تاریخ کا دھارا جب بھی کسی خطے کو اپنے بھیانک موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے، تو ایوانِ اقتدار کی پراسرار خاموشی اور عوامی بے خبری دراصل کسی مہیب طوفان کی آمد کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔ جنوبی ایشیا کی جیو اسٹریٹجک بساط پر آج جو ظاہری سکوت طاری ہے، وہ حقیقت میں کسی پائیدار امن کا قائم ہونا نہیں بلکہ دو ایٹمی صلاحیت سے لیس وجودوں کے درمیان برپا ایک ایسا معلق، ناپائیدار اور لرزہ خیز "گرم امن” (Warm Peace) ہے جس کی آغوش میں آٹھ دہائیوں کا سیاسی، عسکری اور نظریاتی زہر مسلسل پل رہا ہے۔ یہ سوال کہ "کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ دوبارہ ہو سکتی ہے؟” محض ایک صحافتی سنسنی یا سطحی سیاسی قیاس آرائی نہیں، بلکہ ان سلگتے ہوئے دفاعی عقائد، روز بروز بگڑتی ہوئی تزویراتی ناہمواری اور نو آبادیاتی تقسیم کی ان ادھوری و متنازع گرہوں کا منطقی انجام ہے جو اب شدت کے ساتھ پھٹنے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔اگر اس ممکنہ معرکے کی شروعات کا سائنسی اور تحلیلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھلی کتاب کی طرح منکشف ہوتی ہے کہ اب جنگ کا آغاز اکیسویں صدی میں کسی روایتی یا پرانے طرز کے اعلانیے سے نہیں ہوگا۔ اس ہولناک تصادم کی چنگاری جدید دور کے ففتھ جنریشن وارفیئر، گمنام سائبر حملوں، نیٹ ورک سینٹرک معرکہ آرائی، یا سرحدی پٹی پر برپا کیے جانے والے کسی غیر متوقع اور حساس فالس فلیگ واقعے سے سلگے گی۔ بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے تیار کردہ "کولڈ اسٹارٹ ڈوکٹرین” اور "پری ایمپٹیو اسٹرائیک” کا جارحانہ فریم ورک یہ غلط فہمی پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک محدود، تیز رفتار اور نپی تلی روایتی عسکری کارروائی کر کے بین الاقوامی ردِعمل سے بچ سکتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب پاکستان کا اپنا قومی دفاعی فریم ورک یعنی "فل سپیکٹرم ڈیٹرنس” اور نصر جیسے نصرتی ایٹمی ہتھیاروں کا باقاعدہ عملی نفاذ یہ دو ٹوک پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی قسم کے محدود حملے کا جواب ہمہ گیر، فوری اور غیر متناسب طاقت سے دیا جائے گا۔ جب دونوں ریاستوں کے درمیان باہمی بات چیت کے تمام سیاسی و سفارتی دروازے مکمل طور پر مقفل ہوں، اعلاقی رابطہ کاری کے نجی و سرکاری ذرائع معطل ہوں اور دونوں طرف سے شدید ترین عسکری و سیاسی دباؤ موجود ہو، تو بحران کے بڑھنے کا عمل یعنی "اسکیلیشن لیڈر” کسی بھی ایوان کے سیاسی کنٹرول میں نہیں رہے گا اور ایک معمولی سی سرحدی جھڑپ چند گھنٹوں کے اندر دونوں ملکوں کو ایک غیر محدود ایٹمی تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کرے گی۔اگر یہ ہمہ گیر عسکری معرکہ برپا ہوتا ہے، تو اس کی تباہ کن آگ سب سے پہلے خطے کی حساس ترین جغرافیائی، دفاعی اور آبادیاتی شریانوں کو جلائے گی۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری سے ملحقہ تمام اضلاع خصوصاً سیالکوٹ، چھمب جوریان، شکر گڑھ، کوٹلی، مظفر آباد اور وادیِ کشمیر کی مظلوم فضاؤں میں شدید ترین بارود کی بو اور دھوئیں کا بادل چھا جائے گا۔ پنجاب اور سندھ کے سرحدی علاقوں میں واقع اہم ترین دفاعی تنصیبات، فوجی چھاؤنیاں، ایئر بیسز اور مواصلاتی مراکز روایتی ہوائی، ڈرون اور میزائل حملوں کا سب سے پہلا اور براہِ راست ہدف بنیں گے۔ سمندری محاذ پر اگر دیکھا جائے تو بحرِ ہند اور بحیرہ عرب میں کراچی اور گوادر کی تزویراتی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کرنے کی بھرپور کوششیں کی جائیں گی تاکہ ملکی معاشی، تجارتی اور لاجسٹک شریانوں کو یکسر مفلوج کیا جا سکے۔ جدید ترین جنگی اصولوں کے تحت یہ معرکہ صرف زمینی سرحدوں پر نہیں لڑی جائے گی بلکہ خلا اور سائبر سپیس میں بھی بپا ہوگی، جہاں مواصلاتی سیٹلائٹس، بینکنگ نیٹ ورکس اور بجلی کے قومی گرڈز کو جام کر کے دونوں ریاستوں کے پوری انتظامی و شہری ڈھانچے کو فالج کا شکار کر دیا جائے گا۔