گلگت بلتستان بیوروکریسی میں تبادلے ، سیدہ رملا علی پہلی خاتون سیکریٹری صحت تعینات
گلگت(تنویر احمد) گلگت بلتستان حکومت نے انتظامی بنیادوں اور عوامی مفاد کے پیش نظر 16 اعلیٰ و انتظامی افسران کے تبادلے اور نئی تعیناتیوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ چیف سیکریٹری ارشد مجید مہمند کی منظوری سے محکمہ سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن و کابینہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام تبادلے اور تعیناتیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سیکریٹری صحت آصف اللہ خان کو سیکریٹری ٹو گورنر گلگت بلتستان تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ سیکریٹری واٹر مینجمنٹ و آبپاشی فرید احمد کو چیئرمین سی ایم آئی ٹی مقرر کیا گیا ہے۔ایس اینڈ جی اے ڈی میں تعیناتی کے منتظر رحیم گل کو سیکریٹری واٹر مینجمنٹ و آبپاشی جبکہ سیدہ رملہ علی کو سیکریٹری صحت (او پی ایس) تعینات کیا گیا ہے۔ سیکریٹری ٹو گورنر احسان علی کو محکمہ سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن و کابینہ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی طرح سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن میں تعیناتی کے منتظر خورشید عالم کو ممبر بورڈ آف ریونیو اور عتیق الرحمٰن کو سیکریٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات مقرر کیا گیا ہے۔ ڈی جی گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی اظہار اللہ کو ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ جنگلات تعینات کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق امیر اعظم کو ڈی جی گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی (او پی ایس) مقرر کیا گیا ہے، جبکہ فیاض احمد کو ڈپٹی کمشنر ہنزہ تعینات کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ہنزہ نظام الدین کو محکمہ تعمیرات و مواصلات میں ڈپٹی سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے۔محمد طلحہ اسد خان، جو محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں ڈپٹی سیکریٹری اور پی ایم آر یو کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کو ڈپٹی کمشنر نگر تعینات کیا گیا ہے۔
محکمہ تعمیرات و مواصلات کے ڈپٹی سیکریٹری شہزاد عالم کو محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات میں ڈپٹی سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے، جبکہ S&GAD میں تعیناتی کے منتظر عادل حسین کو محکمہ خزانہ میں ڈپٹی سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔محکمہ خزانہ کے ڈپٹی سیکریٹری (بجٹ) احمد شاہ مسعود کو ڈائریکٹر فوڈ گلگت بلتستان تعینات کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ان کی تعیناتی کے ساتھ ہی مسٹر سخاوت حسین کو ڈائریکٹر فوڈ کے اضافی چارج سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں ڈپٹی کمشنر نگر (او پی ایس) اصغر خان کو بھی نئی ذمہ داری سے فارغ کرتے ہوئے محکمہ سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن و کابینہ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
