Business

او جی ڈی سی ایل کا ریکارڈ منافع، سالانہ آمدن 242 ارب روپے سے تجاوز

اسلام آباد: عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے مالی سال 2025-26 میں 242.4 ارب روپے کا ریکارڈ بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہے۔

کمپنی کے مطابق مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں بعد از ٹیکس منافع 115 ارب روپے رہا، تاہم ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے آخری سہ ماہی میں تقریباً 128 ارب روپے کا منافع حاصل ہوا، جو کمپنی کی تاریخ کا بلند ترین سہ ماہی منافع ہے۔

او جی ڈی سی ایل کی مجموعی فروخت 449.19 ارب روپے رہی جبکہ فی حصص آمدن 56.35 روپے تک پہنچ گئی۔ کمپنی کے بورڈ نے 6 روپے فی حصص حتمی نقد منافع دینے کی منظوری دی، جس کے بعد مالی سال کا مجموعی منافع فی حصص 17 روپے ہوگیا۔

کمپنی نے مالی سال کے دوران قومی خزانے میں ٹیکس، ڈیویڈنڈ، رائلٹی اور دیگر واجبات کی مد میں 187 ارب روپے جمع کرائے، جبکہ مقامی تیل و گیس کی پیداوار سے درآمدی ایندھن کے متبادل کے ذریعے تقریباً 3.31 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی۔

او جی ڈی سی ایل کے مطابق سال کے دوران 9 تیل و گیس دریافتیں ہوئیں، جن سے 120 ملین بیرل آئل ایکویویلنٹ کے ثابت شدہ اور ممکنہ ذخائر شامل ہوئے۔ کمپنی نے 23 کنویں کھودے اور 15 مزید ایکسپلوریشن بلاکس میں حصص حاصل کیے۔

کمپنی کی اوسط یومیہ قابلِ فروخت پیداوار 32,861 بیرل خام تیل، 667 ملین مکعب فٹ گیس اور 670 ٹن ایل پی جی رہی۔ اپریل 2026 میں براگ زئی ایکس-1 کنویں سے پیداوار شروع ہوئی، جہاں روزانہ تقریباً 5,968 بیرل تیل، 17 ملین مکعب فٹ گیس اور 60 ٹن ایل پی جی پیدا ہورہی ہے۔

او جی ڈی سی ایل نے سندھ کے ضلع خیرپور میں جیو تھرمل برائن سے اعلیٰ معیار کے لیتھیم کی دریافت کو بھی اہم کامیابی قرار دیا۔ کمپنی کے مطابق یہ پاکستان میں اس نوعیت کی پہلی بڑی دریافت ہے۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ مالی سال کے دوران اس کے حصص کی قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا اور 30 جون 2026 تک کمپنی کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن تقریباً 1.44 کھرب روپے تک پہنچ گئی، جس سے او جی ڈی سی ایل پاکستان کی سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی برقرار رہی۔

جواب دیں