World

نیپال چین سرحد پر تباہ کن سیلاب، گلیشیئر ٹوٹنے سے لاکھوں افراد کو خطرات بڑھ گئے

نیپال اور چین کی سرحد پر رواں ہفتے آنے والے تباہ کن سیلاب نے ہمالیہ میں برف پوش پہاڑوں کے دامن میں آباد آبادیوں کو درپیش بڑھتے خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔

ابتدائی سائنسی شواہد کے مطابق شمالی نیپال میں ایک بڑے گلیشیئر کا حصہ ٹوٹنے اور لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں پانی، برف، چٹانوں اور ملبے پر مشتمل انتہائی طاقتور سیلابی لہر نے تباہی مچائی۔

بدھ کی صبح نیپال اور چین کی سرحد کے قریب شدید لرزش محسوس ہوئی جسے ابتدائی طور پر زلزلہ سمجھا گیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے خودکار نظام نے بھی اسے زلزلے کے طور پر ریکارڈ کیا، تاہم بعد میں واضح کیا گیا کہ یہ لرزش گلیشیئر کے اچانک ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کے باعث پیدا ہوئی، جس کی شدت تقریباً 5.2 درجے کے زلزلے کے برابر تھی۔

سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق شمالی نیپال میں لانگ ٹانگ لیرونگ پہاڑ کے بلند حصے سے گلیشیئر کا تقریباً 2 ہزار فٹ چوڑا حصہ تقریباً 7 ہزار فٹ کی بلندی سے دریا کی جانب آ گرا۔ اسی دوران بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈ بھی ہوئی۔

گلیشیئر کے ٹوٹنے اور لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں برف، پانی، مٹی، چٹانوں اور بڑے پتھروں پر مشتمل طاقتور سیلابی ریلہ تشکیل پایا، جو لینڈے کھولا دریا میں جاگرا اور بعد ازاں بھوٹے کوشی دریا سے مل گیا۔

یونیورسٹی آف کیلگری کے ماہر ارضیات ڈین شگر کے مطابق گلیشیئر کے گرنے کی طاقت سے برف پگھلی اور راستے میں موجود مٹی، چٹانیں اور دیگر ملبہ بھی پانی کے ساتھ بہہ گیا، جس سے سیلاب کی تباہ کاری میں کئی گنا اضافہ ہوا۔

سیلابی لہر نے تنگ پہاڑی گھاٹیوں سے انتہائی تیزی سے سفر کیا۔ پلینٹری سائنس انسٹی ٹیوٹ کے سینئر سائنس دان جیفری کارگل کے اندازے کے مطابق اس نے ابتدائی تقریباً 14 میل کا فاصلہ اوسطاً 120 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے طے کیا۔

ماہرین کے مطابق ایسی رفتار کے باعث متاثرہ آبادیوں کو خبردار کرنے اور محفوظ مقامات تک منتقل ہونے کے لیے انتہائی کم وقت دستیاب ہوتا ہے۔

سیلاب نے راستے میں آنے والے گھروں، عمارتوں، سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اطلاعات کے مطابق نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ چین میں بھی 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق نیپال میں تقریباً 3 ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں، جبکہ مزید بارش کی پیش گوئی کے باعث امدادی کارروائیوں اور متاثرہ علاقوں میں موجود افراد کو خطرات برقرار ہیں۔

ماہرین کے مطابق بلند پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب صرف شدید بارش کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ گلیشیئر کا ٹوٹنا، برفانی تودے، لینڈ سلائیڈ، گلیشیائی جھیل کا اچانک پھٹنا اور شدید بارش ایک دوسرے کو متحرک کرکے چند منٹوں میں تباہ کن سیلاب پیدا کرسکتے ہیں۔

نیپال کا حالیہ واقعہ بھی اسی پیچیدہ قدرتی سلسلے کی ایک مثال ہوسکتا ہے، تاہم سائنس دان ابھی یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ گلیشیئر کے ٹوٹنے کی اصل وجہ کیا تھی اور مختلف عوامل نے اس میں کس حد تک کردار ادا کیا۔

ماہرین کے مطابق تیزی سے گرم ہوتا ہمالیائی خطہ گلیشیئرز اور پہاڑی ماحول میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کررہا ہے۔ برٹش انٹارکٹک سروے کی ماہر موسمیات ایلا گلبرٹ کے مطابق گلیشیئرز کے سکڑنے سے بعض مقامات پر وہ غیر مستحکم ہوسکتے ہیں اور اچانک انہدام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ہندوکش ہمالیہ کے خطے میں گلیشیئرز سے برف کے نقصان کی رفتار 2000 کے بعد دوگنی ہوچکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی سے گلیشیئرز کے نیچے اور ان کے بہاؤ کے راستوں کے قریب رہنے والے تقریباً 20 لاکھ افراد کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

تاہم سائنس دان خبردار کرتے ہیں کہ کسی مخصوص گلیشیئر کے ٹوٹنے یا کسی ایک سیلاب کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینے کے لیے مزید سائنسی تحقیق ضروری ہے۔

گلیشیئرز اور مستقل منجمد زمین یعنی پرمافراسٹ پہاڑی چٹانوں اور مٹی کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ درجہ حرارت بڑھنے سے جب گلیشیئرز سکڑتے اور پرمافراسٹ پگھلتا ہے تو بعض پہاڑی ڈھلوانیں غیر مستحکم ہوسکتی ہیں۔

نتیجتاً چٹانوں کے بڑے حصے اچانک ٹوٹ کر نیچے آ سکتے ہیں اور ان کے ساتھ برف، مٹی اور پانی شامل ہوکر انتہائی طاقتور ملبے کا ریلہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گلیشیائی جھیلیں بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ اگر کسی جھیل میں پانی کی سطح بڑھ جائے یا اس کا قدرتی بند کمزور ہوجائے تو اچانک بند ٹوٹنے سے پانی، برف، چٹانوں اور ملبے کا ریلہ آبادیوں کی جانب بہہ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے واقعات میں پیشگی وارننگ نظام انسانی جانیں بچانے کے لیے انتہائی اہم ہیں، لیکن پہاڑی علاقوں میں حادثے کے آغاز اور سیلابی لہر کے آبادی تک پہنچنے کے درمیان وقت انتہائی کم ہوسکتا ہے۔

نیپال میں ہزاروں گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید سیٹلائٹ اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی اور مستقبل کے خطرات کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق نیپال کا حالیہ سانحہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ گرم ہوتی دنیا میں پہاڑی علاقوں کو درپیش پیچیدہ خطرات کی ایک اہم مثال ہے۔ پگھلتے گلیشیئرز، پرمافراسٹ، غیر مستحکم ڈھلوانیں، شدید بارشیں اور گلیشیائی جھیلیں مل کر مستقبل میں ایسے واقعات کی شدت اور پیچیدگی میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے