سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد متفقہ منظور، ایم کیو ایم کا واک آؤٹ
کراچی: سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر چار روز سے جاری بحث اختتام پذیر ہوگئی۔ ایوان نے سندھ کی تقسیم کے خلاف پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، جبکہ ایم کیو ایم اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ سندھ کے منتخب نمائندے کریں گے، سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور صوبے کی تقسیم کی کوئی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔
سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ متعلقہ صوبائی اسمبلی ہی کرسکتی ہے۔ صوبائی وزرا سعید غنی، ضیا لنجار اور فریال تالپور نے بھی سندھ کی تقسیم مسترد کردی۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے، تاہم عوامی مسائل کے حل کے لیے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر بات ہونی چاہیے۔
قرارداد میں سندھ کو ناقابلِ تقسیم قرار دیتے ہوئے صوبے کی موجودہ حدود میں کسی تبدیلی کو مسترد کیا گیا۔ بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو ڈھائی بجے تک ملتوی کردیا گیا۔