نیویارک(این ایل آئی)جنسی جرم کے مقدمے میں ہالی وڈ کے بدنام زمانہ فلم ساز اور 80 سے زائد خواتین سے جنسی زیادتی اور ہراسانی کے ملزم ہاروی وائن اسٹائن کو 15 سال قید کی سزا سنادی گئی۔
74 سالہ ہاروی پر اپنی ہالی وڈ پروڈکشن اسسٹنٹ مریم ہیلی سے 2006 میں جنسی زیادتی کا الزام تھا۔ ایک سال پہلے ہاروی وائن اسٹائن پر جنسی زیادتی کا جرم ثابت ہوچکا تھا تاہم مجرم نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔جج کرٹس فاربر نے سزا سُنانے سے پہلے مجرم کی سخت سرزنش کی۔
ہاروی وائن اسٹائن کو 2020 میں جنسی زیادتی کے 2 کیسوں میں 23 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ 2020 کی وائن اسٹائن کی سزا کو 2024 میں اپیل کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔
سزا سنانے سے قبل جج نے ریمارکس دیےکہ ہاروی وائن اسٹائن کو ’می ٹو‘ مہم کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائےگا۔خیال رہےکہ ہالی وڈ اور پھر دنیا بھر میں ’می ٹو‘ مہم کا آغاز ہاروی وائن اسٹائن پر لگائے گئے الزامات سے ہوا تھا۔
اکتوبر 2017 میں شائع ہونے والی نیویارک ٹائمز کی تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ نے اس اسکینڈل کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد خواتین کی بڑی تعداد نے ہالی وڈ پروڈیوسر سے متعلق ہوش رُبا حقائق سے پردہ اٹھایا تھا۔
ان ہی انکشافات کے بعد ’می ٹو‘ مہم کا بھی آغاز ہوا تھا جس کے تحت دنیا بھر میں خواتین خصوصاً سیلیبریٹز نے طاقتور اور اہم عہدوں پر فائز مردوں کی جانب سے انہیں ہراساں کیے جانے پر اپنی خاموشی توڑی تھی۔
وائن اسٹائن پر الزامات لگانے والی خواتین میں ہالی وڈ کی صف اول کی اداکارائیں انجیلینا جولی، سلمیٰ ہائیک، گائینتھ پیلٹرو، ایشلے جَڈ، روز میک گوئن اور ہیتھر گراہم شامل ہیں۔
اس سے قبل ان پر متعدد الزامات لگے تھے تاہم وہ ثابت نہ ہوسکے۔ اکتوبر 2017 میں الزامات سامنے آنے کے بعد ان کے زوال کا آغاز ہوا اور ان کی اپنی فلمساز کمپنی کے بورڈ سے انہیں نکال دیا گیا جب کہ ان پر ہالی وڈ کے دروازے بھی بند کردیے گئے۔
ہاروی وائن اسٹائن پر الزامات کے بعد فلمی دنیا کا سب سے معتبر ایوارڈ ’آسکر‘ دینے والے ادارے ’دی اکیڈمی ایوارڈ آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنس‘ نے ان کی رکنیت معطل کردی تھی۔