9/11 حملہ: سان ڈیاگو کی سابق پراپرٹی مینیجر کی گواہی نے عمر البایومی سے متعلق سوالات اٹھا دیے
واشنگٹن/سان ڈیاگو: 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں سے متعلق امریکی عدالت میں جاری مقدمے میں سعودی شہری عمر البایومی کے کردار کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ سان ڈیاگو کے ایک رہائشی کمپلیکس کی سابق پراپرٹی مینیجر ہولی ریچفورڈ کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی یہ سوچ کر حیران ہیں کہ جس شخص کو وہ ایک خوش مزاج اور دوستانہ خاندانی فرد سمجھتی تھیں، اس پر بعد میں 9/11 حملہ آوروں کی معاونت کا الزام عائد ہوا۔
عمر البایومی ستمبر 1999 میں اپنی فیملی کے ہمراہ سان ڈیاگو کے پارک وُڈ اپارٹمنٹس منتقل ہوا تھا۔ ریچفورڈ کے مطابق وہ رہائشی کمپلیکس میں ہونے والی تقریبات میں باقاعدگی سے شریک ہوتا اور انتہائی دوستانہ رویہ رکھتا تھا۔
فروری 2000 میں البایومی دو سعودی شہریوں نواف الحازمی اور خالد المحضار کو ریچفورڈ کے دفتر لے کر آیا۔ دونوں افراد نے بعد میں 11 ستمبر کے حملوں میں حصہ لیا اور امریکن ایئرلائنز کی پرواز 77 کو ہائی جیک کرکے پینٹاگون سے ٹکرا دیا تھا۔
ریچفورڈ کے مطابق دونوں افراد کے پاس اپارٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ آمدنی یا بینک ریکارڈ موجود نہیں تھا، تاہم البایومی نے ان کی ضمانت دی اور وہ پارک وُڈ میں ایک اپارٹمنٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ دونوں مئی 2000 تک وہاں مقیم رہے۔
ریچفورڈ کا کہنا ہے کہ البایومی کا ان دونوں افراد سے تعلق محض اپارٹمنٹ دلوانے تک محدود نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ تینوں ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے البایومی کو دونوں افراد کی کرائے کی ادائیگی میں مدد کرتے ہوئے بھی دیکھا۔
11 ستمبر کے حملوں کے بعد ایف بی آئی نے ریچفورڈ سے بھی پوچھ گچھ کی۔ ان کی فراہم کردہ دستاویزات نے البایومی اور دونوں ہائی جیکرز کے درمیان تعلق کی تحقیقات میں اہم کردار ادا کیا۔
سابق ایف بی آئی افسر رچرڈ لیمبرٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ البایومی نے الحازمی اور المحضار کو ڈرائیونگ لائسنس، فلائٹ اسکولز، مالی معاونت اور دیگر معاملات میں مدد فراہم کی۔
ایف بی آئی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ سعودی وزارت دفاع سے منسلک دو کمپنیوں کی جانب سے البایومی کو سالانہ تقریباً 90 ہزار ڈالر ادا کیے جاتے تھے، حالانکہ وہ مبینہ طور پر باقاعدہ ملازمت نہیں کرتا تھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق دونوں ہائی جیکرز کے سان ڈیاگو پہنچنے کے بعد اس کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا اور ان کے علاقے سے منتقل ہونے کے بعد دوبارہ کم ہوگئی۔
تاہم البایومی نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔ سعودی عرب بھی 9/11 حملوں میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے اور البایومی کو سعودی انٹیلی جنس کا ایجنٹ قرار دینے سے انکار کرتا ہے۔
9/11 متاثرین کے خاندانوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف دائر اربوں ڈالر کے مقدمے میں نیویارک کی وفاقی عدالت نے گزشتہ سال قرار دیا تھا کہ دستیاب شواہد سے یہ "معقول مفروضہ” قائم ہوتا ہے کہ البایومی اور امریکا میں تعینات ایک سعودی سفارت کار ہائی جیکرز کی مدد کرتے وقت سعودی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری کر رہے تھے۔
عدالت کے اس فیصلے کے بعد متاثرین کے خاندانوں کا مقدمہ آگے بڑھنے کی راہ ہموار ہوئی۔ سعودی عرب نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے، جبکہ کیس پر امریکی اپیل کورٹ میں اکتوبر میں دلائل متوقع ہیں۔
ہولی ریچفورڈ کا کہنا ہے کہ 9/11 کے بعد ان کی زندگی اور لوگوں پر اعتماد کا تصور مکمل طور پر بدل گیا۔ وہ پارک وُڈ اور پراپرٹی مینجمنٹ کی ملازمت چھوڑ کر نسبتاً دور دراز علاقوں میں منتقل ہوگئیں۔
وہ کہتی ہیں کہ آج بھی انہیں یہ سوال پریشان کرتا ہے کہ اگر وہ اس وقت زیادہ محتاط ہوتیں تو کیا وہ کچھ ایسا کرسکتی تھیں جس سے صورتحال مختلف ہوتی۔