World

اسپین میں مہاجرین کی آمد کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

میڈرڈ: شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد سے نمٹنے میں حکومت کے کردار کے خلاف اسپین کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم پیڈرو سانچیز پر سیوٹا کے شہریوں کو تنہا چھوڑنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ دائیں بازو کی جماعتیں مہاجرین کے بحران کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

بدھ کو سامنے آنے والی پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کی غیر معمولی آمد کے دوران مراکش کی سیکیورٹی فورسز نے ’’مکمل چشم پوشی‘‘ کا مظاہرہ کیا۔ تاہم رپورٹ میں مراکش پر مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد کی منصوبہ بندی یا براہِ راست ذمہ داری کا قطعی الزام عائد نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 30 اور 31 جولائی کو مراکش سے کم از کم 72 ہزار افراد سیوٹا میں داخل ہوئے۔ اگرچہ بیشتر مہاجرین واپس جا چکے ہیں، تاہم تقریباً 5 ہزار افراد اب بھی عارضی کیمپوں، سڑکوں اور ساحلوں پر موجود ہیں، جس کے باعث سیوٹا میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے مہاجرین کی آمد کا ذمہ دار انسانی اسمگلنگ کرنے والے گروہوں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات کو قرار دیا ہے۔ دوسری جانب مراکش نے مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد کو منظم کرنے یا اس میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کیے ہیں۔

سیوٹا میں مقامی شہریوں کی جانب سے تقریباً روزانہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ مہاجرین کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جائے یا انہیں اسپین کے دیگر علاقوں میں منتقل کیا جائے۔

بدھ کو ہونے والے مظاہروں میں قدامت پسند جماعت پاپولر پارٹی (پی پی) اور دائیں بازو کی جماعت ووکس کے حامی بھی شریک ہوئے۔ میڈرڈ میں ہونے والے احتجاج میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 50 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔

پی پی کے رہنما البرٹو نونیز فائیخو نے حکومت پر سیوٹا کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم سانچیز سے استعفے کا مطالبہ کیا، جبکہ ووکس کے سربراہ سانتیاگو اباسکل نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سیوٹا میں ہونے والے مظاہرے میں شرکا نے ’’سیوٹا برائے فروخت نہیں، سیوٹا کا دفاع کرنا ہوگا‘‘ کے نعرے لگائے۔

دوسری جانب اسپین کے قومی پولیس ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرحد پر مراکشی پولیس کی تعیناتی معمول کے مقابلے میں واضح طور پر کم تھی اور بعض مہاجرین نے مراکشی سیکیورٹی اہلکاروں کے ’’غیر فعال رویے‘‘ کا ذکر کیا۔

سیوٹا اور اسپین کے زیر انتظام ایک اور علاقے میلیلا پر مراکش طویل عرصے سے اپنا دعویٰ کرتا آیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان یہ علاقے سفارتی کشیدگی کا اہم سبب رہے ہیں۔

اس دوران سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس بھی سامنے آئیں جن میں مراکش سے سیوٹا کی سرحد عبور کرنا آسان اور محفوظ قرار دیا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق سرحدی علاقے میں سمندر کے راستے داخل ہونے کی کوشش کے دوران کم از کم 100 افراد ہلاک بھی ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے