Uncategorized

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔عمران گجر،کاشف علی

لاہور(این ایل آئی)ایف ایم 95 پنجاب رنگ کے پروگرام "کھیل اور کھلاڑی” میں آر جے روحیل اکبر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے

پنجاب کینوہنگ ایسوسی ایشن کے جائنٹ سیکریٹری عمران علی گجراور پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے عہدیدار کاشف علی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، کمی ہے تو صرف اس ٹیلنٹ کو تلاش کرنے، سنوارنے اور عالمی سطح تک پہنچانے والے مخلص نظام کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین نے ہر دور میں ایسے باصلاحیت کھلاڑی پیدا کیے ہیں جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود دنیا میں ملک کا نام روشن کیا۔مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے کھیلوں کا نظام ان صلاحیتوں کو وہ مواقع نہیں دے رہا جن کے وہ حقدار ہیں۔

عمان گجر اور کاشف علی کے مطابق حکومتی اداروں میں بیٹھے بعض افسران اور کھیلوں کی فیڈریشنوں کے نام نہاد عہدیداروں کی بے حسی، ہٹ دھرمی اور اقربا پروری نے کھیلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جب میرٹ کے بجائے پسند و ناپسند، سفارش اور ذاتی تعلقات کو ترجیح دی جائے تو پھر میدان میں محنت کرنے والا باصلاحیت کھلاڑی پیچھے رہ جاتا ہے اور وہ لوگ آگے آ جاتے ہیں جن کا انتخاب کھیل سے زیادہ تعلقات کی بنیاد پر

ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنے کھلاڑیوں کو صرف میدان میں نہیں اتارتے بلکہ انہیں جدید تربیت، بہترین کوچنگ، طبی سہولیات، بین الاقوامی مقابلوں کا تجربہ اور مسلسل مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں کئی باصلاحیت کھلاڑی بنیادی سہولیات اور مناسب مواقع کے لیے بھی ترستے رہتے ہیں۔روئنگ ہو، باڈی بلڈنگ ہو یا کوئی اور کھیل، ہمارے نوجوان صلاحیت میں کسی سے کم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کھیلوں کے اداروں میں ایسے افراد کو ذمہ داریاں دی جائیں جو کھیل کو صرف عہدہ نہیں بلکہ قومی خدمت سمجھتے ہوں۔پروگرام "کھیل اور کھلاڑی” میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ اگر حکومت واقعی پاکستان کو کھیلوں کے میدان میں دنیا کی صفِ اول کی قوموں میں دیکھنا چاہتی ہے تو اسے محض اعلانات اور تقریبات سے آگے بڑھ کر ایک مؤثر اور شفاف اسپورٹس پالیسی بنانا ہوگی جس میں میرٹ، شفافیت اور کھلاڑی کی فلاح کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔آخرکار کامیابی صرف اس کھلاڑی کی نہیں ہوتی جو میڈل جیتتا ہے، بلکہ اس نظام کی بھی ہوتی ہے جو اسے اس مقام تک پہنچاتا ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں میں جذبہ بھی ہے، صلاحیت بھی اور جیتنے کی خواہش بھی اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں صحیح سمت، مناسب سہولت اور میرٹ پر مبنی مواقع فراہم کیے جائیں۔پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، کمی صرف ٹیلنٹ کو پہچاننے اور اسے موقع دینے والوں کی ہے۔

جواب دیں