PakistanPolitics

سہیل آفریدی کے مبینہ قاتل بھیجنے کے دعوے پر گجرانوالہ پولیس کا ردعمل، ’پولیس کانسٹیبل وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی پر مامور تھا

گوجرانوالہ(این ایل آئی)گجرانوالہ پولیس کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ’مبینہ قاتل‘ قرار دیے جانے والا شخص سکیورٹی پر مامور گجرانوالہ پولیس کا کانسٹیبل تھا، جسے شناخت ظاہر کرنے اور آفس کارڈ دکھائے جانے کے باوجود وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی ٹیم نے تشدد کا نشانہ بنایا۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی گذشتہ تین روز سے پنجاب میں موجود ہیں جہاں وہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اعلان کردہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے سلسلے میں کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں دو روز گزارنے کے بعد سہیل آفریدی منگل کی رات لاہور سے گجرانوالہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔بدھ کی صبح لگ بھگ پانچ بجے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ لاہور سے واپسی پر جب اُن کا قافلہ وزیر آباد پہنچا تو ایک مبینہ ’قاتل‘ کو اُن کے ’قتل کی نیت‘ سے وہاں بھیجا گیا۔

جواب دیں