Pakistan

ریلوے ترقی اور اصلاحات کا سفرجاری

تحریر: سید اعجازالحسن

 

دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ریلوے کو قومی ترقی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔

 

پاکستان میں بھی ریلوے ایک ایسا قومی ادارہ ہےجس نے کئی دہائیوں تک عوامی نقل وحمل اور ملکی تجارت میں نمایاں کردار ادا کیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ انتظامی کمزوریوں، ناکافی سرمایہ کاری، پرانا انفراسٹرکچر اور مالی مشکلات نے اس قومی ادارے کی کارکردگی کو متاثر کیا۔

 

خوش آئند امر یہ ہے کہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان ریلوے کو دوبارہ فعال، جدید اور منافع بخش ادارہ بنانے کے لیے نئی اصلاحات کا ایک جامع عمل شروع کیا گیا ہے جس کے مثبت نتائج بتدریج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

پاکستان ریلوے کی حقیقی معاشی طاقت اس کا فریٹ سیکٹر ہے۔ دنیا بھر میں کامیاب ریلوے اداروں کی آمدنی کا بڑا حصہ مال برداری سے حاصل ہوتا ہے، کیونکہ ریل کے ذریعے سامان کی نقل و حمل سڑک کے مقابلے میں کم خرچ، زیادہ محفوظ اور ماحول دوست ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان ریلوے نے فریٹ آپریشنز کو اپنی ترجیحات کا مرکز بنایا ہے۔ مال بردار ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ، کنٹینرزکارگو سروسز، بندرگاہوں اور صنعتی مراکز کے درمیان مؤثر ریل رابطے، جدید لاجسٹکس، سامان کی ڈیجیٹل ٹریکنگ اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری جیسے اقدامات اس شعبے کو نئی زندگی دے رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ریلوے کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ آنے والے سالوں میں فریٹ سیکٹر سے ریلوے کو مز ید خاطر خواہ ریونیو حاصل ہو گا۔

