اقوام متحدہ میں دنیا کے نقشے کی تبدیلی کی قرارداد منظور، 164 ممالک کی حمایت
نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے افریقہ کے نقشے کو نسبتاً زیادہ درست حجم میں دکھانے کے لیے نئے عالمی نقشے کے استعمال کی قرارداد منظور کرلی۔ قرارداد کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا، امریکا نے مخالفت جبکہ 6 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد میں Equal Earth کارٹوگرافک پروجیکشن کو روایتی مرکٹر نقشے کے متبادل کے طور پر اپنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس نقشے میں براعظموں کے رقبے کو نسبتاً درست تناسب سے دکھایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں افریقہ، جنوبی امریکا، جنوبی ایشیا اور اوشیانا پہلے کے مقابلے میں بڑے نظر آتے ہیں۔
ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ نقشے دنیا کے بارے میں ہماری سمجھ بوجھ تشکیل دیتے ہیں اور تعلیم و اجتماعی تصورات پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے دنیا کا جغرافیہ درست انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔
مرکیٹر پروجیکشن 1569 میں فلیمش نقشہ ساز گیراڈس مرکیٹر نے بحری سفر کی رہنمائی کے لیے تیار کیا تھا۔ اس میں زمین کے خطوں کی شکلیں اور زاویے زیادہ درست رکھنے کی کوشش کی گئی، تاہم شمالی علاقوں کے حجم کو بڑھا کر اور خط استوا کے قریب علاقوں کو نسبتاً چھوٹا دکھایا جاتا ہے۔
2018 میں نقشہ سازوں کے ایک گروپ نے Equal Earth پروجیکشن متعارف کرایا، جو براعظموں کے حقیقی رقبے کے باہمی تناسب کو زیادہ بہتر انداز میں ظاہر کرتا ہے۔
فرانس، جس نے قرارداد کی حمایت کی، نے بھی مرکیٹر پروجیکشن ترک کرنے کا اعلان کیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ نقشہ تبدیل کرنے سے دنیا نہیں بدلتی، تاہم مسخ شدہ نمائندگی کو درست کرنا حقیقت کے قریب جانے کا ایک قدم ہے۔