health & Food

پمز آتشزدگی: مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو رعایت نہیں ملے گی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پمز آتشزدگی کے واقعے میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، جبکہ وزیرِ صحت اور سیکریٹری صحت کو اسپتال کی بہتری کے لیے اپنی نگرانی میں اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم نے کرغستان سے وطن واپسی کے بعد وزارتِ صحت کے امور اور پمز آتشزدگی کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، سیکریٹری صحت کیپٹن (ر) محمد محمود اور پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان شریک ہوئے۔

اجلاس میں وزیراعظم کو شعبہ صحت سے متعلق امور اور پمز آتشزدگی کی جاری تحقیقات پر بریفنگ دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق عبوری تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے وزیرِ صحت اور سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ دونوں متبادل دنوں میں پمز اسپتال میں اپنی ذاتی موجودگی یقینی بنائیں اور اپنی نگرانی میں اسپتال کی بہتری کے اقدامات پر عملدرآمد کرائیں۔

وزیراعظم نے پمز میں علاج معالجے کی سہولیات بہتر بنانے اور تمام حفاظتی اقدامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے شعبہ صحت میں اصلاحات کا عمل تیز کرنے پر بھی زور دیا۔

واضح رہے کہ 26 اگست 2026 کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ ایک بچہ زندہ بچ گیا تھا۔

واقعے کے بعد آگ لگنے کی وجوہات اور اسپتال کے حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے۔ ابتدائی طور پر ایئرکنڈیشننگ یونٹ میں دھماکے کو آگ کی وجہ بتایا گیا، جبکہ پمز کی ابتدائی رپورٹ میں نیبولائزر سے متعلق دھماکے اور نرسری میں زیادہ آکسیجن کے باعث آگ تیزی سے پھیلنے کا ذکر کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے