وزیراعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کے خواب اور رانا مشہود کی کارکردگی کا سوال
میری بات / روہیل اکبر

پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، مگر بدقسمتی سے یہی نوجوان آج روزگار، مہنگائی، تعلیمی اخراجات، کاروباری سرمائے اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال کے ہاتھوں پریشان ہیں ایسے حالات میں وزیراعظم یوتھ پروگرام سے بہت بڑی امیدیں وابستہ کی گئیں حکومت نے نوجوانوں کے لیے قرضوں، لیپ ٹاپ، وظائف، ہنر، کھیل، آئی ٹی، انٹرن شپ اور کاروبار کے بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ان تمام دعووں کے باوجود عام نوجوان کی زندگی میں کتنی تبدیلی آئی؟وزیراعظم یوتھ پروگرام کے موجودہ چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے 30 مارچ 2024 کو ذمہ داریاں سنبھالیں سرکاری طور پر ان کی تقرری کے وقت ان کے تجربے اور نوجوانوں کے لیے وژن کو نمایاں کیا گیا تھااور اب دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد اب اس پروگرام کا غیر جانب دارانہ احتساب ضروری ہے کیونکہ کسی بھی ادارے کی کامیابی تقریروں، اجلاسوں، سیمینارز، دوروں اور پریس ریلیز سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ عام آدمی کو کیا ملا؟
رانا مشہود نے اپریل 2024 میں نوجوانوں کے لیے قرضوں میں توسیع، آئی ٹی شعبے کو آگے بڑھانے، ہنرمندی کے فروغ، ای روزگار، کھیلوں اور دیگر اقدامات کے بڑے اہداف بیان کیے تھے۔ لیکن آج بھی لاکھوں نوجوانوں کا بنیادی سوال وہی ہے ہمیں روزگار کب ملے گا؟یہاں رانا مشہود کی انتظامی کارکردگی پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ اگر ایک پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع دینا ہے تو اس کی کارکردگی کا سب سے اہم پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ کتنے نوجوان مستقل طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے۔ کتنے کاروبار کامیاب ہوئے؟ کتنے نوجوانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا؟ کتنے نوجوانوں کو تربیت کے بعد ملازمت ملی؟ کتنے قرض لینے والوں نے اپنا کاروبار کامیابی سے جاری رکھا؟
بدقسمتی سے حکومتی رپورٹنگ میں اکثر کتنے لوگوں نے درخواست دی،کتنے افراد نے ایپ ڈاؤن لوڈ کی ، کتنے نوجوانوں کو تربیت دی گئی جیسے اعداد سامنے آتے ہیں مگر اصل سوال یعنی کتنے نوجوان معاشی طور پر خودمختار ہوئے؟ اس کا جواب عوامی سطح پر اتنی وضاحت سے سامنے نہیں آتا۔2025 میں رانا مشہود نے ڈیجیٹل یوتھ ہب کا ذکر کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس ایپ کو دس لاکھ سے زیادہ نوجوان ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں یہ بلاشبہ ایک قابل ذکر عدد ہے لیکن ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا اور روزگار حاصل کرنا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ نوجوان کے موبائل میں ایپ موجود ہونا کامیابی نہیں اس ایپ کے ذریعے اسے تعلیم، ہنر، قرض یا روزگار کا حقیقی موقع ملنا کامیابی ہے اسی طرح قرضوں کے بارے میں بھی بڑے دعوے کیے گئے۔
اکتوبر 2024 میں سرکاری طور پر بتایا گیا کہ وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کے تحت تقریباً 186 ارب روپے نوجوان کاروباری افراد میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ یہ رقم بظاہر بہت بڑی ہے، مگر اصل سوال رقم کی تقسیم نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی سرگرمی ہے اگر کسی نوجوان نے قرض لیا، کاروبار شروع کیا، لیکن بجلی، مہنگائی، ٹیکس، مارکیٹ، خام مال اور انتظامی مشکلات کے باعث کاروبار بند ہوگیا تو سرکاری فائل میں شاید ایک ’’کامیاب قرض‘‘ موجود رہے مگر نوجوان کے لیے یہ کامیابی نہیں بلکہ ایک نیا مالی بوجھ ہے یہیں سے رانا مشہود کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے چیئرمین کا کام صرف قرض تقسیم کرانا نہیں بلکہ نوجوان کو قرض لینے سے پہلے کاروباری تربیت، مارکیٹ کی معلومات اور بعد ازاں مسلسل رہنمائی فراہم کرنا بھی ہے اگر نوجوان کو رقم دے کر اسے مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو پروگرام کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے اسی طرح ہنرمندی کے منصوبوں میں بھی بنیادی سوال موجود ہے۔
