سانحہ پمز: انکوائری رپورٹ میں 10 افسران کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش
اسلام آباد: سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ کی اہم تفصیلات سامنے آگئیں۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز اور متعلقہ عملے سمیت 10 افسران کو عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں متعدد سینئر افسران کو غفلت، کوتاہی اور سنگین لاپرواہی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، جبکہ 5 اعلیٰ افسران کو بھی عہدوں سے فارغ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پمز اسپتال غیر پیشہ ورانہ انداز میں اور مناسب انتظامی ڈھانچے کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی نے ہٹائے جانے والے افسران کی جگہ اہل اور تجربہ کار افراد تعینات کرنے کے ساتھ اسپتال کے لیے مستقل گورننگ بورڈ قائم کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپتال کی مؤثر نگرانی اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے گورننگ بورڈ کا قیام ناگزیر ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 سے زائد بچوں کی موجودگی کی بات کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نرسری میں 15 سے زیادہ بچوں کی گنجائش نہیں تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے بعد ہونے والے دھماکے کی وجہ آکسیجن کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں پمز اسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات کو بھی ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسپتال میں کوئی بھی چیز عالمی معیار کے مطابق نہیں۔
رپورٹ کو پبلک کرنے کا اختیار وزیراعظم کو دیا گیا ہے، جبکہ ذمہ دار افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا حتمی فیصلہ بھی وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق اجلاس لاہور میں طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں تحقیقاتی رپورٹ پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی، جس میں وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور دیگر متعلقہ افسران شرکت کریں گے۔
دوسری جانب وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر کو جامع تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے سے الگ ہونے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
ڈاکٹر عمران سکندر نے میڈیا سے گفتگو سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ انکوائری رپورٹ مکمل ہونے تک میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے۔