column and articlePakistan

چھاتی کا سرطان خاموشی توڑیں، زندگی بچائیں

میری بات/روہیل اکبر

پاکستان میں ہر نویں خاتون کو زندگی میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ ہے بروقت تشخیص اور علاج سے بچاؤ ممکن ہے اکتوبر کا مہینہ دنیا بھر میں چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے جسے پنک ٹوبر (PINKtober) بھی کہا جاتا ہے جبکہ 19 اکتوبر کو عالمی سطح پر چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف گلابی ربن پہننا، عمارتوں کو گلابی روشنیوں سے سجانا یا سیمینار منعقد کرنا نہیں، بلکہ خواتین کو اس خطرناک بیماری کے بارے میں آگاہ کرنا، بروقت تشخیص کی اہمیت اجاگر کرنا اور ان ہزاروں خاندانوں کو امید دلانا ہے جو اس مرض سے متاثر ہوتے ہیں پاکستان میں چھاتی کا سرطان خواتین میں پائے جانے والے عام سرطانوں میں سرفہرست ہے سرکاری سطح پر جاری ہونے والی آگاہی معلومات کے مطابق پاکستان میں ہر نویں خاتون کو زندگی میں کسی مرحلے پر اس بیماری کا سامنا ہونے کا خطرہ بتایا جاتا ہے یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ اس کے پیچھے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کی زندگیاں، ان کے خاندانوں کی خوشیاں اور بچوں کے مستقبل وابستہ ہیں عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) کی گلوبوکن 2022 رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے نئے کیسز کی عمر کے لحاظ سے معیاری شرح تقریباً 34.2 فی ایک لاکھ خواتین سالانہ ہے اسی تخمینے میں اموات کی معیاری شرح 18.6 فی ایک لاکھ خواتین سالانہ بتائی گئی ہے۔ یہ شرحیں آبادی کی عمر کے فرق کو مدنظر رکھ کر نکالی جاتی ہیں اس لیے انہیں براہِ راست پاکستان کی خواتین میں مجموعی فیصد نہیں سمجھنا چاہیے یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ چھاتی کا سرطان پاکستان کے لیے ایک بڑا صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بہت سی خواتین بیماری کی ابتدائی علامات کو نظرانداز کرتی ہیں یا معاشرتی جھجک، خوف، مالی مشکلات اور علاج کی سہولتوں تک محدود رسائی کی وجہ سے ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں تاخیر کر دیتی ہیں ہمارے معاشرے میں جسمانی صحت کے بعض معاملات پر بات کرنے کو آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ چھاتی کے سرطان کے حوالے سے بھی یہی رویہ کئی خواتین کو خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ بعض خواتین کسی غیر معمولی تبدیلی کو محسوس کرنے کے باوجود گھر والوں کو نہیں بتاتیں جبکہ کچھ کو یہ خوف ہوتا ہے کہ کہیں بیماری کی تشخیص ان کی زندگی، ازدواجی تعلقات یا خاندانی ذمہ داریوں کو متاثر نہ کر دے یاد رکھنا چاہیے کہ سرطان کوئی شرمندگی نہیں ایک بیماری ہے جس کا علاج ممکن ہے اس پر بات کرنا، علامات کو سمجھنا اور بروقت طبی مشورہ لینا کمزوری نہیں بلکہ دانش مندی ہے خاندانوں کو چاہیے کہ وہ متاثرہ خواتین کو تنہا چھوڑنے کے بجائے ان کی ہمت بڑھائیں، علاج میں تعاون کریں اور انہیں معاشرتی طعنوں سے محفوظ رکھیں۔چھاتی میں نئی گلٹی یا سختی، چھاتی کی ساخت یا سائز میں غیر معمولی تبدیلی، جلد پر گڑھے پڑنا یا جلد کا سکڑنا، نپل کا اندر کی طرف دھنسنا، نپل سے غیر معمولی رطوبت خصوصاً خون آنا، یا بغل میں گلٹی محسوس ہونا ایسی علامات ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے یہ ضروری نہیں کہ ہر گلٹی یا تبدیلی سرطان ہی ہو، لیکن اس کی درست وجہ جاننے کے لیے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔ درد نہ ہونے کا مطلب بھی یہ نہیں کہ بیماری موجود نہیں۔ اسی طرح کسی علامت کی عدم موجودگی سرطان کو مکمل طور پر خارج نہیں کرتی۔خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی چھاتی کی معمول کی ساخت سے واقف رہیں اور کسی نئی یا غیر معمولی تبدیلی پر جلد طبی مشورہ لیں خود معائنہ آگاہی اور تبدیلی محسوس کرنے میں مدد دے سکتا ہے مگر یہ ڈاکٹر کے معائنے یا تجویز کردہ اسکریننگ کا متبادل نہیں ہے۔چھاتی کے سرطان کے علاج میں سب سے اہم عوامل میں سے ایک یہ ہے کہ بیماری کس مرحلے پر تشخیص ہوتی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے پر علاج کے نتائج عموماً بہتر ہوتے ہیں اور صحت یابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔عمر، خاندانی تاریخ اور دیگر طبی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر کلینیکل معائنہ، میموگرافی یا دیگر ضروری ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں۔ ہر خاتون کے لیے اسکریننگ کا ایک ہی طریقہ یا عمر مقرر کرنا مناسب نہیں اس لیے متعلقہ طبی ماہر سے مشورہ ضروری ہے۔اگر خاندان میں چھاتی یا بیضہ دانی کے سرطان کی تاریخ موجود ہو تو ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں تاہم یہ خیال درست نہیں کہ صرف خاندانی تاریخ رکھنے والی خواتین ہی اس بیماری کا شکار ہو سکتی ہیں۔ بہت سی خواتین میں خاندان میں پہلے کسی کو یہ بیماری نہیں ہوتی پھر بھی انہیں سرطان تشخیص ہو سکتا ہے۔پاکستان میں چھاتی کے سرطان کے خلاف آگاہی مہمات، طبی مراکز میں تشخیصی سہولتوں، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تربیت اور مفت یا رعایتی طبی خدمات کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔ اکتوبر میں پنک ٹوبر مہم کے تحت تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام کو آگاہ کرنے کی کوششیں بھی ہوتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیغام پاکستان کے ہر گاؤں، ہر قصبے اور ہر غریب گھرانے تک پہنچ رہا ہے؟ کیا دیہی علاقوں کی خواتین کو مناسب وقت پر میموگرافی، بایوپسی، پیتھالوجی اور سرطان کے ماہرین تک رسائی حاصل ہے؟ کیا ایک غریب خاتون تشخیص کے بعد ادویات، آپریشن، کیموتھراپی یا ریڈیوتھراپی کے اخراجات برداشت کر سکتی ہے؟حکومت کو چاہیے کہ آگاہی مہمات کو صرف اکتوبر تک محدود نہ رکھے، بلکہ بنیادی صحت کے مراکز اور ضلعی ہسپتالوں میں مستقل آگاہی، بروقت ریفرل، تشخیص اور علاج کے مربوط نظام کو مضبوط بنائے۔ مستحق مریضوں کے لیے مالی معاونت، معیاری ادویات اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔ سرطان کے مریضوں کے درست قومی اعداد و شمار جمع کرنے کا نظام بھی ضروری ہے تاکہ پالیسیوں کو حقیقی ضرورت کے مطابق بنایا جا سکے ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بیماری پر سنجیدہ، مستند اور مسلسل آگاہی فراہم کریں۔ ٹیلی ویژن پروگراموں، ریڈیو نشریات، اخبارات، سوشل میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے خواتین کو علامات، تشخیص اور علاج کے بارے میں درست معلومات دی جا سکتی ہیں والدین اپنی بیٹیوں کو صحت سے متعلق آگاہی دیں، شوہر اپنی بیویوں کی طبی ضروریات کو اہمیت دیں اور خاندان کے افراد کسی خاتون کی بیماری کو چھپانے یا اس پر شرمندہ ہونے کے بجائے اس کا ساتھ دیں۔ مردوں کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اگرچہ چھاتی کا سرطان خواتین میں کہیں زیادہ عام ہے لیکن مرد بھی اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں صحت مند طرزِ زندگی، جسمانی سرگرمی، وزن کو مناسب حد میں رکھنا اور تمباکو نوشی سے اجتناب مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں، تاہم ان اقدامات سے سرطان کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ اسی لیے آگاہی اور بروقت طبی تشخیص کی اہمیت برقرار رہتی ہے چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا عالمی دن ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کی صحت کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ گلابی ربن کی اصل اہمیت تب ہے جب اس کے ساتھ آگاہی، ہمدردی، بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت بھی موجود ہو پاکستان میں کسی خاتون کو محض خوف، شرم، غربت یا سہولتوں کی کمی کی وجہ سے علاج سے محروم نہیں رہنا چاہیے ایک بروقت معائنہ ایک درست تشخیص اور علاج تک رسائی کسی خاندان کو بکھرنے سے بچا سکتی ہے آج عہد کریں کہ ہم اس بیماری کے بارے میں خاموشی نہیں اختیار کریں گے غلط فہمیوں کو فروغ نہیں دیں گے اور متاثرہ خواتین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ حکومت، طبی اداروں، میڈیا، سماجی تنظیموں اور عوام کو مل کر ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں ہر خاتون اپنی صحت کے بارے میں بلاجھجک بات کر سکے اور اسے بروقت علاج میسر ہو کیونکہ سرطان کے خلاف جنگ میں آگاہی پہلا قدم ہے بروقت تشخیص امید کی کرن ہے اور علاج تک رسائی زندگی بچانے کا راستہ ہے۔(تحریر۔روہیل اکبر 03004821200 )

جواب دیں