کشمیری رہنما یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کراتے ہوئے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہ ہونے کا اظہار کیا ہے۔
حلف نامے میں یاسین ملک نے 1990 میں کشمیری پنڈت خاتون سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے مقدمے کی مزید پیروی سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں سزائے موت بھی دی گئی تو وہ اسے قبول کریں گے، تاہم سزا قبول کرنے کا مطلب جرم کا اعتراف نہیں ہوگا۔
یاسین ملک نے مقدمے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کی امید کھو چکے ہیں اور اپنا معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی تحقیقاتی اداروں پر بھی الزامات عائد کیے کہ ان کے پاکستان سے تعلقات کو بعد میں ان کے خلاف بطور ثبوت استعمال کیا گیا۔
انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کا ذکر کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ انہیں طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی سے آزاد کیا جائے۔
یاسین ملک کو بھارتی فورسز نے اپریل 2019 میں گرفتار کیا تھا۔ ان پر 1990 میں سرلا بھٹ کے مبینہ اغوا اور قتل سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