آج دنیا مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، سافٹ ویئر، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، روبوٹکس، سولر ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ کی طرف جا رہی ہے اگر ہمارے تربیتی پروگرام صرف سرٹیفکیٹ دینے تک محدود رہیں تو نوجوان عالمی مارکیٹ میں کیسے مقابلہ کرے گا؟اپریل 2025 میں رانا مشہود نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چار ستون تعلیم، مصروفیت، روزگار اور ماحول قرار دیے اور ایک ایسے تعلیمی ماڈل کا ذکر کیا جس میں ڈرائیونگ، کارپینٹری، الیکٹریشن، نرسنگ، اکاؤنٹنگ، انجینئرنگ، آئی ٹی اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں کیریئر کے راستے فراہم کرنے کی بات کی گئی یہ منصوبے کاغذ پر یقیناً شاندار ہیں مگر عوام اب منصوبوں کے اعلانات سے متاثر نہیں ہوتے انہیں نتائج چاہئیں پاکستان کے نوجوان کو یہ جاننا ہے کہ اس کے لیے بنائے گئے منصوبے کی آخری منزل کیا ہے؟یہاں ایک اور مسئلہ سیاسی تشہیر کا ہے نوجوانوں کے پروگرام کو اگر سیاسی حکومت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ قومی پروگرام کے بجائے حکومتی تشہیری منصوبہ بننے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔
رانا مشہود حالیہ دنوں میں بھی نوجوانوں کے لیے تعلیم، تکنیکی تربیت، کاروبار، اسٹارٹ اپس اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی حکومتی کوششوں کا ذکر کر رہے ہیں مگر اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان دعووں کے ساتھ قابلِ تصدیق نتائج بھی سامنے رکھے جائیں تنقید کا مقصد کسی شخصیت کی تضحیک نہیں بلکہ قومی وسائل کے استعمال کا احتساب ہے۔ رانا مشہود احمد خان کو بھی چاہیے کہ تنقید کو ذاتی حملہ سمجھنے کے بجائے اسے اصلاح کا ذریعہ بنائیں اگر پروگرام واقعی کامیاب ہے تو اعداد و شمار خود اس کا دفاع کر دیں گے۔پاکستان کو نوجوانوں کے نام پر مزید تقریبات، بینرز اور پریس ریلیزز نہیں چاہئیں۔ پاکستان کو ایسا نظام چاہیے جس میں ایک غریب گھرانے کا نوجوان بغیر سفارش کے قرض حاصل کرے، ہنر سیکھے، کاروبار شروع کرے، مارکیٹ تک پہنچے اور اپنے خاندان کا سہارا بن سکے۔وزیراعظم یوتھ پروگرام کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب کسی نوجوان کو بیرون ملک جانے کے لیے مجبوری محسوس نہ ہو، جب ڈگری لینے کے بعد وہ برسوں بے روزگار نہ رہے، جب کاروبار شروع کرنے کے لیے اسے سفارش نہ ڈھونڈنی پڑے اور جب سرکاری اسکیم کا فائدہ صرف باخبر اور طاقتور نوجوان تک محدود نہ رہے۔
رانا مشہود کے پاس اب ایک سنہری موقع ہے وہ چاہیں تو وزیراعظم یوتھ پروگرام کو محض ایک حکومتی اسکیم کے بجائے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک حقیقی قومی تحریک بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں تشہیر سے زیادہ شفافیت، دعووں سے زیادہ نتائج، تقریروں سے زیادہ عملی نگرانی اور اعلانات سے زیادہ روزگار پر توجہ دینا ہوگی۔نوجوان پاکستان کا مستقبل نہیں بلکہ پاکستان کا حال ہیں اگر ان کے ہاتھ میں ہنر، روزگار اور کاروبار کا موقع دے دیا جائے تو یہی نوجوان ملک کو معاشی بحران سے نکال سکتے ہیں لیکن اگر انہیں صرف وعدے، تقریریں اور ایپس ملتی رہیں اور روزگار نہ ملے تو پھر سوال وزیراعظم یوتھ پروگرام کی کامیابی کا نہیں بلکہ اس کی افادیت کا ہوگا اب وقت آ گیا ہے کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کا کھلا، آزاد اور سالانہ کارکردگی آڈٹ کیا جائے۔ رانا مشہود احمد خان سمیت پروگرام کے تمام ذمہ داران کو پارلیمنٹ، میڈیا اور عوام کے سامنے نتائج پیش کرنے چاہئیں کیونکہ نوجوان اب یہ نہیں پوچھ رہا کہ آپ نے کیا اعلان کیا؟وہ پوچھ رہا ہے مجھے ملا کیا؟‘‘