آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر حملہ، 2 فلپائنی ملاح ہلاک
ریاض: سعودی عرب نے سعودی ملکیت آئل ٹینکر ’سدر‘ کو آبنائے ہرمز میں مبینہ طور پر ایرانی حملے کا نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے، واقعے میں 2 فلپائنی ملاح ہلاک ہوگئے۔
سعودی قومی شپنگ کمپنی بحری نے تصدیق کی ہے کہ اس کا آئل ٹینکر سدر آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک سکیورٹی واقعے میں ملوث ہوا، جس کے نتیجے میں کمپنی کے 2 فلپائنی ملاح جان کی بازی ہار گئے۔
بحری کے مطابق واقعہ پیر کی شب مقامی وقت کے مطابق تقریباً 11 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا۔ کمپنی نے ملاحوں کی ہلاکت پر ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
سمندری سکیورٹی سے متعلق اداروں کے مطابق سدر کو عمان کے جزیرہ نما مسندم کے شمال میں نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔
اسی دوران جنوبی کوریا کی ملکیت والے آئل ٹینکر ’سینیگال پراسپیرٹی‘ کو بھی مسندم کے مشرق میں نامعلوم پروجیکٹائل لگنے کی اطلاع ہے۔
سمندری سکیورٹی ادارے ماریسکس اور کیلپر کے مطابق دونوں ٹینکرز میں سے ہر ایک پر سعودی خام تیل کے تقریباً 20 لاکھ بیرل لدے ہوئے تھے اور دونوں کو چند منٹ کے وقفے سے نشانہ بنایا گیا۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے نے بھی اسی علاقے میں دو واقعات رپورٹ کیے ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ نے سدر کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایران کی کارروائی قرار دیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے اردن، بحرین اور کویت پر حالیہ ایرانی حملوں کی بھی مذمت کی اور کشیدگی روکنے، بین الاقوامی بحری آمدورفت کی سلامتی، عالمی توانائی کی ترسیل اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔
ایران نے تاحال سعودی عرب کے اس الزام پر براہِ راست ردعمل نہیں دیا۔ تاہم ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ دو آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کے کہنے پر ایک ’’غیر قانونی راستے‘‘ سے گزرنے کی کوشش کی اور اس دوران بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکوں کا شکار ہوگئے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق دونوں جہازوں میں آگ لگ گئی، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
آئل ٹینکرز کا واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی حملوں کے بعد ایران نے خطے کے مختلف ممالک میں امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر صحت کے مطابق امریکی حملوں میں 18 افراد ہلاک اور 108 زخمی ہوئے ہیں۔ ایران نے جنوبی شہر سیرک میں ایک شادی کی تقریب پر حملے کو بھی جنگی جرم قرار دیا ہے، جس میں ایرانی حکام کے مطابق 4 افراد ہلاک ہوئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے اور عام حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق پیر کو تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ بیرل تیل آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے ذریعے منتقل ہوا، جو موجودہ جنگ کے آغاز کے بعد ایک دن میں ترسیل کی بلند ترین سطح قرار دی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’’کھلا‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ امریکی فوج جہازوں کو عمان کے قریب جنوبی بحری راستے سے گزرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