عالمی بساط اور بین الاقوامی معاشی منڈی پر اس تباہی کے ارتعاشات اتنے ہولناک ہوں گے کہ پوری دنیا کا معاشی اور تجارتی شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ بحیرہ عرب، خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع بین الاقوامی سمندری تجارتی راستوں کی اچانک معطلی سے دنیا بھر میں خام تیل، ایل این جی اور دیگر تجارتی مال کی فراہمی دم توڑ دے گی۔ عالمی اسٹاک مارکیٹس منٹوں میں کریش کر جائیں گی اور پہلے سے زوال پذیر عالمی معیشت ایک ایسے شدید سکتہ اور کساد بازاری میں چلی جائے گی جہاں سے بحالی کے لیے دہائیاں بھی کم ہوں گی۔اس عالمی معاشی و تزویراتی بحران میں اگر کسی فریق کو مالی اور جیو پولیٹیکل سطح پر براہِ راست فائدہ حاصل ہوگا تو وہ امریکہ اور اس کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس ہے۔ واشنگٹن کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ایشیا میں ابھرتے ہوئے نئے سیکیورٹی چیلنجز کے نام پر اربوں ڈالرز کے دفاعی معاہدات، جدید ترین طیاروں اور اینٹی میزائل سسٹمز کی فروخت کی شکل میں بے پناہ مالی منافع حاصل ہوگا۔ مزید برآں، امریکہ اس علاقائی بحران کو چین کے بلاک کو گھیرنے، بحرِ ہند پر اپنے بحری اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے اور جنوبی ایشیا کی تزویراتی شطرنج پر اپنی مرضی کا توازن قائم کرنے کے لیے نہایت مہارت سے استعمال کرے گا۔اس ہولناک تصادم کے اثرات تمام پڑوسی ممالک کی سلامتی اور معیشت کو بھی اپنی لپیٹ میں لیں گے۔ چین کے لیے اس کا عظیم الشان اور اربوں ڈالرز کا تاریخی منصوبہ—سی پیک اور وسطی ایشیا تک پھیلا ہوا اقتصادی نیٹ ورک یکسر جمود کا شکار ہو جائے گا، جس کے باعث بیجنگ کو اپنے زبردست مالی و سٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے اس جنگ میں ایک غیر فعال تماشائی کے بجائے فعال فریق کے طور پر متحرک ہونا پڑے گا۔ دوسری جانب، افغانستان کا نازک سیاسی استحکام اور معیشت ایک بار پھر لاکھوں نئے مہاجرین کے بوجھ، سرحدی بدامنی اور غیر یقینی کی نذر ہو جائے گی، جبکہ ایران کی مشرقی سرحدوں پر سیکیورٹی کا ایک نیا اور شدید بحران جنم لے گا جو اس کی اپنی معیشت کے لیے دھچکا ثابت ہوگا۔انفرادی، انتظامی اور قومی سطح پر اس جنگ کے نقصانات کا کوئی شمار نہیں ہو سکے گا۔ دونوں ریاستوں کی دہائیوں پر محیط معاشی ترقی، صنعتی انفراسٹرکچر اور مالیاتی ادارے خاک میں مل جائیں گے۔ ملکی کرنسی کی قدر ختم ہو جائے گی، افراطِ زر کا ایسا طوفان آئے گا جو غریب اور متوسط طبقے کو زندہ درگور کر دے گا۔ سرحدی علاقوں سے لاکھوں باوقار اور محنت کش شہریوں کا بے گھر ہونا، راشن اور ادویات کی شدید ترین قلت، اور بنیادی طبی و مواصلاتی نظام کا مکمل طور پر بیٹھ جانا دونوں ریاستوں کے انتظامی تابوت میں آخری کیل ٹھونکے گا۔ اور اگر یہ آگ اپنے آخری اور خوفناک ترین مرحلے یعنی ایٹمی تبادلے تک پہنچی، تو سندھ، جہلم اور چناب کے دریا اور ان سے سیراب ہونے والی تمام زرعی زمینیں صدیوں کے لیے ریڈیو ایکٹیو آلودگی کا بنجر قبرستان بن جائیں گی، جہاں اگلی نسلوں کا وجود ہی ناممکن ہو جائے گا۔تحلیلی خلاصہ اور فکرِ فردا کا نچوڑ یہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی نئی جنگ کا برپا ہونا کسی ایک فریق کا اقتدار، عسکری فتح یا سیاسی دبدبہ قائم نہیں کرے گا، بلکہ یہ اس پورے خطے کی تباہی، نسلوں کی بربادی اور اجتماعی خودکشی کا نا قابلِ تردید پروانہ ہوگی۔ معاصر عقلِ سلیم اور بین الاقوامی قانون کا حتمی تقاضا یہ ہے کہ طاقت کی نخوت، جذباتی نعروں اور عارضی سیاسی فائدوں سے نکل کر بحران سے نمٹنے کے فوری، سنجیدہ اور شفاف سفارتی راستوں کو دوبارہ متحرک کیا جائے۔ اگر آج بھی سیاسی و عسکری ایوانوں میں ہوش کے ناخن نہ لیے گئے اور تاریخ کے اس الناک سبق سے آنکھیں چرائی گئیں، تو یاد رکھیے کہ آنے والی نسلیں نہ تو کسی زہریلے بیانیے کو معاف کریں گی اور نہ ہی راکھ کا یہ بنجر ڈھیر کسی فتح کا جشن منانے یا فاتح کی داستان سنانے کے لیے باقی رہے گا!