column and article

جنید جمشید : ایک ایسی آواز جو نسلوں کے دلوں میں زندہ ہے

خالدمنصور

پاکستانی موسیقی کی تاریخ میں بعض آوازیں صرف گلوکار کی شناخت تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ایک پورے عہد کی نمائندگی بن جاتی ہیں۔ جنید جمشید بھی ایسی ہی ایک آواز تھے۔ ان کی آواز نے 1980 اور 1990 کی دہائی کے نوجوانوں کو محبت، جذبات، وطن اور زندگی کے مختلف رنگوں سے روشناس کرایا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی زندگی کا رخ مذہبی تعلیم، نعت خوانی، فلاحی سرگرمیوں اور کاروبار کی طرف موڑ دیا۔ یوں جنید جمشید کی شخصیت پاکستان کی ثقافتی اور سماجی تاریخ میں ایک منفرد سفر کی مثال بن گئی۔

جنید جمشید 3 ستمبر 1964 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایسے خاندان سے تھا جس میں فوجی خدمات کی روایت موجود تھی۔ ان کی ابتدائی خواہش لڑاکا طیارے کا پائلٹ بننے کی تھی، لیکن کمزور بینائی کے باعث یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔ بعد ازاں انہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔

جنید جمشید کی زندگی میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب وہ وائٹل سائنز کا حصہ بنے۔ بینڈ میں ان کی آواز نے اسے پاکستان کے مقبول ترین پاپ بینڈز میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں پاکستانی موسیقی ایک نئی سمت اختیار کر رہی تھی اور وائٹل سائنز نے جدید پاپ موسیقی کو نوجوان نسل تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

1987 میں وائٹل سائنز کا ملی نغمہ ’’دل دل پاکستان، جان جان پاکستان‘‘ سامنے آیا۔ جنید جمشید کی آواز میں ریکارڈ ہونے والا یہ گیت دیکھتے ہی دیکھتے غیر معمولی مقبولیت حاصل کرگیا۔ بعد میں یہ گانا پاکستان کے مقبول ترین ملی نغموں میں شمار ہونے لگا اور جنید جمشید کی شناخت کا مستقل حصہ بن گیا۔

’’دل دل پاکستان‘‘ کی کامیابی نے نہ صرف جنید جمشید کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ پاکستان میں پاپ میوزک کی نئی صنعت کو بھی مضبوط کیا۔ وائٹل سائنز نے کئی کامیاب البمز ریلیز کیے اور ملک بھر میں کنسرٹس کیے۔ جنید جمشید نوجوانوں کے پسندیدہ گلوکار بن گئے اور 1990 کی دہائی میں ان کی مقبولیت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔

جنید جمشید کی مقبولیت صرف ملی نغموں تک محدود نہیں تھی۔ ان کی آواز میں ایک خاص نرمی، سادگی اور جذباتی کیفیت تھی جس نے رومانوی اور اداس گیتوں کو بھی بے حد مقبول بنایا۔

وائٹل سائنز کے دور میں ’’اعتبار‘‘، ’’وہ کون تھی‘‘، ’’تم دور تھے‘‘، ’’مسافر‘‘ اور دیگر گیت نوجوانوں میں خاص طور پر پسند کیے گئے۔ ان گیتوں نے جنید جمشید کو محض ایک پاپ گلوکار نہیں بلکہ 1990 کی دہائی کی نوجوان نسل کی جذباتی ترجمانی کرنے والی آواز بنا دیا۔ ان کی آواز اور انداز نے اس دور کی پاکستانی پاپ موسیقی پر گہرا اثر چھوڑا۔

جنید جمشید کی شخصیت بھی ان کی مقبولیت کا اہم حصہ تھی۔ ان کی آواز کے ساتھ ان کا انداز، شخصیت اور اسکرین پر موجودگی انہیں اپنے دور کے سب سے نمایاں پاکستانی پاپ اسٹارز میں شامل کرتی تھی۔

وائٹل سائنز کے بعد جنید جمشید نے سولو گلوکاری کا سفر بھی شروع کیا۔ 1997 میں ان کا سولو البم ’’جنید آف وائٹل سائنز‘‘ ریلیز ہوا۔ تاہم وائٹل سائنز کے ساتھ حاصل ہونے والی غیر معمولی مقبولیت کو سولو کیریئر میں برقرار رکھنا آسان نہیں تھا۔ اس کے باوجود ان کی آواز اور موسیقی کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ رہی۔

ان کے موسیقی کے سفر میں کامیابی کے ساتھ مشکلات بھی آئیں۔ بعض اوقات مالی مسائل نے بھی انہیں متاثر کیا، لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں نئے راستے تلاش کیے اور بعد میں کاروبار کی دنیا میں بھی قدم رکھا۔

جنید جمشید کی زندگی کا سب سے بڑا اور غیر معمولی موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے گلوکاری سے بتدریج کنارہ کشی اختیار کی اور اپنی توجہ مذہبی تعلیم، تبلیغ، نعت خوانی اور فلاحی سرگرمیوں کی طرف مرکوز کردی۔

