ایف سی سی کا بڑا فیصلہ: آرٹیکل 187 کے تحت عدالتیں قانون سے ہٹ کر ریلیف نہیں دے سکتیں
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت (FCC) نے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف فراہم کرنے کا اختیار آئین اور قانون کے دائرہ کار میں استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم اسے قانون ساز کی منشا کو ختم کرنے یا لازمی قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت بعض مالکانِ اراضی کو دی گئی اضافی معاوضے کی رقم دیگر زمین مالکان کو دینے کے دعوے سے متعلق مقدمے میں سنایا۔
عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا ایسا زمین مالک، جس نے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی دفعہ 18 کے تحت ریفرنس طلب نہیں کیا اور مقررہ مدت میں کلکٹر کے ایوارڈ کو چیلنج بھی نہیں کیا، بعد میں آئینی اختیار، عملدرآمد کی کارروائی یا کسی دوسری ضمنی کارروائی کے ذریعے دوسرے مالکان کو ملنے والا اضافی معاوضہ حاصل کرسکتا ہے؟
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 187 عدالت کو زیر سماعت معاملے میں مکمل انصاف کے لیے ضروری حکم جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے، تاہم یہ اختیار ضمنی اور طریقہ کار سے متعلق ہے۔ اس کے ذریعے عدالتیں نئے بنیادی حقوق پیدا نہیں کرسکتیں اور نہ ہی لازمی قانونی دفعات کو نظرانداز کرسکتی ہیں۔
44 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 175 عدلیہ کو آئین اور قانون کی مقرر کردہ حدود کے اندر عدالتی اختیار استعمال کرنے کا پابند کرتا ہے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ عدالتی اختیار کی طاقت قانون کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے میں نہیں بلکہ قانون کے متن سے وفاداری میں ہے۔
عدالت کے مطابق اگر کوئی عدالت قانون ساز کی جانب سے استعمال کیے گئے الفاظ سے ہٹ کر ایسا قانونی راستہ فراہم کرے جو پارلیمنٹ نے نہیں دیا تو وہ قانون کی تشریح کے بجائے قانون سازی کے اختیار میں مداخلت کررہی ہوگی، جس سے ریاستی اداروں کے درمیان آئینی توازن متاثر ہوتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ محض ہمدردی کی بنیاد پر کسی فریق کو ایسا حق نہیں دیا جاسکتا جسے قانون ساز نے تسلیم نہیں کیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 18 کے تحت کارروائی میں مقرر کیا گیا اضافی معاوضہ ان زمین مالکان کو خودکار طور پر نہیں دیا جاسکتا جنہوں نے ریفرنس طلب نہیں کیا یا متعلقہ کارروائی کا حصہ نہیں بنے۔
عدالت کے مطابق ایسا حق تسلیم کرنے کے لیے قانون میں موجود خلا کو عدالتی طور پر پُر کرنا ہوگا، جو دراصل قانون سازی کے مترادف ہوگا اور اختیارات کی علیحدگی کے آئینی اصول سے متصادم ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ زمین مالکان کی مشکلات ہمدردی پیدا کرسکتی ہیں، لیکن ہمدردی ایسی قانونی طاقت کا آزاد ذریعہ نہیں بن سکتی جس کی بنیاد قانون میں موجود نہ ہو۔
عدالت نے قرار دیا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 بنیادی طور پر دو طرح کے زمین مالکان کو تسلیم کرتا ہے۔
ایک وہ جو معاوضے کے ایوارڈ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے یا احتجاج کے ساتھ دفعہ 18 کے تحت ریفرنس طلب کرتے ہیں، جبکہ دوسرے وہ جو بغیر احتجاج کے ایوارڈ قبول کرلیتے ہیں، جس کے بعد معاملہ حتمی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
عدالت کے مطابق قانون میں تیسری ایسی کیٹیگری موجود نہیں جس میں کوئی مالک ایوارڈ قبول کرنے کے بعد صرف اس بنیاد پر اضافی معاوضے کا دعویٰ کرسکے کہ کسی دوسرے زمین مالک نے قانونی طریقہ اختیار کرکے زیادہ معاوضہ حاصل کرلیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ایسی تیسری کیٹیگری تسلیم کرنا عدالتی قانون سازی کے مترادف ہوگا اور پارلیمنٹ کے وضع کردہ قانونی نظام کو متاثر کرے گا۔
عدالت نے زور دیا کہ برابری کی آئینی ضمانتوں کو بھی ان قانونی شرائط ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا جو کسی قانونی حق کے حصول کے لیے واضح طور پر مقرر کی گئی ہوں۔
فیصلے کے مطابق اضافی معاوضے کا حق کوئی مستقل یا پیدائشی حق نہیں بلکہ قانون کے تحت حاصل ہونے والا حق ہے، جو دفعہ 18 اور 31 کی شرائط سے منظم ہوتا ہے۔ جب یہ قانونی شرائط پوری کرنے کی مدت ختم ہوجائے تو متعلقہ حق بھی ختم ہوجاتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اصول "Judicis est jus dicere, non-dare” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جج کا کام قانون بیان کرنا ہے، قانون بنانا نہیں۔ اسی طرح "A verbis legis non est recedendum” کے اصول کے تحت عدالتوں کو قانون ساز کے واضح الفاظ سے انحراف نہیں کرنا چاہیے۔
وفاقی آئینی عدالت نے یوں واضح کردیا کہ مکمل انصاف کا اختیار قانون کے تابع ہے اور عدالتیں ہمدردی، مساوات یا انصاف کے اپنے تصور کی بنیاد پر پارلیمنٹ کی جانب سے فراہم نہ کیے گئے قانونی حقوق تخلیق نہیں کرسکتیں۔