PoliticsWorld

فلسطینی نصاب سے ’فلسطین‘ کا نام ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا؟ سابق برطانوی سفیر کا انکشاف

سابق برطانوی سفیر جیریمی گرین اسٹاک نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ ڈالا کہ نصابی کتب سے ’فلسطین‘ کا نام ہٹا کر اس کی جگہ یہودی اصطلاح ’سامریہ‘ شامل کی جائے۔

مشرق وسطیٰ سے متعلق نیوز ویب سائٹ ’مڈل ایسٹ آئی‘ کے مطابق اقوام متحدہ میں 1998 سے 2003 تک برطانیہ کے سفیر رہنے والے جیریمی گرین اسٹاک نے کہا کہ ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی سے کہا کہ اگر وہ ’بورڈ آف پیس‘ کی نظر میں غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی اہل قرار پانا چاہتی ہے تو اسے اپنے تعلیمی نصاب سے ’فلسطین‘ کا نام ختم کرنا ہوگا۔

’ڈیوڈ ہرسٹ پوڈکاسٹ‘ کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں جیریمی گرین اسٹاک نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس مطالبے کو واضح طور پر مسترد کردیا۔

سابق برطانوی سفیر کے مطابق غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظام کی نگرانی کے لیے اپنے نئے کردار میں ٹونی بلیئر کو مشکلات کا سامنا ہے۔

گرین اسٹاک نے کہا کہ فلسطینی تعلیمی نصاب میں اس نوعیت کی تبدیلی کا مطالبہ اس بات پر سوال اٹھاتا ہے کہ ’بورڈ آف پیس‘ کن اصولوں کے تحت کام کر رہا ہے۔

تاہم ٹونی بلیئر کے ترجمان نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ترجمان کے مطابق سابق برطانوی وزیراعظم نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا اور یہ خبر ’’مکمل طور پر جھوٹی اور من گھڑت‘‘ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے