World

ناروے کے نئے بادشاہ ہاکون ہشتم نے تخت سنبھال لیا

اوسلو: ناروے کے نئے بادشاہ نے ہاکون ہشتم کا نام اختیار کرلیا، شاہی محل نے جمعہ کو انسٹاگرام پر اس کی تصدیق کردی۔

ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم جمعہ کو 89 برس کی عمر میں 10 روز سے زائد عرصے تک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کرگئے، جس کے فوری بعد ان کے صاحبزادے ولی عہد ہاکون نے تخت سنبھال لیا۔

نئے بادشاہ ہاکون ہشتم نے اپنا ذاتی شعار ’’سب کچھ ناروے کے لیے‘‘ مقرر کیا ہے، جو ان کے والد، دادا اور پردادا کے منتخب کردہ شاہی شعار سے مطابقت رکھتا ہے۔ ناروے میں 1905 میں جدید بادشاہت کے قیام کے بعد پہلے بادشاہ نے ہاکون ہفتم کا نام اختیار کیا تھا۔

قرون وسطیٰ کے دور میں ناروے میں ہاکون نام کے 6 بادشاہ گزرے ہیں۔

دوسری جانب نئے بادشاہ کو شاہی خاندان کو درپیش متعدد چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ہاکون کی اہلیہ اور نئی ملکہ میتے مارِت کو بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے دوستی کے باعث شدید تنقید کا سامنا ہے، جس پر انہوں نے معذرت بھی کی ہے۔

میتے مارِت کے بیٹے ماریئس ہویبی کو جون میں ریپ کے 4 میں سے 2 الزامات اور گھریلو تشدد کے ایک الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے 4 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ماریئس اور استغاثہ دونوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔

شاہی محل کے مطابق ماریئس کی سزا کے فیصلے کے 2 روز بعد میتے مارِت کا پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ بھی ہوا تھا۔ کئی ہفتے اسپتال میں صحت یابی کے بعد وہ اگست میں گھر واپس آئیں اور ہاکون کے ساتھ شادی کی 25ویں سالگرہ منائی۔

رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق ناروے میں بادشاہت کی حمایت فروری 2026 میں کم ہوکر 60 فیصد رہ گئی تھی، تاہم مئی میں یہ معمولی اضافے کے ساتھ 64 فیصد ہوگئی۔

مرحوم بادشاہ ہیرالڈ پنجم ناروے کے عوام میں مسلسل مقبول رہے۔ فروری کے سروے میں انہیں شاہی خاندان کی سب سے بہتر نمائندگی کرنے والی شخصیت قرار دیا گیا اور 10 میں سے 9.2 کی ریٹنگ دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے