World

نیپال سیلاب: کیلاش یاترا پر جانے والی دو بھارتی خواتین تاحال لاپتا

کھٹمنڈو: نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد کیلاش یاترا پر جانے والی دو بھارتی خواتین سمیت متعدد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ان کے اہل خانہ کئی گھنٹوں سے کسی خبر کے منتظر ہیں۔

کولکتہ سے تعلق رکھنے والی 43 سالہ سبرشری چکرابورتی اپنے شوہر سدپتو بھٹاچاریہ کو بدھ کی صبح آخری پیغام بھیجنے کے بعد لاپتا ہوگئیں۔ انہوں نے صبح 7 بج کر 57 منٹ پر پاسپورٹ پر نیپال امیگریشن کی روانگی کی مہر کی تصویر بھیجی، جبکہ 6 منٹ بعد پیغام میں بتایا کہ وہ چین میں داخل ہونے کے منتظر ہیں۔

اس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔

سبرشری تقریباً 30 افراد پر مشتمل یاتری گروپ کے ساتھ مقدس پہاڑ کیلاش کی زیارت کے لیے سفر کررہی تھیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ایک میڈیکل ٹیکنالوجسٹ اور اسپتال کے شعبہ انتہائی نگہداشت سے وابستہ تھیں۔

ان کے شوہر کے مطابق سبرشری کئی سال سے کیلاش یاترا کا خواب دیکھ رہی تھیں اور اس سفر کے لیے بہت پرجوش تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آخری پیغام کے بعد یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔

سدپتو بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ سیلاب آنے کے وقت ان کی اہلیہ چینی امیگریشن مرکز کے اندر یا اس کے قریب موجود تھیں۔

انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ چین کی جانب سے لاپتا، جاں بحق اور ریسکیو کیے گئے افراد کی فہرست جاری کی جائے تاکہ اہل خانہ کو صورتحال کا علم ہوسکے۔

اسی یاترا گروپ کے ساتھ سفر کرنے والی 54 سالہ رینا بینرجی بھی لاپتا ہیں۔ کولکتہ سے تعلق رکھنے والی رینا نجی ٹیوشن پڑھاتی تھیں اور پہاڑی علاقوں میں سفر اور ہائیکنگ کا تجربہ رکھتی تھیں۔

ان کے بھانجے دویپایان مکھرجی کے مطابق خاندان نے رینا سے نیپال میں ویڈیو کال پر بات کی تھی اور وہ بہت خوش تھیں۔

رینا نے بھی گروپ کے دیگر افراد کے ہمراہ نیپال امیگریشن کی کارروائی مکمل کی تھی۔ اس کے بعد خاندان کا ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

ان کے اہل خانہ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ سیلاب کے وقت رینا نیپال کی حدود میں تھیں یا چین میں داخل ہوچکی تھیں۔

دونوں خواتین کے نام نیپال حکومت کی لاپتا غیر ملکی شہریوں کی سرکاری فہرست میں شامل ہیں، تاہم فہرست میں نام ہونے کے باوجود ان کے اہل خانہ کو ان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں مل سکیں۔

نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں آنے والے فلیش فلڈز کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور سیکڑوں افراد لاپتا ہیں۔ کیلاش یاترا پر جانے والے متعدد بھارتی شہری بھی ان لاپتا افراد میں شامل ہیں۔

سبرشری اور رینا کے اہل خانہ اب صرف اس سوال کے جواب کے منتظر ہیں کہ کیا دونوں خواتین چین کی سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں اور آیا وہ محفوظ ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے