کراچی میں منشیات کے خلاف بڑی کارروائی، 900 ملین روپے مالیت کی 50 کلو آئس برآمد، 8 ملزمان گرفتار
کراچی: کراچی میں منشیات کے خلاف پولیس ٹاسک فورس نے وفاقی سول انٹیلی جنس ادارے کے تعاون سے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے کورنگی کے علاقے مہران ٹاؤن میں ایک گودام پر چھاپہ مار کر مبینہ بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک کے 8 ارکان کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 50 کلو گرام کرسٹل میتھ، جسے عام طور پر آئس کہا جاتا ہے، برآمد ہوئی، جس کی مالیت تقریباً 90 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ویسٹ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عرفان علی بلوچ نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر پاکستان سے تھائی لینڈ اور ملائیشیا سمیت دیگر ممالک کو بڑی مقدار میں منشیات اسمگل کرنے والے بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق کارروائی سے قبل 200 سے 250 کلوگرام آئس کی ایک کھیپ برآمد کے لیے تیار کی گئی تھی، جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مجموعی مالیت 25 سے 30 ملین ڈالر، یعنی تقریباً 6 سے 8 ارب روپے تک بتائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے مزید منشیات کی کھیپ کراچی پہنچنے کی بھی اطلاعات تھیں۔
عرفان علی بلوچ نے بتایا کہ خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ منشیات کو ٹائلز اور ماربل کے کریٹس میں چھپا کر ایک مبینہ قانونی تجارتی کھیپ کی آڑ میں فلپائن بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
پولیس کے مطابق نیٹ ورک کے بین الاقوامی روابط تھائی لینڈ، ملائیشیا اور جنوبی افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے، جبکہ کراچی میں اس کے مقامی رابطے موجود تھے۔ آئس مبینہ طور پر بلوچستان کے علاقے چمن سے حاصل کی جاتی تھی، جبکہ مالی لین دین کے لیے لاہور سے حوالہ نظام استعمال کیا جاتا تھا۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں نذیر سومرو مبینہ طور پر نیٹ ورک کا مرکزی ملزم ہے، جو منشیات کی خریداری، اسے چھپانے اور بیرون ملک بھجوانے کے معاملات کی نگرانی کرتا تھا۔ شاہد مستوئی نے مہران ٹاؤن میں گودام کا انتظام کیا، جبکہ شیخ خالد نے منشیات ذخیرہ کرنے اور مقامی مالی لین دین میں سہولت فراہم کی۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر نور احمد خلجی اور گران خان، دونوں افغان نژاد اور پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے افراد ہیں، جو بلوچستان سے منشیات کی فراہمی کا انتظام کرتے تھے۔ عبداللہ عرف وہاب اور پولیس کانسٹیبل محمد کامران مبینہ طور پر بطور کوریئر کام کرتے تھے، جبکہ ناصر مبینہ طور پر درمیانی رابطہ کار اور ڈسٹری بیوٹر کا کردار ادا کرتا تھا۔
کارروائی کے دوران پولیس نے 50 کلو آئس کے علاوہ ایک گاڑی، 2 پستول اور 3 لاکھ 50 ہزار روپے نقدی بھی برآمد کی۔
ڈی آئی جی کے مطابق منشیات مقامی طور پر تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار روپے فی کلو کے حساب سے حاصل کی جاتی تھی، جبکہ بیرون ملک برآمد کے لیے اس کی قیمت 6 ہزار ڈالر فی کلو طے کی گئی تھی۔ تاہم منزل کی مارکیٹ میں اس کی قیمت 1 لاکھ سے 1 لاکھ 20 ہزار ڈالر فی کلو تک پہنچنے کا اندازہ تھا۔
عرفان علی بلوچ کے مطابق ابتدائی تفتیش سے ایک منظم نیٹ ورک کے شواہد ملے ہیں جس میں منشیات کی خریداری، مالی معاونت، ذخیرہ اندوزی، ترسیل اور بیرون ملک اسمگلنگ کے لیے مختلف افراد کردار ادا کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی سامان کے اندر منشیات چھپانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان قانونی تجارتی راستوں کو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ڈی آئی جی کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، جس کا مقصد نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور مالی معاونین کا سراغ لگانا، مکمل مالیاتی ریکارڈ حاصل کرنا اور مبینہ کرپٹو کرنسی ادائیگیوں سمیت مقامی اکاؤنٹس کی تفصیلات معلوم کرنا ہے۔
پولیس غیرملکی اداروں اور کسٹمز حکام کے تعاون سے ملائیشیا، تھائی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں موجود مبینہ غیرملکی سہولت کاروں کے کردار اور نیٹ ورک کے بین الاقوامی روابط کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