ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ’ریاستی دہشت گردی‘ قرار دے دیا، آبنائے ہرمز پر مذاکرات بدستور تعطل کا شکار
دبئی: ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کی گئی نئی اقتصادی پابندیوں کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا، جبکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک میں ایسے اقدامات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو سماجی اتحاد کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران جنگ کو 6 ماہ مکمل ہوچکے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جنہیں واشنگٹن نے "اقتصادی ڈی ڈے” قرار دیا ہے۔
نئی پابندیوں نے پہلے ہی جنگ سے متاثرہ ایرانی معیشت پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح گزشتہ ماہ 66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ آبنائے ہرمز کا تنازع بدستور جنگ کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ممالک امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد سے گریز کرنے کے پابند ہیں۔
وزارت خارجہ نے امریکی اقدامات کو "انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے لاکھوں عام شہریوں کی صحت اور روزگار کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ایران نے دیگر ممالک اور اقوام متحدہ کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک تحریری بیان میں حکام کو ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی ہدایت کی جو سماجی اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔
انہوں نے حکام کو ایسی مایوس کن بیان بازی سے بھی گریز کرنے کا کہا جس سے قومی اور عوامی حوصلہ کمزور ہو۔ ایرانی قیادت کو خدشہ ہے کہ جنگ کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار معیشت پر مزید دباؤ ملک میں احتجاج کو جنم دے سکتا ہے۔
خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا کہ مہنگائی، بے روزگاری، اشیا کی قیمتوں اور مارکیٹ کے انتظام سمیت عوام کو درپیش معاشی اور روزمرہ زندگی کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ مصر کے بینک مصر کی متحدہ عرب امارات میں قائم شاخوں پر ایران کے ساتھ کاروباری معاملات کے باعث پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
مجوزہ اقدام حتمی شکل اختیار کرنے کی صورت میں بینک مصر یو اے ای کو امریکی مالیاتی اداروں کے ذریعے لین دین کی سہولت سے محروم کرسکتا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے الگ سے ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے بینک ملی سے منسلک ایک شخص پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکی دباؤ کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز کررہے ہیں۔ ثالثوں کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر زور دیا جارہا ہے، جو جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی کی ترسیل کا اہم راستہ تھا۔
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کے دوران آبنائے ہرمز میں جنگ سے قبل کی طرح آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر کے ساتھ مذاکرات کو "تخلیقی” قرار دیتے ہوئے امریکا سے فوجی اور معاشی دباؤ ختم کرکے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
عراقچی نے کہا کہ سفارت کاری کو دوبارہ راستے پر لانا ناممکن نہیں، لیکن اس کے لیے امریکا کو ایک سادہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ "دباؤ مؤثر نہیں ہوتا۔”
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد ایران نے دھمکی دی تھی کہ اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں آبنائے سے بحری آمدورفت میں شدید کمی آئی اور عالمی تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے طور پر کھلا رہنا چاہیے، جبکہ ایران نے اسے دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے لیے مختلف شرائط پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے مطابق ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط کی فہرست تیار کررہا ہے۔ ماضی میں ایران کی شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، معاوضہ اور پابندیوں کا خاتمہ شامل رہے ہیں۔
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے بچھائی گئی بحری بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں۔
اگرچہ صدر ٹرمپ بارہا آبنائے ہرمز کو کھلا قرار دے چکے ہیں، تاہم ایرانی دھمکیوں کے باعث متعدد بحری جہاز اب بھی وہاں سے گزرنے سے گریز کررہے ہیں۔
جمعہ کو جاری ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے مطابق جمعرات کو صرف 7 مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 17 تھی اور گزشتہ 10 روز کی اوسط 15 جہاز روزانہ تھی۔
تاہم سفارتی تعطل کے باوجود جمعہ کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے سے تیل کی ترسیل میں بتدریج بہتری کے آثار اور خلیجی خطے میں نئی صورتحال سے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی بڑھتی ہوئی مطابقت اس کمی کی وجوہات میں شامل ہے۔