یہ تبدیلی ان کے مداحوں کے لیے حیران کن تھی، کیونکہ وہ اس وقت پاکستان کے مقبول ترین گلوکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ تاہم جنید جمشید نے اپنے لیے ایک مختلف راستہ منتخب کیا اور اپنی سابقہ شہرت کو پیچھے چھوڑ کر مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کو ترجیح دی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق انہوں نے 2004 میں موسیقی کی صنعت چھوڑ دی تھی۔

موسیقی سے دوری کے بعد جنید جمشید کی خوبصورت آواز نے نعت خوانی کے ذریعے ایک نئی پہچان حاصل کی۔ ان کی نعتیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں سنی گئیں اور ان کی آواز ایک مرتبہ پھر لاکھوں لوگوں تک پہنچی۔

2005 میں ان کا پہلا نعتیہ البم ’’جلوۂ جاناں‘‘ ریلیز ہوا۔ اس کے بعد نعت خوانی ان کی شناخت کا اہم حصہ بن گئی۔

یوں ایک ایسا گلوکار جو کبھی پاپ میوزک کا سب سے بڑا نام تھا، ایک نئے انداز میں لوگوں کے سامنے آیا۔ ان کی زندگی کا یہ دوسرا مرحلہ بھی ان کی پہلی شناخت کی طرح لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہوگیا۔

جنید جمشید نے موسیقی اور مذہبی سرگرمیوں کے ساتھ کاروبار کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پاکستانی ملبوسات کے شعبے میں اپنا برانڈ متعارف کرایا اور بعد ازاں مختلف کاروباری منصوبوں میں بھی حصہ لیا۔

ان کے کاروباری سفر کے حوالے سے ڈان کے ایک پروفائل میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے سفر کے دوران انہوں نے فیشن کے مختلف رجحانات دیکھے اور بعد میں پاکستانی لباس، خصوصاً شلوار قمیض کے لیے ایک معیاری برانڈ کے تصور پر کام کیا۔

اس طرح جنید جمشید کی شخصیت صرف گلوکاری تک محدود نہیں رہی۔ وہ گلوکار، نعت خواں، مذہبی شخصیت، کاروباری فرد اور فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ شخصیت کے طور پر بھی سامنے آئے۔

جنید جمشید نے فلاحی کاموں میں بھی حصہ لیا۔ وہ مسلم چیریٹی کے ساتھ وابستہ رہے اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے کام کیا۔ ان کی فلاحی سرگرمیوں میں 2004 کے بحر ہند کے زلزلے اور سونامی اور 2005 کے پاکستان کے زلزلے کے متاثرین کے لیے امدادی کام بھی شامل تھے۔

جنید جمشید کی زندگی کا اختتام 7 دسمبر 2016 کو ایک المناک طیارہ حادثے میں ہوا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز PK-661 چترال سے اسلام آباد آ رہی تھی کہ حویلیاں کے قریب حادثے کا شکار ہوگئی۔ جنید جمشید بھی اس پرواز میں سوار تھے اور حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔

ان کی اچانک موت نے پاکستان بھر میں ان کے مداحوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو سوگوار کردیا۔ وہ 51 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔

جنید جمشید کو پاکستان میں جدید پاپ موسیقی کے ان فنکاروں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے ایک پورے دور کی موسیقی کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ وائٹل سائنز کے ذریعے انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کو ایک نئی موسیقی دی، جبکہ ’’دل دل پاکستان‘‘ نے انہیں قومی سطح پر ایسی شناخت دی جو ان کی وفات کے بعد بھی برقرار ہے۔

ان کی سب سے بڑی خصوصیت شاید یہ تھی کہ ان کی آواز میں بناوٹ کم اور احساس زیادہ محسوس ہوتا تھا۔ اسی لیے ان کے گائے ہوئے گیت کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی سنے جاتے ہیں۔

جنید جمشید کا سفر ایک پاپ اسٹار سے نعت خواں، مذہبی شخصیت اور کاروباری فرد تک پھیلا ہوا تھا۔ ان کی زندگی اس اعتبار سے بھی منفرد تھی کہ انہوں نے اپنی شہرت کے عروج پر اپنی ترجیحات تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

آج ان کی سالگرہ کے موقع پر انہیں یاد کیا جائے تو ’’دل دل پاکستان‘‘ کی آواز سے لے کر ان کی نعت خوانی تک، ان کی زندگی کے کئی رنگ ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔ جنید جمشید ایک گلوکار کے طور پر جس مقام تک پہنچے، وہ پاکستان کی موسیقی کی تاریخ کا اہم باب ہے، جبکہ ان کی بعد کی زندگی ان کے سفر کا ایک بالکل مختلف باب بن گئی۔

ان کی آواز، ان کے گیت اور ان کی زندگی کے مختلف ادوار آج بھی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کی یادوں کا حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے