PakistanPolitics
Trending

عمران خان کیلئے لندن سے ڈاکٹر بلوایا گیا ،تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے 5 اضلاع میں ایمرجنسی کیلئے تیار تھی : رانا ثناء اللہ

ہم نے کبھی نہیں چاہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ دشمنی والا تعلق ہو: مشیر وزیراعظم

اسلام آباد(این ایل آئی)وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ پی ٹی آئی کو کہا تھا لانگ مارچ ختم کریں،پھربانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہو جائے گی، بانی پی ٹی آئی کیلئے لندن سے ڈاکٹر بلوایا گیا تھا، قانون کے مطابق لندن سے بانی پی ٹی آئی کیلئے ڈاکٹر بلوایاگیا،بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال بھیجنا کسی کی ضدنہیں تھی، پی ٹی آئی کے پی کے 5 اضلاع میں ایمرجنسی کیلئے تیار تھی۔وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر دہشتگردی کی جنگ مسلط کرنے میں بھارت،اسرائیل اور افغانستان کا ہاتھ ہے، دہشتگردی پر پالیسی بنانا وفاقی حکومت کا استحقاق ہے، تمام اداروں کا فرض ہے کہ دہشتگردی کیخلاف وفاق کے ساتھ کھڑے ہوں.راناثنااللہ کا کہناتھا کہ پی ٹی آئی معاہدہ کر لیتی تو ٹھیک تھا، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ناکام ہے،کل یہ نکلےتو3،4ہزارلوگ تھے، لکی مروت میں 10 افراد اکٹھے نہیں بیٹھتے کہ حملہ نہ ہوجائے، ملک کو دہشتگردی سے نجات دلائیں گے، ہم چاہتے تھے پی ٹی آئی دہشتگردی کیخلاف کردار ادا کرے،اس لئے مذاکرات کئے، خیبرپختونخوا حکومت کو اندر کھاتے تبدیل نہیں کرانا چاہتے، مولانافضل الرحمان کی اہمیت ہے،انہیں اعتماد میں لیناچاہیے۔مشیر وزیراعظم کا کہناتھا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد پہنچنےکی پوزیشن میں نہیں، لانگ مارچ کا لکی مروت سے چلتے ہوئے کل جو حال تھا آج بھی وہی ہے، لاکھ کی جگہ 2 ہزار بھی نہ ہوں تو انہوں نے اسلام آباد آ کر کیا کرنا ہے؟ پی ٹی آئی کو کہا تھا جیل مینوئل کے مطابق بانی سے ملاقاتیں شروع ہو جائیں گی، تحریک انصاف کو بتایا گیابانی پی ٹی آئی کو علاج کی بہترین سہولیات دی جارہی ہیں، ڈرافٹ فائنل کرنے بعد پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کے علاوہ محموداچکزئی و دیگر سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو کہا تھا لانگ مارچ ختم کریں،پھربانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہو جائے گی، بانی پی ٹی آئی کیلئے لندن سے ڈاکٹر بلوایا گیا تھا، قانون کے مطابق لندن سے بانی پی ٹی آئی کیلئے ڈاکٹر بلوایاگیا،بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال بھیجنا کسی کی ضدنہیں تھی،پی ٹی آئی کے پی کے 5 اضلاع میں ایمرجنسی کیلئے تیار تھی، مذاکرات سے پہلے پی ٹی آئی سے ہمارے رابطے تھے،اب بھی ہیں، پی ٹی آئی کےبعض لوگوں سے اچھا تعلق ہے۔ان کا کہناتھا کہ ہم نے کبھی نہیں چاہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ دشمنی والا تعلق ہو، پی ٹی آئی سے مذاکرات کا فیصلہ صدر اور وزیراعظم کا مشترکہ فیصلہ تھا، ےپی حکومت جن کاموں میں لگی ہے،ان میں ہی لگی رہتی ہے تو لازم ہے ایمرجنسی لگائی جائے، کےپی حکومت آئینی ذمہ داری پوری نبھائے تواس سے اچھی بات نہیں ہوگی، پیپلزپارٹی مکمل طور پر آن بورڈہے، بلاول بھٹو کا بیان تھا مذاکرات شروع کرنے سے پہلے لانگ مارچ ختم کروائیں، ہم نے کہا ٹھیک ہے بیٹھتے ہیں باقی چیزیں طے ہوں گی تو لانگ مارچ کا معاملہ بھی طے ہو جائے گا۔ 

 

جواب دیں