام کو "بوسیدہ” قرار دیتے ہوئے جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تحریک پیش کی، جسے ایوان نے منظور کرلیا۔
تارڑ کے مطابق کمیٹی کی تشکیل سینیٹ چیئرمین سے مشاورت کے بعد اسپیکر کریں گے، جبکہ اسپیکر کو اس کے ٹی او آرز وضع یا ترمیم کرنے اور ضرورت کے مطابق کمیٹی کی تشکیل میں تبدیلی کا اختیار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پی آئی ایم ایس سانحے کو "ٹیسٹ کیس” کے طور پر لے رہی ہے اور جاری تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف ضروری کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
وفاقی وزیر قانون نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف واقعے کے بعد پہلے ہی دو الگ کمیٹیاں قائم کرچکے ہیں۔
پہلی کمیٹی پی آئی ایم ایس آتشزدگی کی تحقیقات کررہی ہے اور اس میں پی آئی ایم ایس یا وزارت صحت کا کوئی عہدیدار شامل نہیں، تاکہ تحقیقات غیر جانب دارانہ انداز میں ہوسکیں۔
دوسری کمیٹی ڈاکٹر اظہر کیانی کی سربراہی میں پی آئی ایم ایس کے مستقبل کے انتظام، بہتری اور طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لے رہی ہے۔ کمیٹی کو ہسپتال کی بہتری کے لیے تجاویز پر مشتمل ورکنگ پیپر 30 روز میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دونوں ایوانوں نے اپنی اپنی تحاریک منظور کرلیں، جس کے بعد سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیئے گئے۔