World

جکارتہ میں احتجاج کے بعد ہنگامہ آرائی، 322 افراد گرفتار

جکارتہ: انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں احتجاجی مظاہرے کے بعد ہنگامہ آرائی کے الزام میں پولیس نے 322 افراد کو حراست میں لے لیا، جن میں 160 افراد کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔

رائٹرز کے مطابق جمعرات کی شام احتجاجی مظاہرہ ختم ہونے کے باوجود سیاہ شرٹس پہنے کچھ افراد سڑکوں پر موجود رہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق مشتعل افراد نے ایک پولیس چوکی اور دو موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی، سڑکیں بند کیں اور پولیس پر پتھر اور ڈنڈے برسائے۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ رائٹرز کے ایک نمائندے نے علاقے میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنیں۔

جکارتہ پولیس کے ترجمان بڈی ہیرمانتو نے بتایا کہ مظاہرین کی اکثریت کے منتشر ہونے کے بعد ایک گروپ نے امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی اور بعض افراد مبینہ طور پر دیسی ساختہ ہتھیار لیے ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق ایک شخص احتجاجی مقام سے بے ہوشی کی حالت میں نکالا گیا، تاہم اسپتال پہنچنے کے بعد اس کی موت ہوگئی۔ حکام نے ہلاکت کی وجوہات سے متعلق حقائق جمع کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔

پولیس نے 45 افراد کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور تشدد میں ملوث ہونے کے الزام میں مشتبہ ملزم قرار دیا ہے۔

ہنگامہ آرائی کے باعث جمعہ کو جکارتہ کی مسافر ریل سروس کے بعض راستے معطل یا تبدیل کیے گئے، جبکہ پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب سڑکیں بند ہونے سے بس سروس بھی متاثر ہوئی۔ بعد ازاں متاثرہ بس روٹس معمول پر آگئے۔

یہ احتجاج صدر پرابوو سوبیانتو کے لیے ایسے وقت میں ہوا ہے جب ان کی حکومت کو عوام، کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

رائٹرز کے مطابق 2024 میں بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہونے والے سابق جنرل پرابوو اپنے مقبولِ عام اور بڑے معاشی پروگراموں کے ممکنہ معاشی اثرات کے باعث دباؤ میں ہیں۔

تحقیقی نیوز ادارے Tempo کے ایک حالیہ سروے میں پرابوو کی مقبولیت کی شرح رواں ماہ کم ہوکر 38 فیصد رہ گئی۔

سوشل میڈیا پر جمعہ کی صبح سامنے آنے والی بعض ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو آنسو گیس استعمال کرتے اور ڈھالوں کے پیچھے پناہ لیتے دیکھا جاسکتا ہے، تاہم رائٹرز ان ویڈیوز کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے