column and article

25 ستمبر — مطالعۂ اخبارات کا قومی دن

میری بات/روہیل اکبر

کبھی صبح کا آغاز موبائل کی گھنٹی سے نہیں بلکہ اخبار کے دروازے پر گرنے کی آواز سے ہوا کرتا تھا۔ گھر میں اخبار آتا تو سب سے پہلے اسے اٹھانے کی خواہش ہوتی، کوئی سرخیاں دیکھتا، کوئی اداریہ پڑھتا، کوئی کھیلوں کے صفحات کھول لیتا اور کوئی اپنے شہر کی خبر تلاش کرتا۔ ناشتے کی میز پر چائے کے ساتھ اخبار بھی لازم ہوتا تھا۔ محلے کی دکان، چائے کا ہوٹل، دفتر، اسکول، کالج اور لائبریری ہر جگہ اخبار ایک خاموش مگر بااثر ساتھی کی طرح موجود ہوتا تھا پھر زمانہ بدلا، موبائل آیا، انٹرنیٹ آیا، ٹیلی ویژن کے چینل بڑھے اور سوشل میڈیا نے خبر کو چند سیکنڈ کا معاملہ بنا دیا۔ اب خبر ہمارے پاس خود چل کر آتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خبر کے ساتھ حقیقت بھی ہمارے پاس آ رہی ہے؟ 25 ستمبر مطالعۂ اخبارات کا قومی دن بھی ایسا ہی ایک دن ہے جو ہمیں اخبار، صحافت، صحافی اور سب سے بڑھ کر مطالعے کی اس خوبصورت روایت کی طرف واپس بلاتا ہے جس نے نسلوں کو شعور دیا اخبار صرف چند صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتا یہ دراصل قوم کی روزانہ لکھی جانے والی تاریخ، معاشرے کا آئینہ اور عوام کی آواز ہوتا ہے صبح جب اخبار دروازے پر آتا ہے تو اس کے ساتھ صرف کاغذ نہیں آتا بلکہ ملک بھر کے شہروں، گلیوں، بازاروں، ایوانوں، عدالتوں، تعلیمی اداروں، کھیل کے میدانوں اور دنیا کے دور دراز خطوں کی خبریں ہمارے گھر تک پہنچتی ہیں کوئی خبر خوشی دیتی ہے، کوئی پریشان کرتی ہے، کوئی سوال اٹھاتی ہے اور کوئی ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے آج موبائل فون نے اس روایت کو کافی حد تک بدل دیا ہے مگر اخبار کی اہمیت ختم نہیں ہوئی بلکہ ایسے دور میں ذمہ دار اور معیاری صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے دنیا بھر میں تاریخ کے مختلف ادوار میں اخبارات نے شعور و آگاہی کے فروغ، رائے عامہ کی تشکیل اور عوام کو مستند معلومات اور مختلف نقطۂ نظر تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے برصغیر کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں اخبارات نے کس قدر اہم کردار ادا کیا تحریکِ آزادی کے دوران اخبارات برصغیر کے مسلمانوں کی مؤثر آواز بنے، سیاسی شعور بیدار کیا، اتحاد پیدا کیا اور مسلمانوں کو اپنے حقوق اور مستقبل کے بارے میں سوچنے کا موقع دیا اس لیے صحافت کو محض خبر رسانی کا شعبہ کہنا اس کے کردار کو محدود کرنا ہوگاحقیقت میں صحافت معاشرے کے ضمیر کو جگانے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے قیامِ پاکستان کے بعد بھی اخبارات نے قومی زندگی کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی پہلوؤں کی بھرپور عکاسی کی جمہوریت کے استحکام، شفافیت کے فروغ اور قومی و بین الاقوامی اہمیت کے معاملات سے عوام کو باخبر رکھنے میں صحافت نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں اس سارے عمل کے پیچھے وہ لوگ بھی ہیں جن کا ذکر اکثر خبروں کی چمک دمک میں کہیں پیچھے رہ جاتا ہے وہ رپورٹر جو خبر کے لیے دھوپ، بارش اور رات کی پروا نہیں کرتا وہ فوٹوگرافر جو ایک لمحے کو محفوظ کرنے کے لیے ہجوم میں اپنا راستہ بناتا ہے وہ سب ایڈیٹر جو رات گئے تک ایک ایک لفظ کو درست کرنے میں مصروف رہتا ہے وہ مدیر جو اخبار کے ہر صفحے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھاتا ہے وہ پریس ورکر جو رات کے آخری پہر تک مشینوں کی آواز میں اخبار کی تیاری مکمل کرتا ہے اور پھر وہ اخبار فروش، جو صبح سویرے لوگوں کے گھروں تک وہ اخبار پہنچاتا ہے جسے تیار کرنے میں پوری رات ایک ٹیم جاگتی ہے یہ سب صحافت کے اس عظیم سفر کے خاموش کردار ہیں جب ہم اخبار پڑھتے ہیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے ہاتھ میں آنے والے اخبار کے پیچھے کتنے لوگوں کی محنت، وقت اور قربانی شامل ہوتی ہے دورِ حاضر میں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا نے خبروں تک رسائی کے طریقے ضرور بدل دیے ہیں اب خبر چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے لیکن رفتار ہمیشہ صداقت کی ضمانت نہیں ہوتی سوشل میڈیا خبر کو تیز بنا سکتا ہے مگر تحقیق اسے معتبر بناتی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں اخبارات کی اہمیت دوبارہ سامنے آتی ہے ایک مضبوط ادارتی نظام، خبر کی تحقیق، تصدیق، مختلف ذرائع سے معلومات کا جائزہ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ قاری کو صرف خبر نہیں بلکہ باخبر نقطۂ نظر فراہم کرتی ہے اسی لیے اخبارات کا مطالعہ آج بھی ضروری ہے خصوصاً ہماری نوجوان نسل کے لیے میں نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ موبائل ضرور استعمال کریں، ڈیجیٹل دنیا سے ضرور جڑیں، سوشل میڈیا سے معلومات حاصل کریں لیکن اخبار پڑھنے کی عادت بھی ضرور اپنائیں روزانہ چند منٹ اخبار کو دیں سرخیاں پڑھیں، ایک مکمل خبر پڑھیں، اداریہ دیکھیں، کالم پڑھیں، کھیلوں کا صفحہ دیکھیں اور دنیا میں ہونے والے واقعات کے پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کریں کیونکہ اخبار ہمیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ آج کیا ہوا؟ اخبار ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے کہ یہ کیوں ہوا اس کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں اور اس معاملے کے مختلف پہلو کیا ہیں؟ یہی مطالعہ ایک عام قاری کو باشعور شہری بنانے میں مدد دیتا ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے مختصر پیغامات اور چند سیکنڈ کی ویڈیوز کو اس قدر ترجیح دے دی ہے کہ تفصیلی مطالعے کا صبر کم ہوتا جارہا ہے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومیں صرف معلومات جمع کرنے سے نہیں بلکہ معلومات کو سمجھنے، پرکھنے اور اس پر غور کرنے سے ترقی کرتی ہیں مطالعۂ اخبارات کا قومی دن اسی احساس کو زندہ کرنے کا موقع ہے یہ دن صرف اخبار پڑھنے کی دعوت نہیں بلکہ کتاب، رسالے، اخبار اور سنجیدہ مطالعے کی پوری روایت کو زندہ کرنے کی دعوت ہے اس دن کی مناسبت سے میں ایک بار پھر ان تمام مدیران، صحافیوں، کالم نگاروں، فوٹوگرافروں، پریس ورکرز اور شعبۂ اخبارات سے وابستہ ہر اس شخص کو اپنا پُرخلوص سلامِ محبت پیش کرتا ہوں جو اپنی ذاتی مشکلات کے باوجود قلم، کیمرے اور خبر کے ذریعے معاشرے کی خدمت میں مصروف ہے بالخصوص آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) ،سی پی این ای ، ایف یو جے ،پی یو جے ،آر یو جے کے اراکین اور ملک بھر کے اخبارات سے وابستہ تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو صحافتی اور اشاعتی نظام کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان قارئین کو بھی سلام، جو آج بھی صبح اخبار ہاتھ میں لے کر سرخیاں پڑھتے ہیں، کالم تلاش کرتے ہیں، اداریہ دیکھتے ہیں اور اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے کے لیے مطالعے کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اخبار صرف کاغذ نہیں ہوتا یہ کسی مزدور کی آواز بھی ہوسکتا ہے، کسی مظلوم کی فریاد بھی، کسی طالب علم کا سوال بھی، کسی شہری کی شکایت بھی اور کسی قوم کی اجتماعی سوچ کا آئینہ بھی اخبار کی سیاہی وقت کے ساتھ مدھم ہوسکتی ہے مگر اس میں محفوظ تاریخ کبھی مدھم نہیں ہوتی آئیے 25 ستمبر کو ہم سب یہ عہد کریں کہ مطالعے کی اس روایت کو ختم نہیں ہونے دیں گے اپنے بچوں کو موبائل کے ساتھ اخبار بھی دیں گے نوجوانوں کو مختصر معلومات کے ساتھ گہرا مطالعہ بھی سکھائیں گے اور صحافت کی اس روایت کو آگے بڑھائیں گے جس نے معاشروں کو شعور، عوام کو آواز اور قوموں کو اپنی تاریخ دی ہے کیونکہ جس قوم کے ہاتھ میں اخبار ہو اس کے پاس سوال کرنے کی طاقت ہوتی ہے اور جس قوم کے ذہن میں مطالعہ زندہ ہو اسے گمراہ کرنا آسان نہیں ہوتا 25 ستمبر صرف مطالعۂ اخبارات کا قومی دن نہیں یہ شعور، سچ، تحقیق، صحافت اور مطالعے سے محبت کا دن ہے۔(تحریر۔روہیل اکبر 03004821200)

جواب دیں