روس کی مبینہ ہائبرڈ کارروائیوں پر نیٹو اور یورپی یونین کا سخت ردعمل
برسلز: نیٹو اور یورپی کمیشن کی قیادت نے روس پر یورپ میں بڑھتی ہوئی مبینہ ہائبرڈ کارروائیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس ’’نئے معمول‘‘ کا جواب پہلے سے زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے جرمنی کے شہر لیپزگ میں ڈرون حملے کے مبینہ واقعے کو یورپی یونین کی سرزمین پر روس کی جانب سے کشیدگی میں اضافے کی نئی مثال قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو روس کی مبینہ کارروائیوں کے مقابلے کے لیے اپنی صلاحیتیں بڑھانا ہوں گی اور زیادہ تیزی سے ردعمل دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ پورا نیٹو اتحاد جرمنی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
جرمن حکام نے گزشتہ ماہ لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کے ناکام منصوبے کا الزام روس پر عائد کیا تھا۔ جرمنی کے مطابق 4 اگست کو دھماکا خیز مواد سے لیس ایک ڈرون نے یوکرین جانے والے ایک کارگو طیارے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم ڈرون کو روبوٹ کی مدد سے ناکارہ بنا دیا گیا۔
ایک دوسرے ڈرون کے ایک کارگو طیارے سے ٹکرانے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر تیسرا ڈرون 10 روز بعد ایئرپورٹ سے ملا۔
جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس تحقیقات اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر روس کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ جرمن وزیر داخلہ کے مطابق ڈرون کی ساخت، اس کے پرزے، دھماکا خیز مواد اور ڈیٹونیٹر روس کی دیگر مبینہ ہائبرڈ کارروائیوں میں استعمال ہونے والے آلات سے مماثلت رکھتے ہیں۔
جرمن حکام کے مطابق واقعے میں دو مشتبہ افراد کی بھی شناخت کی گئی ہے، جن میں ایک بیلاروسی شہری شامل ہے جس کے پاس روسی پاسپورٹ تھا، جبکہ دوسرے کے پاس لٹویا اور روس کے پاسپورٹس تھے۔
روس نے جرمنی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ برلن نے اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ روسی وزارت خارجہ نے جرمنی کے اقدامات کے جواب میں ’’برابر نوعیت‘‘ کی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
جرمنی نے لیپزگ واقعے کے بعد روسی قونصل خانے اور برلن میں روسی ہاؤس نامی ثقافتی ادارے کو بند کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جرمنی کے اقدامات کو سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرمن عوام کے مفادات کے خلاف ہیں۔ روسی نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گروشکو نے جرمنی سے سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے کے امکان کے سوال پر کہا کہ ’’ممکن ہے‘‘، تاہم ان کے مطابق فی الحال سفارت کاری کو موقع دیا جا رہا ہے۔
یورپی حکام نے روس کے خلاف پابندیوں میں مزید سختی پر بھی غور شروع کردیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کے مطابق موجودہ پابندیوں پر عمل درآمد مزید مؤثر بنانے کے طریقوں پر کام جاری ہے۔
کئی یورپی ممالک روسی سیاحوں کے لیے ویزا پابندیاں سخت کرنے اور سابق روسی فوجیوں کے لیے یورپی یونین میں داخلے پر پابندی کی حمایت کر رہے ہیں۔
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو سمیت بعض یورپی وزرائے خارجہ نے روس کے نام نہاد ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کے خلاف بھی مزید اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ یہ اصطلاح ان بحری جہازوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو روسی تیل اور دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یورپی حکام کے مطابق روس کی مبینہ ہائبرڈ سرگرمیوں میں ڈرون واقعات، اہم تنصیبات میں مداخلت اور تخریب کاری کے دیگر واقعات شامل ہیں۔
جرمنی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بجلی کی تنصیبات پر تخریب کاری کے شبہ میں دو واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ پولیس کے مطابق ایک واقعہ مغربی جرمنی کے شہر برگ ہائم میں بجلی کے سب اسٹیشن جبکہ دوسرا مشرقی علاقے میں پیش آیا۔
حکام نے بعض مقامات پر بجلی کی ہائی وولٹیج لائنوں کو نقصان پہنچنے اور دھماکا خیز آلات ملنے کی بھی اطلاع دی ہے۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں غیر ملکی ریاست کی جانب سے تخریب کاری سمیت مختلف امکانات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب پڑوسی ملک پولینڈ میں جنگی ڈرون بنانے والی ایک فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کو بھی حکام نے مبینہ طور پر جان بوجھ کر لگائی گئی آگ اور تخریب کاری قرار دیا ہے۔
ارسولا فان ڈیر لائن نے کہا کہ یورپی یونین روس پر دباؤ مزید بڑھائے گی اور اس کے جنگی اخراجات کے وسائل کو محدود کرنے کے لیے نئی پابندیوں پر غور جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ یورپ اور نیٹو روس پر دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ اسے مزید بڑھائیں گے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک روس یوکرین میں جنگ ختم نہیں کرتا۔