مستقبل کے منصوبے اس سے بھی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ریلوے نیٹ ورک کی توسیع، ڈبل ٹریک منصوبے، جدید فریٹ کوریڈورز، مکمل ڈیجیٹلائزیشن، توانائی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجی، جدید انجنوں اور کوچز کی خریداری کے ساتھ ساتھ صو بائی حکومتوں کے تعاون سے علاقائی مسافر ٹرینوں کو مرحلہ وار بحال کرنا بھی پاکستان ریلوے کے وژن کا حصہ ہیں۔ ان منصوبوں سے نہ صرف سفر محفوظ اور تیز ہوگا بلکہ ملک کے مختلف حصوں کے درمیان تجارتی روابط مزید مضبوط ہوں گے، جس سے قومی معیشت کو نئی توانائی ملے گی۔ وزارت پاکستان ریلوے کو مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں حکومتِ پاکستان نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت ریلوے ڈویژن کے لیے 40.65 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس مختص کردہ رقم کا بنیادی مرکز بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری، علاقائی رابطوں اور ‘مین لائن ون’ (ML-1) کو اپ گریڈ کرنے کے منصوبے کے لیے فنڈز کی فراہمی شامل ہے۔
پاکستان ریلویز نے مالی سال 2025-26 میں اپنی ملکی تاریخ کی بلند ترین سالانہ آمدن حاصل کرتے ہوئے 115.157 ارب روپے حاصل ہونے والی آمدن کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں مجموعی آمدنی میں 24.19 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی اہم وجہ فریٹ سیکٹر، مسافرٹرینوں، کمرشل، پراپرٹی، سنڈری ریونیو، کیش انفلو اور آپریشنل کارکردگی سمیت تقریباً تمام اہم شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں مسافر آمدنی 50.590 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو پاکستان ریلویز کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ فریٹ آمدنی 40.781 ارب روپے رہی جبکہ سنڈری آمدنی 16.401 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ سنڈری ریونیو میں پراپرٹی اینڈ لینڈ سے 11.996 ارب روپے، اسکریپ سے 1.966 ارب روپے، کمرشل سرگرمیوں سے 2.123 ارب روپے جبکہ دیگر ذرائع سے بھی آمدنی حاصل ہوئی۔ پاکستان ریلویز کے کیش انفلو 120.070 ارب روپے تک پہنچ گئے. اس سے ادارے کی لیکویڈیٹی، ورکنگ کیپیٹل، مالی استحکام اور آپریشنل صلاحیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔اسی طرح پاکستان ریلویزکی آپریٹنگ ریشو مسلسل بہتر ہوئی اور 2023-24 میں 99.5 فیصد، 2024-25 میں 96.3 فیصد سے کم ہو کر 2025-26 میں 84.7 فیصد رہ گئی، جو اخراجات پر بہترین کنٹرول، مؤثر انتظامی فیصلوں، مالی نظم و ضبط اور بہتر آپریشنل کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ریلوے سے تمام ڈیجیٹل خدمات کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنانے کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کے وژن کے مطابق پاکستان ریلوے اپنی 79 سالہ تاریخ کی ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن کر رہا ہے اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں بہتر انداز میں آگے بڑھ رہاہے۔رابطہ ایپ ایپلیکیشن، کیش لیس ای ٹکٹنگ، مفت وائی فائی اور دیگر مسافر سہولیات متعارف کروائی گئی ہیں۔ رابطہ ایپ پر اس وقت سو سے زائد ٹرینیں دستیاب ہیں۔ریلوے کے زیادہ تر بڑے اسٹیشنز کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ریلوے ہیلپ لائن 117 کو جدید تقاضوں کے مطابق 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن فعال کر دیا گیا ہے۔ہیلپ لائن 117 پر تربیت یافتہ آئی ٹی ایجنٹس ہر وقت مسافروں کی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔بڑے ریلوے اسٹیشنز پر مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔ فریٹ مینجمنٹ سسٹم، رولنگ اسٹاک ٹریکنگ اور ڈیجیٹل وے برجز پرکام تیزی سے جاری و ساری ہے۔راولپنڈی میں اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کیا جا چکا ہے۔دیگر بڑے ریلوے اسٹیشنز پر بھی اسمارٹ اینڈ سیف اسٹیشنز کا قیام شروع ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ ای انسپیکشن رجیم اور جدید اٹینڈنس مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ پر بھی کام تیزی مکمل کیا جا رہا ہے۔ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اور مسافروں کے لئے ریلوے اسٹیشنوں کی بہتری کے علاوہ ملازمین کی فلاح و بہبود کے منصوبے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ان اصلاحات کا مقصد صرف چند سہولیات میں اضافہ نہیں بلکہ ریلوے کو ایک جدید، محفوظ اور عوام دوست ادارے میں تبدیل کرنا ہے۔ انتظامی شفافیت، مالی نظم و ضبط اور انسانی وسائل کی پیشہ ورانہ تربیت پر خصوصی توجہ بھی اس بات کی عکاس ہے کہ ریلوے کو طویل المدتی بنیادوں پر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
پاکستان ریلوے کی بہتری، مسافروں کو معیاری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ملازمین کی فلاح وبہبودکے لیے بھی عملی اقدامات جاری ہیں۔وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی کہہ چکے ہیں کہ گارڈز اور لوکو پائلٹس پاکستان ریلوے کے آپریشن کا بنیادی ستون ہیں، اس لیے ان کی فلاح و بہبود اور آرام دہ ماحول کی فراہمی محکمہ ریلوے کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے راولپنڈی کے بعد ملتان ڈویژن کے خانیوال جنکشن پر بھی گارڈز اور ڈرائیورز رننگ رومز کا افتتاح کر دیا۔ رننگ رومز میں ملازمین کی سہولت کے لیے چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔جدید سولر سسٹم بیک اَپ بیٹریوں کے ساتھ نصب کیا گیا ہے۔ ہر کمرہ ائیر کنڈیشنڈ ہے تاکہ گارڈز اور لوکو پائلٹس کو آرام دہ ماحول میسر آ سکے۔ اس کے علاوہ ایگزیکٹو معیار کا کچن، کشادہ ڈائننگ ہال، جدید اور صاف ستھرے واش رومز، وسیع راہداریوں اور خوبصورت سرسبز صحن جیسی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔لاہورسمیت مزید بڑے اسٹیشنوں پر بھی گارڈز اور ڈرائیورز رننگ رومز تیار کئے جا رہے ہیں۔
