واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی مہم کے تحت مصر کے دوسرے بڑے بینک، بینک مصر، کی متحدہ عرب امارات میں شاخوں کو امریکی مالیاتی نظام سے منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں بینک مصر کی یو اے ای میں قائم شاخیں امریکی مالیاتی اداروں کے ساتھ بینکاری روابط برقرار نہیں رکھ سکیں گی۔ تاہم یہ اقدام ایک ماہ کی عوامی رائے لینے کی مدت مکمل ہونے کے بعد نافذ ہوگا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن نے واضح کردیا ہے کہ ایران کی مدد کرنے والے عناصر امریکی ڈالر اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی جاری نہیں رکھ سکتے۔ ان کے مطابق بینک مصر کی یو اے ای شاخ نے ایرانی حکومت کی حمایت جاری رکھ کر نتائج کا سامنا کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے دبئی میں ایرانی بینک ملی کی شاخ کے مینیجر پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ میں قائم ایک فرنٹ کمپنی کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا گیا ہے، جس پر ایران کی ایک پابندی زدہ ایکسچینج کمپنی کے لیے رقوم کی غیرقانونی منتقلی میں مدد دینے کا الزام ہے۔
ایران پر امریکی معاشی دباؤ میں شدت ایسے وقت میں آئی ہے جب خطے میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور یہاں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف امریکی مہم کو ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ قرار دیتے ہوئے ان ممالک کو بھی سخت نتائج سے خبردار کیا ہے جو تہران کے ساتھ روابط جاری رکھیں گے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے لیے چین ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ جنگ سے قبل ایران کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ چین خریدتا تھا۔ چین کے مالیاتی اداروں یا ایرانی تیل سے متعلق کمپنیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی امریکا اور چین کے تعلقات کو مزید متاثر کرسکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب چینی صدر شی جن پنگ کے ستمبر میں واشنگٹن کے دورے کی توقع کی جا رہی ہے۔