وزیر آباد شہر اور لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان کو بنانے والے فاقہ کش حکیم کی دلچسپ داستان
روحیل اکبر

وزیر آباد اور مسجد وزیر خان کا نام کسی پاکستانی کے لیے اجنبی نہیں لیکن اس شہر اور مسجد کو بسانے اور بنانے والے نواب وزیر خان کے حالات سے شاید بہت کم لوگ آگاہ ہوں گے۔
نواب وزیر خان کا اصل نام علیم الدین انصاری تھا۔ وہ پنجاب کے ایک معمولی سے گاؤں میں جو وزیر آباد کے قریب ہی واقع تھا۔ ایک معمولی درجہ کے حکیم تھے۔ اس گاؤں میں اور بھی حکیم موجود تھے جن کی حکمت حکیم صاحب کے مقابلے میں خوب چلتی تھی۔ اس لیے وہ خوب خوشحال تھے۔حکیم علیم الدین بے حد متقی قناعت پسند، اللہ توکل والے صابر و شاکر آدمی تھے۔ جو کبھی اپنی مسرت اور تنگ دستی اور اپنی ناقدری پر جلتے کڑھتے نہیں تھے بلکہ اسے مولا کی مرضی سمجھتے ہوئے ہر دم اللہ کے شکر گزار بنے رہتے تھے۔ حکیم صاحب کی بیوی اس صورتحال پر ہمیشہ شاکی رہتیں۔ ان سے لڑتی جھگڑتیں اور اکثر ان کی کتابیں اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دیتیں کہ کیا فائدہ تمہاری اس حکمت کا جو گھر کا چولہا بھی نہ جلا سکے۔ نیک دل حکیم صاحب جواباً بیوی سے الجھنے کے انہیں صبر و شکر کی تلقین کرتے۔ اچھے دنوں کی امید دلاتے رہتے تھے۔
ایک مرتبہ حکیم صاحب کے گھر کئی دنوں تک چولھا نہ جلا ان کے خاندان پر فاقے گزرنے لگے اور ان کی بیوی کے طعنے دراز ہوتے گئے تو حکیم صاحب شدید آزردگی کی حالت میں گاؤں کی مسجد میں جا کر بیٹھ گئے۔ وہاں انہوں نے نماز عشا ادا کی اور گھر جانے کے بجائے وہیں رک گئے۔ نماز تہجد کے وقت انہوں نے اٹھ کر وضو کیا۔ نماز ادا کی اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر رونے گڑ گڑانے لگے کہ ” بار الہی ! میری ایسی ناقدری کیوں ہورہی ہے؟ میں ایسی قدر ناشناسی کا شکار کیوں ہوں ؟ ” نماز فجر تک حکیم صاحب اسی طرح اللہ کے حضور روتے گڑگڑاتے اور اس سے اس کے فضل و کرم کی بھیک مانگتے رہے۔ پھر جب انہوں نے سجدہ سے سر اٹھایا تو سجدے کی جگہ ان کے آنسوؤں سے بھیگ چکی تھی۔ ان کا دل بے حد مطمئن اور ایک طرح کا روحانی سکون محسوس کر رہا تھا۔ اس دوران میں دوسرے نمازی بھی مسجد میں آنا شروع ہوچکے تھے۔ حکیم صاحب نے ان کے ساتھ نماز فجر ادا کی اور گھر آگئے۔ انہوں نے سوچا تھوڑی دیر سولوں پھر جا کر اپنا مطب کھولوں گا۔ لیکن اس وقت گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ انہوں نے جاکر دروازہ کھولا تو باہر ایک سپاہی کو کھڑے پایا۔ اس نے ان سے کہا کہ ان کے لشکر کا سالار شدید پیٹ درد میں مبتلا ہے وہ چل کر اسے دیکھ لیں۔ حکیم صاحب نے ضروری دوائیاں ساتھ لیں اور سپاہی کے ہمراہ لشکر گاہ پہنچ گئے۔ سالار اپنے خیمے میں بستر پر پڑا بری طرح سے درد سے تڑپ رہا تھا۔ حکیم صاحب نے اسے اپنی دوا استعمال کروائی۔ تھوڑی دیر میں اس کی حالت سنبھلنی شروع ہوگئی۔ یہاں تک کہ اس کا درد جاتا رہا اور وہ بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس نے حکیم صاحب کا شکریہ ادا کرنے اور ان کی حکمت کو سراہنے کے ساتھ انہیں اشرفیوں کی ایک تھیلی بھی دی۔
حکیم صاحب اللہ کی اس مہربانی پر ممنون و مشکور مسرور و شاداں اپنے گھر واپس آگئے۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو تمام قصہ سنایا اور انہیں اشرفیوں کی تھیلی دکھائی اور کہا کہ انہیں اپنا گاؤں چھوڑ کر کسی بڑے شہر چلے جانا چاہیے وہاں وہ اپنا مطب کھول لیں گے ممکن ہے وہاں ان کی حکمت خوب چل نکل لے ان کی بیوی نے ان کی اس تجویز کو پسند کیا۔ چنانچہ یہ طے ہوا کہ چنددنوں بعد وہ رخت سفر باندھ کر کسی بڑے شہر روانہ ہوجائیں لیکن اسی شام لشکر کے سالار کی طرف سے ایک سپاہی اس کا پیغام لے کر پہنچ گیا کہ حکیم صاحب فوراً اپنا رخت سفر باندھ لیں اور اپنے خاندان کے ساتھ لشکر کے ہمراہ دارالحکومت آگرہ چلنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ حکیم صاحب اور ان کے اہل خانہ فوراً ہی تیار ہو کر لشکر سے جا ملے اور اس کے ہمراہ آگرہ روانہ ہوگئے۔
راستے بھر حکیم صاحب سالار کی دی ہوئی اشرفیوں سے آگرہ میں اپنا مطب قائم کرنے کے طرح طرح کے منصوبے سوچتے رہے انہوں نے فیصلہ کیا کہ آگرہ جا کر وہ جس مکان میں رہائش اختیار کریں گے اسی کے ایک حصے میں اپنی دکان حکمت کھول لیں گے ان کی یہ دکان رفتہ رفتہ ترقی کرتی جائے گی لیکن اب رحمت خداوندی پوری طرح جوش میں آچکی تھی۔ حکیم صاحب کی اللہ کی سجدہ ریزی اور گریہ و زاری نے عرش الٰہی کو ہلا دیا تھا ! جونہی یہ لشکر آگرہ پہنچا انہیں اطلاع ملی کہ نور جہاں بیگم شدید بیمار اور کئی دنوں سے ہلنے جلنے چلنے پھرنے سے معذور بستر پر پڑی ہیں۔ شاہی اطبا اور دیگر حکما کی دوائیں اور تدبیریں کوئی کام نہیں کر رہیں یہ اطلاع پاتے ہی نووارد لشکر کا سالار شہنشاہ جہانگیر کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اسے حکیم علیم الدین انصاری کے بارے میں بتایا۔
شہنشاہ جہانگیر نے جب حکیم علیم الدین انصاری کے بارے میں سنا تو فوراً انہیں شاہی محل میں حاضر کرنے کا حکم دیا۔ حکیم صاحب کو دربار میں پیش کیا گیا تو بادشاہ نے انہیں ملکہ نور جہاں کی بیماری کی کیفیت بتائی اور کہا کہ شاہی اطبا ہر ممکن کوشش کر چکے ہیں، مگر ملکہ کی طبیعت میں کوئی بہتری نہیں آ رہی۔ اب تم اپنی حکمت آزماؤ اور ملکہ کو صحت یاب کرنے کی کوشش کرو۔
حکیم علیم الدین انصاری نے بادشاہ کی بات توجہ سے سنی اور ملکہ کی علالت کی تفصیلات معلوم کرنے کے بعد ان کے علاج کا ارادہ کیا۔ انہوں نے ملکہ نور جہاں کا معائنہ کیا ان کی نبض دیکھی اور بیماری کی کیفیت سمجھنے کے لیے چند سوالات کیے پھر اپنی حکمت کے مطابق علاج شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی تجویز کردہ دوا نے اثر دکھایا اور ملکہ نور جہاں کی طبیعت رفتہ رفتہ بہتر ہونے لگی چند روز میں وہ صحت یاب ہو گئیں۔