پاکستان ریلوے کا صوبائی حکومتوں کے تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے کے عمل کے تحت احسن اقدام پاکستان ریلوے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان تاریخی فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے۔جس میں پنجاب،سندھ، بلوچستان کی طرز پر پاکستان ریلوے اور حکومتِ خیبر پختونخوا ہ کے درمیان صوبے میں ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی، اپ گریڈیشن، جدید کاری، مسافر سہولیات میں بہتری اور ریلوے رابطہ کاری کے بڑے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے اہم فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت طے پانے والا یہ معاہدہ خیبر پختونخوا میں ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک کو جدید بنانے کے ساتھ نئے اسٹریٹیجک ریلوے رابطوں، بہتر سفری سہولیات اور علاقائی کنیکٹیویٹی کے ایک بڑے منصوبے کی بنیاد رکھتا ہے۔معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا میں تقریباً 240 کلومیٹر مضافاتی ریلوے لائنوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا، جن میں پشاور–نوشہرہ–جہانگیرہ روڈ، نوشہرہ–مردان–درگئی، نوشہرہ–مردان–چارسدہ، ناصرپور (چمکنی)–جمرود اور جمرود–لنڈی کوتل کے اہم روٹس شامل ہیں۔
اسی فریم ورک کے تحت کوہاٹ سے تھل کے راستے خرلاچی تک تقریباً 192 کلومیٹر نئی اسٹریٹیجک ریلوے لائن کی ترقی بھی شامل ہے، جو پاکستان کو افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا سے جوڑنے اور ازبکستان۔افغانستان۔پاکستان ریلوے کوریڈور کے تحت علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کے نئے امکانات پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔اس کے علاوہ پشاور کینٹ، پشاور سٹی، نوشہرہ اور جہانگیرہ ریلوے اسٹیشنز کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کے ساتھ مسافروں کے لیے سہولیات اور سروسز کو بھی بہتر بنایا جائے گا، جبکہ صوبے میں موجود 81 غیر محفوظ ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان ریلوے اور حکومتِ خیبر پختونخوا مشترکہ اقدامات کریں گے۔یہ معاہدہ صرف ریلوے لائنوں اور اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن تک محدود نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں ایک زیادہ مربوط، محفوظ اور جدید ریلوے نظام قائم کرنے اور پاکستان کو وسطی ایشیا تک وسیع تر ریلوے رابطے سے جوڑنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ وزیرِ ریلویز محمد حنیف عباسی نے حکومتِ خیبر پختونخوا اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس فریم ورک کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرکے اس کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے جائیں گے۔
گزشتہ ماہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی۔ملاقات میں سندھ کے ریلوے نظام کو جدید بنانے، برانچ ریلوے روٹس کی بحالی اور مسافروں کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی سے منصوبے کے مختلف برانچ ریلوے روٹس کو جدید ڈی ایم یو ٹرینوں کے ذریعے فعال اور اپ گریڈ کرنے پر اتفاق ہوا۔عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، خطرناک ریلوے کراسنگز کو بلا تاخیر محفوظ بنانے اورسندھ میں 100 غیر محفوظ اور بغیر پھاٹک ریلوے کراسنگز کو محفوظ بنانے کا منصوبہ اور تجاوزارت کا خاتمہ جیسے موضوع بھی زیر غورآئے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یقین دلایا کہ ریلوے کراسنگز کی سیفٹی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر مؤثر اقدامات کریں گی، سندھ حکومت ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری اور محفوظ سفری سہولیات کے لیے پاک ریلوے سے بھرپور تعاون کرے گی جدید ریلوے نظام سندھ کے دور دراز علاقوں کو سستی، محفوظ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا،ریلوے اراضی سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت پاکستان ریلوے کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ وفاقی حکومت پاکستان ریلوے کو جدید، محفوظ اور عوام دوست نظام بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، سندھ حکومت کے تعاون سے صوبے میں ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ریلوے کی قیمتی اراضی پر تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی،ریلوے اراضی قومی اثاثہ ہے، اس کے تحفظ اور قانونی استعمال کے لیے سندھ حکومت سے مکمل تعاون کریں گے۔
یقینا اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مضبوط ریلوے نظام کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی، صنعتی توسیع اور علاقائی رابطوں کا ضامن ہوتا ہے۔ اگر جاری اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے، فریٹ سیکٹر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے تو پاکستان ریلوے نہ صرف اپنے ماضی کا وقار دوبارہ حاصل کر سکتی ہے بلکہ مستقبل میں قومی ترقی کا ایک طاقتور محرک بھی بن سکتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قومی اثاثے کو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہو کر ایک مستقل قومی ترجیح بنایا جائے تاکہ ریلوے کا پہیہ صرف پٹری پر ہی نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی خوشحالی کے سفر کو بھی پوری رفتار سے آگے بڑھا سکے۔

جواب دیں