کراچی کے ابراہیم حیدری میں لکڑی کی روایتی کشتی سازی کا صدیوں پرانا ہنر آج بھی زندہ

کراچی(ہم شہری) بندرگاہی شہر کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری میں لکڑی پر ہتھوڑے کی ضربوں اور آریوں کی آوازیں آج بھی روایتی کشتی سازی کے قدیم ہنر کی گواہی دیتی ہیں۔ ماہی گیری کے لیے مشہور یہ علاقہ صدیوں پرانا سمجھا جاتا ہے اور روایتی لکڑی کی کشتیوں کی تیاری کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔

پاکستان فشر فوک فورم کے رکن مہران علی شاہ کے مطابق ابراہیم حیدری وہ علاقہ ہے جس نے کراچی کو جنم دیا اور شہر کے ماہی گیری کے شعبے کو بھی فروغ دیا۔
صنعتی سطح پر جدید جہاز سازی کے فروغ کے باوجود ابراہیم حیدری میں لکڑی کے ایک ایک تختے کو ہاتھ سے تراش کر کشتی تیار کرنے کا روایتی فن آج بھی برقرار ہے۔

22 سالہ کشتی ساز محمد آصف نے نوعمری میں اپنے والد سے یہ ہنر سیکھا اور اب وہ خود کشتی سازی کا کام کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس کام سے ہمیشہ دلچسپی اور لگاؤ رہا، اسی لیے انہوں نے اسے اپنا پیشہ منتخب کیا۔
آصف اور دیگر کاریگر روزانہ صبح 7 بجے کام شروع کرتے ہیں اور دو گھنٹے کے دوپہر کے وقفے کے علاوہ مسلسل کام کرتے ہوئے شام 7 بجے گھر واپس جاتے ہیں۔ وہ ہفتے میں چھ دن کام کرتے ہیں اور روزانہ 2 ہزار 500 روپے تک کما لیتے ہیں۔

کشتی سازوں کو پورا سال سخت موسمی حالات کا سامنا رہتا ہے۔ گرمیوں کی شدید گرمی اور حبس کے علاوہ مون سون کی بارشوں میں بھی وہ کھلے آسمان تلے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔
کشتی سازی کا عمل ماہی گیر کی جانب سے کشتی کے ڈیزائن کے انتخاب سے شروع ہوتا ہے۔ ماہر کاریگر پہلے اس کا خاکہ تیار کرتا ہے، جس کے بعد دیگر کاریگر اپنے تجربے اور مہارت کی مدد سے کشتی کی تعمیر شروع کرتے ہیں۔
کاریگر کشتی کی مضبوطی اور سمندری پانی کے اثرات سے مزاحمت کے لیے مختلف اقسام کی لکڑی استعمال کرتے ہیں، جن میں مقامی یوکلپٹس اور افریقی ساگوان کی لکڑی شامل ہے۔
لکڑی کے بھاری تختوں کو ہاتھ سے بنائے گئے پنسل کے نشانات کے مطابق پرانی عمودی اور دیگر آریوں کی مدد سے کاٹا جاتا ہے۔ اس کے بعد کشتی کو زمین سے اوپر کی جانب ایک ایک لکڑی اور کیل جوڑ کر تیار کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے کشتی کا ڈھانچہ بلند ہوتا ہے، کاریگر غیر مستحکم سیڑھیوں کے ذریعے اوپر چڑھ کر کام کرتے ہیں۔
محمد آصف کے مطابق کئی میٹر لمبی ایک چھوٹی کشتی کی تیاری میں بھی تین ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے، جبکہ اس پر تقریباً 10 لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔
کشتی کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اسے رنگوں سے سجانے کا مرحلہ آتا ہے۔ کاریگر محمد اسماعیل گزشتہ ایک دہائی سے کشتیوں کو خوبصورت بنانے کا کام کر رہے ہیں۔ 38 سالہ اسماعیل کشتیوں پر مختلف پھولوں اور ڈیزائنز کی پینٹنگ کرتے ہیں۔

ان کے مطابق زیادہ تر ماہی گیر کشتیوں پر مچھلیوں کے بجائے پھولوں کے ڈیزائن پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کشتی کا مالک ان کے فن پارے کو پسند کرتا ہے تو انہیں بے حد خوشی اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
اسماعیل کے مطابق بعض لوگ انہیں اپنی مرضی سے ڈیزائن بنانے کی آزادی دیتے ہیں، جبکہ کچھ افراد پہلے سے بتا دیتے ہیں کہ وہ کشتی پر کس طرح کا ڈیزائن چاہتے ہیں۔
ابراہیم حیدری کی قریبی بندرگاہ میں ماہی گیر قادر بخش اپنی خاندان کی تقریباً دو دہائیوں پرانی کشتی میں بیٹھ کر مچھلی پکڑنے کے جال کی مرمت کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ جلد ہی اپنی لکڑی کی کشتی کی مرمت اور تزئین و آرائش کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
قادر بخش کے مطابق اپنی کشتی کی دیکھ بھال کسی انتہائی قیمتی چیز کی حفاظت کرنے جیسی ہے، بلکہ یہ اپنے بچے کی پرورش کرنے کے مترادف محسوس ہوتی ہے۔
بشکریہ۔۔۔ ڈان ڈاٹ کام