ملکہ کی صحت یابی پر شہنشاہ جہانگیر بے حد خوش ہوا اس نے حکیم علیم الدین انصاری کی حکمت اور قابلیت کو سراہا اور انہیں انعام و اکرام سے نوازنے کا فیصلہ کیا۔ بادشاہ نے انہیں شاہی دربار میں ایک اہم منصب عطا کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں عزت و احترام سے نوازا۔ یوں ایک معمولی گاؤں میں حکمت کرنے والا شخص اپنی قابلیت، محنت اور قسمت کے بل پر مغلیہ سلطنت کے اہم افراد میں شمار ہونے لگا۔
وقت گزرتا گیا اور حکیم علیم الدین انصاری کی حیثیت و مرتبہ بڑھتا چلا گیا۔ وہ شاہی دربار میں وزیر کے منصب تک پہنچے اور اسی نسبت سے نواب وزیر خان کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی زندگی نے ایک ایسا رخ اختیار کیا جس کا تصور شاید انہوں نے اپنے تنگ و تاریک مطب میں بیٹھ کر کبھی نہ کیا ہو گا۔
نواب وزیر خان نے دولت اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنی جائے پیدائش اور اپنے علاقے کو فراموش نہیں کیا انہوں نے اپنے علاقے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مختلف اقدامات کیے ان سے منسوب وزیر آباد شہر وقت کے ساتھ آباد ہوتا گیا اور پنجاب میں اپنی الگ شناخت بنانے لگا۔
اسی طرح لاہور میں ان کا تعمیر کردہ شاہکار مسجد وزیر خان آج بھی مغلیہ دور کی فن تعمیر کا ایک بے مثال نمونہ سمجھا جاتا ہے یہ مسجد شاہی دور کی مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی زندگی کی عکاسی کرتی ہے اس کی دلکش ٹائلوں، رنگین نقش و نگار، خطاطی اور خوب صورت طرز تعمیر نے اسے لاہور کی تاریخی عمارتوں میں ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے۔
لاہور کے اندرون شہر میں واقع مسجد وزیر خان کی تعمیر شاہجہان کے عہد میں شروع ہوئی اور یہ مغلیہ طرز تعمیر کی اہم یادگاروں میں شمار ہوتی ہے اس کے صحن، محرابوں، میناروں اور دیواروں پر کی گئی نفیس آرائش دیکھنے والوں کو ماضی کے ایک شاندار دور میں لے جاتی ہے۔
نواب وزیر خان کی زندگی کا یہ قصہ ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے کہ انسان کے حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی وہ وقت بھی آتا ہے جب ایک شخص کی قابلیت کی قدر نہیں ہوتی اس کے گھر میں فاقے ہوتے ہیں اور اس کی محنت کو نظرانداز کیا جاتا ہے لیکن حالات بدلنے میں دیر نہیں لگتی البتہ اس تبدیلی کے پیچھے محنت، صلاحیت، مواقع اور حالات کا بھی اپنا کردار ہوتا ہے۔
حکیم علیم الدین انصاری کی کہانی کا سب سے متاثر کن پہلو ان کی جدوجہد اور صبر ہے ایک عام حکیم سے شاہی منصب تک کا سفر اس بات کی علامت ہے کہ انسان کو نامساعد حالات میں بھی اپنی صلاحیتوں سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔
آج وزیر آباد کا نام ایک شہر کے طور پر اور مسجد وزیر خان کا نام لاہور کی تاریخی شناخت کے طور پر زندہ ہے مگر ان ناموں کے پیچھے چھپی شخصیت کی زندگی بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